کورونا وائرس نےعالمی معیشتوں کوہلا کر رکھ دیا،شائد پاکستان کے لیے ویسا تباہ کن ثابت نہ ہو

’عالمی تجارت مندی کا شکار رہے گی ،پاکستان کو موقع سے فائدہ اٹھانا چاہیے، تیل کی قیمت دس ڈالر فی بیرل کم ہو تو پاکستان کا درآمدی بل 1.6 ارب ڈالر کم ہوگا، مہنگائی میں بھی کمی آئے گی‘

194

کراچی : چین سے پھیلنے والے جان لیوا کورونا وائرس کی وجہ سے دنیا کو ہنگامی صورت حال کا سامنا ہے، عالمی معیشت گھٹنوں کے بل گر چکی ہے، سٹاک مارکیٹس میں ویرانیوں نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں ،پاکستانی سٹاک مارکیٹ بدترین مندی کی زیر اثر ہونے کی وجہ سے گزشتہ ہفتے میں تین بار بند کی جا چکی ہے، دنیا بھر کی کمپنیوں کو طلب و رسد کے مسائل کا سامنا ہے۔

تباہ کن وائرس کی وجہ سے مضبوط معیشتوں کو پہنچنے والے ناقابل تلافی نقصان کے باعث عالمی جی ڈی پی کی شرح پانچ فیصد سے کم ہو کر 2.4 فیصد رہنے کی توقع کی جا رہی ہے جبکہ اس سے قبل عالمی جی ڈی پی 2.9 فیصد کا اندازہ لگایا گیا تھا۔

اقوام متحدہ کے ادارہ صحت نے وائرس کو عالمی وباقرار دے دیا ہے، اگرچہ پاکستان میں صورت حال کئی ممالک کی نسبت کافی قابو میں ہے اور عالمی ادارہ صحت پاکستانی حکومت کے اقدامات پر اظہار اطمینان کرچکا ہے ،پھر بھی کورونا وائرس کے مریضوں  کی تعداد 29 ہو چکی ہےاور اس کا سب سے بڑا وار لڑکھڑاتی ہوئی پاکستانی معیشت کی جانب بڑھ رہا ہے۔

تجارت پر منفی اثرات

بی ایم اے کی تحقیق کی مطابق متاثرہ ممالک کے ساتھ تجارت کے باعث پاکستان بھی متاثر ہو گا، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی معیشت کا زیادہ تر انحصار درآمدات پر ہوتا ہے ، اس لیے دیکھنا ہو گا کہ جن ممالک سے پاکستان اشیاء درآمد کرتا ہے ان میں سےکون سا ملک کتنا متاثر ہے، اگر مذکورہ ممالک کے ساتھ تجارت بند ہوئی تو پاکستان میں طلب و رسد کا مسئلہ پیدا ہو سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:کورونا وائرس کے خطرے کے پیش نظر بین الاقوامی پروزایں تین ائیرپورٹس تک محدود کرنے کا فیصلہ

تاہم جہاں دیگر بڑی معیشتیں  وائرس کی وجہ سے شدید متاثر ہو سکتی ہیں وہیں برآمدات کا خلا پر کرکے پاکستان صورت حال سے فائدہ اٹھانے کی پوزیشن میں بھی ہے۔

آئی بی اے کراچی میں معاشیات کی پروفیسر ڈاکٹر عدیلہ ناکوڈا کہتی ہیں کہ پاکستان کو برآمدات بڑھانے کی پالیسیوں کو جاری رکھنا چاہیے، اگرچہ اس سال عالمی تجارت مندی کا شکار رہے گی تاہم پاکستان کو مواقع سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔

تیل کی قیمتوں پر اثرات

گزشتہ ہفتے عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں پچاس ڈالر فی بیرل سے تیس ڈالر فی بیرل تک گر چکی ہیں جس کی ایک وجہ کورونا وائرس اور دوسری وجہ اوپیک روس تنازع بھی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس: کورونا وائرس کے باعث تعلیمی ادارے بند، مغربی سرحد سیل، 23 مارچ کی پریڈ منسوخ

تاہم یہ پاکستان کے لیے اچھا شگون ہے ، بی ایم اے کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال پاکستان کا تیل کی مد میں درآمدی بل 16 ارب ڈالر تھا جو مجموعی درآمدی بل کا 31 فیصد بنتا ہے، تیل کی قیمت اگر دس ڈالر فی بیرل کم ہو تو پاکستان کا تیل کا درآمدی بل 1.6 ارب ڈالر کم ہوگا، اس کے نتیجے میں مہنگائی میں بھی کمی آئے گی۔

حال ہی میں امریکا نے سستا تیل بھاری مقدار میں خرید کر ذخیرہ کرنے کا عندیہ دیا ہے ، پاکستان بھی اس طرح کے اقدامات کر سکتا ہے۔

پالیسی ریٹ کم ہونے کی توقع 

عالمی معیشت کی پتلی صورت حال کی وجہ سے دنیا بھر میں مرکزی بینک اپنے پالیسی ریٹ کم کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں ، پاکستان میں شرح سود میں کسی قسم کی کمی بیشی یوں تو رواں سال مئی سے قبل متوقع نہیں تھی لیکن موجودہ صورت حال میں سٹیٹ بینک مئی سے قبل بھی شرح سود کم کر سکتا ہے، اسی حوالے سے 17مارچ کو سٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی کا اجلاس ہونا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:کورونا وائرس کا پھیلائو روکنے کے لیے کرنسی نوٹ قرنطینہ میں رکھنے، جلانے کا فیصلہ

کرنسی کی قدر میں کمی بیشی

گزشتہ ہفتے ڈالر کے مقابلہ میں پاکستانی کرنسی کی قدر میں 2.6 روپے کمی ہوئی ہے جس کے بعد سٹیٹ بینک اور حکومت کو مداخلت کرنا پڑی جس کے بعد ڈالر جمعہ کی شام 157.25 روپے پر بند ہوا۔

سٹیٹ بینک کے مطابق صرف مارچ کے دوران سرمایہ کار 772.3 ملین ڈالر کا سرمایہ نکال چکے ہیں۔

مستقبل کیا ہوگا؟

چین میں کورونا وائرس کے کیسز میں کمی آ رہی ہے جس کےبعد توقع کی جا رہی ہے کہ کاروبار مکمل طور پر جلد ہی شروع ہو جائیں گے تاہم مغربی ممالک کورونا کے کیسز میں دن بہ دن اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے اور ماہرین کے مطابق صورت حال جون تک جاری رہنے کی توقع ہے۔

بی ایم اے کی رپورٹ میں کہا گیا ہے، ’’امید ہے عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں واضح کمی کے بعد پاکستانی سٹاک مارکیٹ واپس اپنی اصل سطح پر لوٹ آئے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here