وفاق اور صوبوں میں مختلف ٹیکسوں کی وصولی کے لیے ایک باڈی بنانے پر اتفاق

141

اسلام آباد: پاکستان کو جیسا کہ فی الحال کاروباری سرگرمیوں کے لیے ٹیکسوں میں آسانی پیدا کرنی ہے، ایک بڑی رکاوٹ جو عالمی بنک کے کاروبار کرنے میں آسانی کے انڈیکس میں ملکی پوزیشن پر اثرانداز ہوتی رہی ہے، وہ یہ ہے کہ وفاقی حکومت اور چاروں صوبے حال ہی میں قومی ٹیکس باڈی قائم کرنے پر اتفاق کر کے اس طویل المدتی مسئلے کو مشترکہ طور پر حل کرنے پر رضامند ہو گئے ہیں۔

وزارت خزانہ میں حال ہی میں ہونے والے اجلاس میں فیڈریشن کے پانچوں یونٹ ٹیکسیشن کے ایشوز کو حل کرنے پر متفق دکھائی دیے جیسا کہ بے ربط سیلز ٹیکس اس وقت بڑے پیمانے پر ٹیکس میں فرق، غیرمعمولی کاروباری اخراجات اور مختلف نوعیت کی ٹیکسیشن کا باعث بن رہا ہے۔

باوثوق ذرائع سے یہ معلوم ہوا ہے کہ اس اجلاس میں چاروں صوبوں کے وزرائے خزانہ اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی، جس میں یہ آگاہ کیا گیا کہ ٹیکسوں کے موجودہ نظام کے باعث پاکستان میں سیلز ٹیکس جمع کرنے کے پانچ مختلف نظام قائم ہو گئے ہیں جن میں مرکز اور چاروں صوبے شامل ہیں جس کے باعث کاروباری سرگرمیوں کے تناظر میں مشکلات پیدا ہو رہی ہیں۔

مزید پڑھیں: ڈبل ٹیکسیشن کے خاتمے کیلئے وفاقی و صوبائی حکومت کے تمام ٹیکسوں کو یکجا کیا جا رہا ہے، اسلم اقبال

ملک میں رائج ٹیکس کا موجودہ نظام نہایت بے ربط ہے جیسا کہ ہر صوبے کو اپنی حدود میں سروسز پر ٹیکس حاصل کرنے کا اختیار ہے اور انہیں ان سروسز کا تعین کرنے کا اختیار بھی حاصل ہے جس کے باعث کاروبار کی لاگت میں اضافہ ہو جاتا ہے اور بین الصوبائی فروخت کی حوصہ شکنی ہوتی ہے۔

حکام کے مطابق، ٹیکس میں فرق 87 فی صد (اگر اسی آمدن کے حامل بہترین کارکردگی دکھانے والوں کا موازنہ کیا جائے) ہے، کاروباری افراد کو سال میں 60 سیلز ٹیکس ریٹرنز جمع کروانے کی ضرورت ہوتی ہے۔

حکام نے مزید کہا ہے، موجودہ ٹیکسیشن نظام کے باعث تاجر ٹیکسیشن کے مختلف اصولوں کا سامنا کر رہے ہیں جس کا انحصار مصنوعات اور خدمات کی مختلف اقسام پر ہے اور مختلف خطوں میں سروسز پر ٹیکسوں کی شرح مختلف ہے۔

مزید پڑھیں: پنجاب حکومت نے پراپرٹی ٹیکس پورٹل متعارف کرا دیا

برسرِاقتدار حکومت نے قبل ازیں ٹیکسیشن سسٹم کو سادہ کرنے اور ٹیکسوں کی تعداد کو کم کرنے کا دعویٰ کیا تھا جس کے لیے ودہولڈنگ ٹیکس، سیلز ٹیکس، ایکسائز ڈیوٹی اور ای او بی آئی ایک ٹیکس میں یکجا کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا اور ایسا کرنا ایگزیکٹو یا انتظامی احکامات کے ذریعے ممکن نہیں ہو سکتا اور اس کے لیے قانون سازی کی ضرورت ہے۔

تاہم، حکومت کوئی  قانون سازی کرنے کی بجائے ایک قومی ٹیکس باڈی کے توسط سے مختلف ٹیکسوں کے حصول کے تناظر میں اپنی سی کوشش کر رہی ہے۔

حکام کے مطابق، پی ٹی آئی کی برسرِاقتدار حکومت کو فی الحال فیڈرل بورڈ آف ریونیو میں اصلاحات کرنی ہیں۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here