برآمدکنندگان کو ٹیکس ریٹرن فائل کرنے، کسٹمز چھوٹ کی رقم ادائیگی کے لیے آٹو میشن سسٹم لانے کا فیصلہ

205

اسلام آباد: پاکستان میں برآمدکنندگان کوٹیکس ریٹرن اور کسٹمز چھوٹ کے درپیش مسائل کو مدِنظر رکھتے ہوئے حکومت نے پانچ سالہ نئی تجارتی پالیسی میں جدید نظام متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے جس کے ذریعے برآمدکنندگان کو ٹیکس ریٹرن اور کسٹمز چھوٹ کی رقوم واپس کی جائیں گی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹیکس ریٹرن اور کسٹمز چھوٹ کی ادائیگی کے نئے نظام کے تحت سٹیٹ بینک بغیر انسانی عمل دخل کے ایک سافٹ وئیر کے ذریعے برآمدکنندگان کو خودبخود کسٹمز چھوٹ کی رقم واپس کرے گا۔

مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے ٹیکسٹائل سیکٹر کو سہولتیں دینے سے متعلق ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت برآمدکنندگان کو زیادہ سے زیادہ آسانی دینے اور شفاف طریقہ کار کا برآمداتی نظام لانے کے لیے پر عزم ہے۔

یہ بھی پڑھیے: وزیراعظم عمران خان آئندہ پانچ سالہ ٹریڈ پالیسی کی منظوری دیں گے، مشیر تجارت رزاق داؤد

مشیر خزانہ نے وزارتِ تجارت کو تمام سٹیک ہولڈرز سے بات چیت کے ذریعے ملک میں برآمداتی حجم بڑھانے کے لیے مؤثر پالیسی لانے کے لیے تجاویز تیار کرنے کا حکم دیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ برآمدات میں سہولیات فراہم کے حوالے سے وزارتِ خزانہ کی جانب سے تمام ممکنہ تعاون کیا جائے گا اور آئندہ بجٹ میں برآمدات بڑھانے کے لیے اہم اقدامات کیے جائیں گے۔

یہ بھی پڑھیے:کپاس کی درآمد پر پابندی کی تجویز مسترد،ٹیکسٹائل سیکٹر کی پیداوار رُک جائے گی

اس سے قبل مشیر برائے تجارت عبدالرزاق داؤد نے کہا  تھا کہ حکومت 26 شعبوں پر مشتمل نئی ٹریڈ پالیسی لائے گی، اہم شعبوں کو مراعات دی جائیں گی اور  اس سے متعلق ایک اجلاس میں  وزیرِ اعظم کو مجوزہ ٹیکسٹائل پالیسی 2020 تا 2025کے خدوخال اور ترجیحات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی تھی۔

اجلاس میں بتایا گیا تھا کہ وفاقی بورڈ برائے ریونیو (ایف بی آر) کو ڈیوٹی اور سیلز ٹیکس ریفنڈ کے مسائل جبکہ وزارتِ تجارت کو مقامی ٹیکسوں اور لیویز (ڈی ایل ٹی ایل) کے درپیش مسائل  نئے ٹریڈ پالیسی فریم ورک کے تحت سٹیٹ بینک کومنتقل کیے جائیں گے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here