کرونا وائرس پاکستان اسٹاک مارکیٹ کو لے ڈوبا، انڈیکس 2440 پوائنٹس گر گیا

191

کراچی: پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں آج بھی کاروبار کا آغاز منفی زون میں ہوا اور ابتدا میں ہی مارکیٹ کریش کر گئی۔ 100 انڈیکس 2440 پوائنٹس کمی کے بعد 33ہزار 620 پوائنٹس تک گرگیا۔

پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں کاروباری ہفتے کا آغاز شدید ترین مندی سے ہوا اور ابتدائی ایک گھنٹے کے دوران کے ایس ای 100 انڈیکس میں 968 پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی اور انڈیکس 35 ہزار 92 پوائنٹس پر ٹریڈ کرتا نظر آیا۔

ڈیڑھ گھنٹے بعد انڈیکس 1651 پوائنٹس تک گر گیا اور 34 ہزار 409 پوائنٹس پر ٹریڈ کرنے لگا۔ جس کی وجہ سے سرمایہ کاروں میں شدید مایوسی پھیل گئی۔

ٹریڈنگ کے بحالی کے بعد بھی اسٹاک مارکیٹ میں مندی برقرار ہے، اسٹاک مارکیٹ میں 1938 پوائنٹس کی مندی ریکارڈ کی گئی ہے، جس کے بعد انڈیکس 34 ہزار 124 پوائنٹس پر آگیا۔

کاروبار کے دوران 100انڈیکس 2211 پوائنٹس کی کمی دیکھی گئی اور انڈیکس میں 34 ہزار پوائنٹس کا لیول ٹوٹ گیا اور 33ہزار848 پوائنٹس کی سطح پر آگیا، 100 انڈیکس میں 6.13 فیصدکی کمی ہوئی۔

واضح رہے کہ یہ مسلسل دوسرے ہفتے میں چوتھی مرتبہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مندی کے باعث کاروبار کو 45 منٹ کے لیے روکا گیا۔

ایشیائی سٹاک مارکیٹ میں بھی مندی

دوسری جانب ایشیائی حصص بازاروں میں شدید مندی کارجحان برقرار ہے، جاپانی اسٹاک مارکیٹ میں540پوائنٹس، ہانگ کانگ انڈیکس میں1235پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی جبکہ تمام چینی اسٹاک مارکیٹ میں مندی ریکارڈ کی جارہی ہے۔

یاد رہے گزشتہ ہفتے اسٹاک مارکیٹ میں 3 دن ٹریڈنگ ہالٹ لگایا گیا تھا، پیر، جمعرات، جمعہ کے روز مندی کے باعث کاروبار کو 45 منٹ کے لیے روکا گیا تھا، گزشتہ ہفتے کے اختتامی روز جمعہ کو کاروبار کا اختتام 104 پوائنٹس کمی کے ساتھ 36 ہزار 60 پوائنٹس پر ہوا تھا۔

خیال رہے گزشتہ دو ماہ میں انڈیکس میں 20 فیصدتک کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

ایس ای سی پی کا سٹاک بروکر کمپنیوں کو انتباہ

دوسری جانب سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے سٹاک بروکرز کو متنبہ کیا ہے کہ وہ غیر قانونی فنانسنگ سے گریز کریں۔

ایس ای سی پی کے اپیلٹ بینج کی جانب سے حکم جاری کیا گیا ہے کہ کوئی بھی بروکر کمپنی صرف ٹریڈنگ کے ذریعے اپنے کلائنٹس کو سرمایہ فراہم کر سکتی ہے بصورت دیگر یہ قانون کی خلاف ورزی تصو کی جائے گی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here