کورونا وائرس، ٹرمپ کا 26 ممالک پر سفری پابندیوں کا اعلان، سٹاک مارکیٹس، تیل کی عالمی منڈیوں میں گراوٹ

240

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کورونا وائرس کے پھیلائو کو روکنے کے لیے برطانیہ کے علاوہ یورپ کے 26 ممالک سے امریکہ آنے والی پروازوں پر 30 روز کے لیے پابندی عائدکرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق اس بات کا اعلان انہوں نے اٹلی میں ملک گیرلاک ڈائون کے اعلان کے بعد وائٹ ہائوس کے اوول آفس سے ٹیلی ویژن خطاب کے دوران کیا۔

 انہوں نے کہا کہ یہ سفری پابندیاں یورپی یونین کے 26 ممالک پر عائد کی جائیں گی کیونکہ یورپی یونین کورونا وائرس کے پھیلائو کو روکنے کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے میں ناکام ہو گیا ہے جس طرح امریکہ اس وائرس سے نبرد آزما ہونے کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کر رہا ہے لیکن یہ سخت اور ضروری پابندیاں برطانیہ پر لاگو نہیں ہوں گی جہاں کورونا وائرس کے 460 کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔

امریکی صدر نے کہا کہ ہم کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کے ہمارے ملک میں داخل ہونے سے قبل یورپ کے لیے تمام سفری سہولیات منسوخ کر رہے ہیں اور یہ پابندیاں جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی شب سے لاگو کی جائیں گی۔

 انہوں نے کہا کہ سفری پابندیاں یورپ سے امریکہ کے لیے تجارت اور کارگو سہولیات پر بھی عائد کی جائیں گی۔

یہ بھی پڑھیں:

کورونا وائرس کا خوف ، ٹویٹر کا دنیا بھر میں دفاتر بند کرنے کا اعلان

ایک ملازم میں کورونا وائرس کی تشخیص ، اینگرو کارپوریشن کا کراچی میں دفتر بند

کورونا وائرس، موبائل ورلڈ کانگریس کے بعدگیم ڈیویلپرز کانفرنس اور جنیوا انٹرنیشنل موٹرز شو بھی منسوخ

بعدازاں صدر ٹرمپ نے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا کہ امید ہے کہ ڈیموکریٹس اور ریپبلیکنز کی طرف سے پے رول ٹیکس کی منظوری ہو جائے گی اور تمام ممالک اور کاروباری حضرات یاد رکھیں کہ نئے اقدامات سے تجارت متاثر نہیں ہو گی بلکہ یہ قدامات لوگوں کی آمدورفت کو روکنے کے لیے کیے گئے ہیں۔

 انہوں نے کانگریس پر زور دیا کہ چھوٹے کاروباری حضرات کے لیے اربوں ڈالر کے قرضے جاری کیے جائیں گے اور کاگریس کورونا وائرس کے ملک کی اقتصادی صورتحال پر اثرات کو روکنے کے لیے ٹیکس ریلیف کے بڑے بل کی منظوری دے۔

انہوں نے کہا کہ ہم امریکی شہریوں کے تحفظ کے لیے وفاقی حکومت اور نجی شعبے کے مکمل تعاون سے اقدامات کر رہے ہیں۔

امریکی محکمہ داخلہ کے مطابق جن ممالک پر پابندی عائد کی گئی ان ممالک میں آسٹریا، بیلجیئم، چیک ریپبلک، ڈنمارک، اسٹونیا، فن لینڈ، فرانس، جرمنی، یونان، ہنگری، آئس لینڈ، اٹلی، لیٹویا، لیچینسٹین، لگسمبرگ، مالٹا، نیدر لینڈ، ناروے، پولینڈ، پرتگال، سلواکیہ، سلوینیہ، اسپین، سویڈن اور سوئٹزرلینڈ شامل ہیں۔

اس حکم کا اطلاق امریکی شہریوں، امریکا میں قانونی طور پر مقیم مستقل رہائشیوں، امریکی شہریوں کے خونی رشتوں اور اس طرح کے دیگر افراد پر نہیں ہوگا۔

  یہ سفری پابندیاں واضح رہے کہ امریکہ میں کورونا وائرس کے 1,135 کیسز کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ 38 اموات ہوئی ہیں۔

فیصلے کے بعد سٹاک مارکیٹس، تیل کی منڈیوں میں مندی

صدر ٹرمپ کی جانب سے یورپ پر سفری پابندیوں کے اعلان کے بعد امریکی سٹاک مارکیٹ چار فیصد گر گئی، پہلے سے مندی کا شکار تیل کی عالمی منڈیوں کو ایک بار پھر گراوٹ کا سامنا کرنا پڑا۔

ٹرمپ کے اعلان کا اثر ایشیائی سٹاک مارکیٹوں پر بھی پڑا ، جاپان کی سٹاک مارکیٹ پانچ فیصد گر گئی ، ہانگ کانگ ، سڈنی، سیئول ، ولنگٹن، تائی پے، جکارتا اور منیلا سٹاک مارکیٹس کو چار فیصد کمی کا سامنا کرنا پڑا، ڈائو سٹاک مارکیٹ کو بیس فیصد کمی کا سامنا کرنا پڑا۔

جاپانی ین جو زیادہ تر معاشی بحرانوں میں متاثر نہیں ہوتا، اسکی قدر میں ڈالر کے مقابل ایک فیصد اضافہ ہوگیا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here