پورے ملک میں جی ایس ٹی ایک جیسا رکھنے کے لیے نیشنل ٹیکس کونسل کے قیام کی منظوری

مشیر خزانہ نیشنل ٹیکس کونسل کے سربراہ، چاروں صوبائی وزرائے خزانہ اسکے رکن ہوں گے، وفاق اور صوبوں کے نمائندے اشیاءاور خدمات پر سیلز ٹیکس کی شرح کے بارے میں آئینی ترمیم کے بغیر متفقہ فیصلہ کر سکیں گے

280

اسلام آباد: عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف ) کی ہدایات کے مطابق ٹیکس خاص طور پر سیلز ٹیکس سے متعلق مسائل کے حل کے لیے صوبوں اور وفاقی حکومت میں نیشنل ٹیکس کونسل کے قیام پر اتفاق ہو گیا ہے۔

وزیراعظم کے مشیر برائے خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کی زیر صدارت منعقدہ نیشنل فنانس کمیشن مانیٹرنگ کمیٹی کے اجلاس میں یہ اتفاق رائے کیا گیا اور نیشنل ٹیکس کونسل کی ترتیب اور اس کے مجوزہ ٹی او آرز کی بھی منظوری دی گئی۔

نیشنل ٹیکس کونسل کی سربراہی مشیر خزانہ کریں گے جبکہ چاروں صوبائی وزرائے خزانہ کے علاوہ وفاق اور صوبوں کو تکنیکی سطح کی نمائندگی دی گئی ہے اور وہ اشیاءاور خدمات پر سیلز ٹیکس کی شرح کے بارے میں آئینی ترمیم کے بغیر متفقہ فیصلہ کر سکتے ہیں۔

اجلاس میں تجویز پیش کی کہ نیشنل ٹیکس کونسل ہر تین ماہ کے دوران کم از کم ایک بار اجلاس منعقد کرے گی، اور این ٹی سی کی تجاویز کثرت رائے سے منظور کی جائیں گی جو این ایف سی مانیٹرنگ کمیٹی کے سامنے پیش کی جائیں گی۔

اس کے علاوہ نیشنل ٹیکس کونسل  کے ماتحت ایک ایگزیکٹو کمیٹی بنائی جائے گی جو اپنی سفارشات منظوری کے لیے ٹیکس کونسل کو بھیجے گی،جس میں وفاقی سیکریٹری خزانہ ، چاروں صوبائی سیکریٹری خزانہ، چیئرمین ایف بی آر ،اور چاروں صوبائی ریونیو بورڈز کے سربراہان شامل ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں:

ایمنسٹی سکیم، ایف بی آر سے 12 ہزار ٹیکس دہندگان کے زیرالتوا معاملات پر وضاحت طلب

5.2 کھرب روپے کا ٹیکس ہدف کیسے پورا ہوگا؟ ایف بی آر معجزے کی تلاش میں

حکومت نے ایف بی آر کا ٹیکس خسارہ نان ٹیکس آمدن سمیت دیگر ذرائع سے پورا کرنے کی ٹھان لی

یہ بات قابل ذکر ہے کہ آئی ایم ایف نے اپنی حالیہ رپورٹ میں پاکستان کو وفاقی اور صوبائی نمائندگی کے حامل ایک مشترکہ ورکنگ گروپ کی تشکیل کی تجویز دی تھی جو جنرل سیلز ٹیکس کے حوالے سے مسائل کے حل کے لیے سفارشات پیش کرے ۔

ذرائع کے مطابق مانیٹرنگ کمیٹی کے ایک گزشتہ اجلاس میں چار نکات پر بات چیت کی گئی جن میں جی ایس ٹی، علاقے کی بنیاد پر ٹیکس جمع کرنا، کسی  آزاد ادارے کی جانب سے مقررہ ٹیکس جمع کرنا اور صوبائی اور وفاقی دونوں ادارہ کی جانب سے ہی جی ایس ٹی جمع کرنا۔

چونکہ پہلے تین آپشنز کے لیے آئینی ترمیم اور قانون سازی کی ضرورت تھی تاہم صوبوں اور وفاق نے بالآخر پورے ملک کے لیے جی ایس ٹی کی ایک ہی شرح  پر اتفاق کرلیا۔

اس سے قبل مشترکہ مفادات کونسل (سی سی آئی) کے 24 نومبر 2017ءکے اجلاس میں کئے گئے فیصلہ کی روشنی میں مالیاتی مشاورتی کمیٹی (ایف سی سی) کے ٹی او آرز کی تیاری این ایف سی مانیٹرنگ کمیٹی کے ذمہ لگائی گئی تھی۔ مجوزہ ٹی او آرز 12 مارچ کے اجلاس میں تیار کر کے منظور کئے گئے ہیں۔

ٹی او آرز کے تحت ایف سی سی وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی مالیاتی پالیسی کے مسائل کا جائزہ لے سکتی ہے اورمسائل کے حل کے لئے تجاویز بھی پیش کر سکتی ہے، یہ کمیٹی وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے ترقیاتی اخراجات کی مانیٹرنگ کرے گی جبکہ کمیٹی میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو وصولیوں کے معاملات کا بھی جائزہ لیا جا سکے گا۔

 ٹی او آرز کے تحت کمیٹی وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے قرضوں اس حوالے سے صوبوں کے موقف، صوبوں کی آمدنی، وفاقی اور صوبائی آمدنیوں میں اضافہ کی تجاویز کا جائزہ بھی کمیٹی کے ذمہ لگایا گیا ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here