خام تیل کی قیمتیں گرنے سے دنیا کی سب سے بڑی تیل کمپنی آرامکو کے منافع میں 21 فیصد کمی

171

ریاض: دنیا کی سب سے بڑی تیل کی سعودی کمپنی آرامکو (Saudi Aramco) کو 2019 کے منافع میں 20.6 فیصد کمی کا سامنا کرنا پڑا ہے جس کی وجہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں اور پیداوار میں کمی ہے۔

آرامکو کی جانب سے اعلان سامنے آیا تھا کہ روس کے ساتھ تیل کے تنازع اور کورونا وائرس کی وجہ سے عالمی منڈیوں کو درپیش صورت حال کی وجہ سے کمپنی اپنے اخراجات میں کمی لائے گی۔

دسمبر میں 29 ارب 40 کروڑ ڈالر کی ابتدائی عوامی پیش کش (آئی پی او) سے سعودی عرب کے تداول (Tadawul) اسٹاک مارکیٹ میں داخل ہونے کے بعد آرامکو کی جانب سے یہ پہلا منافع کا اعلان تھا جس میں کمپنی نے اپنی کل لاگت 17 کھرب ڈالر بتائی تھی۔

یہ بھی پڑھیے: 

گوادر: 10 ارب ڈالر مالیت کی سعودی آرامکو ریفائنری کے لیے اراضی کے حصول کا عمل جاری

سعودی عرب کا تیل کی پیداواری صلاحیت ایک ملین بیرل روزانہ کرنے کا فیصلہ

امریکی خام تیل کی قیمت 31 فیصد کمی کے بعد 28 ڈالر 56 سینٹ فی بیرل پر آگئی

آرامکو کی جانب سے جاری ایک بیان کے مطابق کمپنی کو 2019 کے اختتام تک مجموعی طور پر 88.2 ارب ڈالر آمدن ہوئی جبکہ 2018 کے اختتام پر کمپنی کی مجموعی آمدن 111.1 ارب ڈالر تھی۔

کمی عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتیں گرنے، پیداوار میں کمی اور آئل ریفائننگ میں استعمال ہونے والے کیمیکلز کی دستیابی کم ہونے کے باعث  آرامکو کو آمدن میں بڑے خسارے کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

آرامکو کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) امین ناصر نے کہا ہے کہ 2019ء آرامکو کے لیے ایسا سال تھا جس کے دوران کمپنی کو کافی کچھ دیکھنا پڑا، جبکہ 2020 کے دوران کیپٹل اخراجات کیلئے منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔

2018 میں آرامکو کے مجموعی اخراجات 35.1 ارب ڈالر تھے جو 2019 میں کم ہو کر 32.8 ارب ڈالر پر آگئے۔

منافع میں کمی کے باوجود آرامکو کا کہنا ہے کہ انہوں نے 2019 میں 73 ارب 20 کروڑ روپے حصہ ادا کیا اور 2020 میں 75 ارب ڈالر ادا کرنے کا ارادہ کر رہے ہیں۔

آرامکو، جس کی 98 فیصد حصص خلیجی ریاست کے پاس ہیں، نے 2019 میں 88 ارب 20 کروڑ روپے کا منافع ظاہر کیا جو 2018 میں 111 ارب 10 کروڑ روپے تھا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here