مکیش امبانی مارکیٹ میں کساد بازاری کے باعث قریباً چھ ارب ڈالر سے محروم

216

نئی دہلی: بلومبرگ بلین ایئر انڈیکس کے مطابق، انڈیا کے مکیش امبانی ایشیا کے امیر ترین شہری کے تاج سے محروم ہو گئے ہیں جس کی وجہ عالمی منڈی میں جاری حالیہ بحران ہے جس کے باعث ان کی دولت میں قریباً چھ ارب ڈالر کی کمی آئی ہے۔

بلومبرگ کے مطابق، سوموار کو دنیا کے پانچ سو امیر ترین لوگ 238.5 ارب ڈالر سے محروم ہو گئے، یہ انڈیکس کی جانب سے اکتوبر 2016 میں ٹریکنگ شروع کیے جانے کے بعد سے ایک روز میں آنے والی نمایاں ترین کمی ہے۔

اکویٹی اور آئل مارکیٹ شدید ترین بحران کا شکار ہوئیں جسے سیاہ سوموار کا نام دیا گیا ہے جس کی وجہ کورونا وائرس کے بڑھتے ہوئے خطرات اور سعودی عرب کی روس کے ساتھ تیل کے معاملے پر جاری محاذ آرائی ہے۔

مزید پڑھیں: کورونا وائرس، دنیا کا ہر خطہ متاثر، کھربوں ڈوب گئے

1991 کی خلیجی جنگ کے بعد یہ خام تیل کی قیمتوں میں تیسری بار آنے والی بدترین کمی ہے۔

62 سالہ امبانی  شیئرز کی مالیت کم ہونے کے باعث پانچ اعشاریہ آٹھ ارب ڈالر سے محروم ہوئے جو اب 41.8 ارب ڈالر رہ گئے ہیں۔ ان کی جگہ اب چینی کاروباری ٹائیکون اور علی بابا کے فائونڈر جیک ما نے لے لی ہے جن کے اثاثے ایک اعشاریہ ایک ارب ڈالر کی کمی کے ساتھ 44.5 ارب ڈالر رہ گئے ہیں۔ 55 سالہ جیک ما 2018 کے وسط میں بھی نمبر ون کی پوزیشن حاصل کرنے میں کامیاب رہے تھے۔

بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق، تیل کی قیمتوں میں کمی نے امبانی کی کمپنی ریلائنس کے قرض اتارنے کے حوالے سے منصوبوں کے حوالے سے سوالات پیدا کیے ہیں جیسا کہ وہ تیل اور پیٹروکیمیکل یونٹ سعودی آرامکو میں اپنے شیئرز فروخت کرنے کے حوالے سے مشکلات کا شکار ہے۔

مزید پڑھیں: سعودی عرب کا تیل کی پیداواری صلاحیت ایک ملین بیرل روزانہ کرنے کا فیصلہ

امبانی کی دولت میں انڈیا میں ٹیلی کام کے انقلاب کے باعث اضافہ ہوا جو اپنے خاندان کے ساتھ ممبئی میں پرتعیش 27 منزلہ عمارت میں رہتے ہیں جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کی تعمیر پر ایک ارب ڈالر لاگت آئی۔

 بلومبرگ کے مطابق، عالمی مارکیٹ میں ہونے والے نقصان کے باعث ایمازون کے بانی اور دنیا کے امیر ترین شہری جیف بیزوس 5.6 ارب ڈالر سے محروم ہوئے ہیں جب کہ برکشائر ہتھاوے کے وارن بفٹ کو 5.3 ارب ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔ تاہم، ان کے اثاثے اب بھی بالترتیب 111.8 ارب ڈالر اور 76.4 ارب ڈالر ہیں۔

پرتعیش مصنوعات بنانے والی کمپنی ایل ڈبلیو ایم ایچ کے مالک فرانسیسی شہری برنارڈ آرنلٹ کو یورپ میں سب سے زیادہ نقصان ہوا ہے جن کے اثاثوں میں 4.4 ارب ڈالر کی کمی آئی ہے جو اب 81.4 ارب ڈالر رہ گئے ہیں۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here