کریانہ سٹورز کیلئے شروع ہونے والے سٹارٹ اپ ’’تاجر‘‘ کو ڈیڑھ لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری موصول

317

لاہور: کریانہ سٹوروں کے لیے شروع کیا گیا سٹارٹ اپ ’’تاجر‘‘ بالآخر وائی کامبی نیٹر (Y Combinator) سے سرمایہ کاری حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا ہے تاکہ مقامی مارکیٹ میں اپنی حصہ جگہ بنا سکے۔ 

نیا سٹارٹ اَپ وائی کامبی نیٹر کے جاری بیج کا حصہ ہے اور یہ آج ڈیمو ڈے کے بعد ایکسلریٹر سے گریجویٹ ہو گا۔ پاکستانی سٹارٹ اَپ کو وائی کامبی نیٹر پروگرام کے تحت 150,000 ڈالر موصول ہوئے ہیں۔

یہ سٹارٹ اَپ 2018 میں دو بھائیوں بابر خان اور اسماعیل خان نے تخلیق کیا، تاجر نے ملک کے کریانہ سٹوروں کے لیے یہ آسان بنا دیا ہے کہ مالکان اب دکان پر موجود رہتے ہوئے ہی اپنے کریانہ سٹور کے لیے انونٹری حاصل کر سکتے ہیں۔

یہ سٹارٹ اَپ فی الحال فاسٹ موونگ کنزیومر گڈز (ایف ایم سی جی) فروخت کر رہا ہے جن میں سافٹ ڈرنکز، بسکٹ، شیمپو اور اشیائے خورد و نوش، چاول اور گندم وغیرہ شامل ہیں۔

مزید پڑھیں: چالان ادا کرنے کیلئے اَب بینک جانے کی ضرورت نہیں ، ای پیمنٹ ایپ سے گھر بیٹھے ادائیگی ممکن

کریانہ سٹور عموماً ایک فرد چلاتا ہے جس کا ہول سیل مارکیٹ سے چیزوں کی خریداری پر گھنٹوں کا وقت خرچ ہوتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ جب خریداری کر رہا ہوتا ہے تو سٹور بند رہتا ہے۔

Delivery image.png

تاجر نے یہ اور کچھ دیگر مسائل اردو میں موبائل ایپ تخلیق کر کے حل کر دیے ہیں جس پر ایک ہزار سے زیادہ اشیا موجود ہیں جن کی قیمتوں کا اندراج کرتے ہوئے کوئی دو نمبری نہیں کی گئی۔ سٹارٹ اَپ اگلے روز ہی اپنی سروس تاجر ایکسپریس کے ذریعے اشیاء متعلقہ کریانہ سٹور پر فراہم کر دیتا ہے۔

سٹارٹ اَپ میں ایک تھرڈ پارٹی منڈی بھی موجود ہے جہاں فروخت کنندگان اشیا فراہم کرتے ہیں۔ سٹارٹ اَپ یہ دعویٰ کرتا ہے کہ اس وقت یہ ایپ وسطی پنجاب (بالخصوص لاہور) میں 15 ہزار لوگ استعمال کر رہے ہیں۔ یہ واحد خطہ ہے جہاں اس وقت تاجر دستیاب ہے۔

مزید پڑھیں: سٹیٹ بینک نے سسٹمز لمیٹڈ کی موبائل پیمنٹ ایپلی کیشن ’’OneLoad‘‘ کی منظوری دیدی

فروخت کنندگان کے لیے (جن میں بڑی تعداد ایف ایم سی جی کمپنیوں اور دیگر کی ہے) یہ آسان ہو گیا ہے کہ وہ اپنی اشیا سٹورز کی ایک بڑی تعداد کو فروخت کر پائیں اور اگر چاہیں تو تاجر ایکسپریس کی سہولت استعمال کر پائیں۔ سادہ الفاظ میں بات کی جائے تو وہ ایک ایسے سیکٹر کو منظم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو غیر رسمی اور منتشر ہے۔

پاکستان میں ایسے سٹورز کی تعداد لاکھوں میں ہے لیکن یہ سب ایک طرح کے مسائل سے ہی جوجھ رہے ہیں اور فروخت کنندگان کے لیے ان سٹورز کو سپلائی آسان نہیں ہوتی۔

خان برادران کی پرورش لاہور میں ہوئی ہے لیکن انہوں نے بیرونِ ملک میں تعلیم حاصل کرنے کے علاوہ ملازمت بھی کی ہے، وہ ان مسائل کے بارے میں بچپن سے آگاہ ہیں کیوں کہ ان کے والد پاکستان میں 30 برس تک ایف ایم سی جی ریٹیل کا کاروبار کرتے رہے ہیں۔

تاجر کے شریک بانی بابر خان نے ایک خبر رساں ادارے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم پاکستان میں تجارت کا انفراسٹرکچر قائم کر رہے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ تاجر کسی بھی سٹور کے ساتھ اس کی آمدن بڑھانے کے لیے تعاون کرے گا۔ اس وقت اس کا مطلب ایک بڑی تعداد میں اشیا کی فراہمی، قیمتوں کا مناسب ہونا اور اگلے روز ڈیلیوری ہے، ہم اپنی کیٹیلاگ کو مستقل بنیادوں پر بڑھا رہے ہیں اور اس میں مختلف برانڈز اور مصنوعات شامل کر رہے ہیں۔

تاجر نے محض وائی کامبی نیٹر سے ہی سرمایہ حاصل کیا ہے۔ انہوں نے اس بارے میں تصدیق تو نہیں کی لیکن یہ واضح رہے کہ پروگرام میں گریجویشن کے بعد انہیں تاجر کے فروغ اور ترقی کے لیے مزید تعاون کی ضرورت ہو گی۔

لاہور سے تعلق رکھنے والے سٹارٹ اَپ عموماً ہر ٹرانزیکشن پر کچھ رقم رکھ کر پیسہ کماتے ہیں تاہم گروسری کی ہول سیل فروخت میں معاوضہ بہت کم ہوتا ہے لیکن اس سٹارٹ اَپ کے بانیوں نے میڈیا کے ایک ادارے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وائی کامبی نیٹرمیں دیے گئے ڈیمو کے دوران وہ یہ دکھانے کے قابل رہے کہ ان کا معاشی ماڈل قابلِ عمل ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here