کورونا وائرس کا خوف ، ٹویٹر کا دنیا بھر میں دفاتر بند کرنے کا اعلان

151

کیلی فورنیا : کورونا وائرس کے خوف سے دنیا بھر کی کمپنیاں متاثرہ علاقوں میں اپنے دفاتر بند کرنے پر مجبور ہیں، سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر نے بھی دنیا بھر میں موجود اپنے دفاتر بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

11مارچ کو عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کورونا وائرس کو عالمگیر وبا بھی قرار دے دیا ہے۔

پوری دنیا میں تیزی سے پھیلنے والے کورونا وائرس کے خوف کے باعث ٹوئٹر انتظامیہ نے دنیا بھر میں قائم اپنے تمام دفاتر بند کر دیئے ہیں اور تمام ملازمین کو گھر سے کام کرنے کی ہدایت کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:

 کوروناوائرس : ایشیائی ترقیاتی بینک کا ہیڈکوارٹر بند، ملازمین کو گھروں سے کام کرنے کی ہدایت

کورونا وائرس کا پھیلائو روکنے کے لیے کرنسی نوٹ قرنطینہ میں رکھنے، جلانے کا فیصلہ

ایک ملازم میں کورونا وائرس کی تشخیص ، اینگرو کارپوریشن کا کراچی میں دفتر بند

کووڈ-19 کے پھیلنے کے خطرے کے پیش نظر  ایپل، ایمازون، مائیکروسافٹ اور گوگل سمیت دیگر ٹیکنالوجی فرمز نے بھی اپنے کچھ ممالک کے دفاتر بند کر رکھے ہیں جب کہ ٹوئٹر نے پوری دنیا میں موجود 4 ہزار 900 دفاتر کو بند رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

ٹوئٹر انتظامیہ کے مطابق اس سے قبل ہانگ کانگ، جاپان اور جنوبی کوریا کے تمام ملازمین کو دفتر نہ آنے اور گھروں میں رہ کر کام کرنے کی ہدایت کی گئی تھی مگر کووڈ-19 کے پھیلنے کے خدشے کے باعث تمام دفاتر کے لیے یہ قدم اٹھایا گیا ہے۔

 

ٹوئٹر انتظامیہ نے کہاہے کہ ملازمین کے معاہدے، کام کرنے کے گھنٹے اور دیگر خدمات کا معاوضہ ویسے ہی دیا جائے گا جیسے دفاتر آنے پر دیا جارہا تھا۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ ملازمین کو گھر سے کام کرنے میں جو اخراجات کا سامنا کرنا پڑے گا، وہ بھی ادا کیا جائے گا، ساتھ ہی والدین کی جانب سے ملازمین کی دیکھ بھال کرنے پر جو خرچہ ہو گا اس کی ذمہ داری بھی کمپنی پوری کرے گی۔

ٹوئٹر، فیس بک اور ایمازون کے کچھ ملازمین بھی کورونا وائرس میں مبتلا ہو گئے جن کو قرنطینہ میں رکھا گیا ہے۔

واضح رہے کہ چین سے پھیلنے والا جان لیوا کورونا وائرس اب تک دنیا کے 123 ممالک میں پھیل چکا ہے جس سے متاثرہ افراد کی تعداد ایک لاکھ 26 ہزار 420 تک پہنچ چکی ہے جن میں سے 60 ہزار 314 افراد صحتیاب بھی ہو چکے ہیں جب کہ وائرس کی وجہ سے چار ہزار 636 افراد دنیا بھر میں انتقال کرچکے ہیں۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here