روس تیل کی قیمت 25 ڈالر فی بیرل کرنے پر بھی تیار

163

لاہور: روس کی وزارت خزانہ نے آئل مارکیٹ کے ڈرامائی کریش کے دوران کہا ہے کہ روس کے سرکاری فنڈز میں اس قدر ریزروز موجود ہیں جو اگلے کئی برسوں تک بجٹ خسارہ پورا کر سکتے ہیں، حتیٰ کہ اگر تیل کی قیمت 25 سے 30 ڈالر فی بیرل کے درمیان بھی رہتی ہے۔

اس سے قطع نظر کہ سوموار کو روس میں عوامی چھٹی تھی، اس کے باوجود وزارت خزانہ اور مرکزی بنک نے تیل کی قیمتوں میں قریباً 30 فی صد کمی پر فوراً ردِعمل ظاہر کیا۔ روسی وزارتِ خزانہ نے کہا ہے کہ روسی نیشنل فنڈ میں اضافی تیل اور گیس کے ریونیوز سے حاصل ہونے والے 150 ارب ڈالر مالیت کے لیکوڈ اثاثے موجود ہیں جو خام تیل کی قیمتوں میں ممکنہ کمی کے باوجود اگلے چھ سے 10 برسوں کے لیے کافی ہیں۔

مزید پڑھیں: پیٹرول کی قیمتوں میں 20 سے 25 روپے کمی متوقع

آئل مارکیٹ میں پیدا ہونے والی اس صورتِ حال کے باوجود روس کی قومی کرنسی کی قدر میں امریکی ڈالر اور یورو کے مقابلے میں نمایاں کمی آئی ہے۔ ربل کی قدر آٹھ فی صد کم ہوئی ہے، اور سوموار کی صبح تک ڈالر 74.1 ربل میں فروخت ہو رہا تھا۔ یورو کی قدر بڑھ کر 84.4 ربل ہو گئی ہے، فروری 2016 کے اوآخر کے بعد ربل اب کم ترین سطح پر پہنچا ہے۔

اوپیک کے ارکان اور اتحادی تیل پیدا کرنے والے ملکوں کے گزشتہ ہفتے ہونے والے اجلاس میں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے کہا کہ ماسکو ہر طرح کے حالات کا سامنا کرنے کے لیے ہے، اگر حالات خراب ہوتے بھی ہیں تو اس کے پاس مقابلہ کرنے کے لیے کافی ریزروز موجود ہیں۔ تاہم، اس وقت خام تیل کی قیمتیں زیادہ تھیں۔

مزید پڑھیں: کورونا وائرس سے اموات میں اضافہ، تیل کی قیمتوں میں مزید کمی کے خدشات

گزشتہ ہفتے اوپیک کورونا وائرس کی وبا کے باعث تیل کی قیمتیں بڑھانے پر تیار ہو گیا تھا لیکن روس نے ایسا کرنے کی مخالفت کی اور طویل عرصہ کے لیے تیل کی قیمتیں کم رکھنے کی تجویز دی۔ یوں اختلاف پیدا ہوا، موجودہ معاہدہ اگلے ماہ ختم ہوجائے گا جس کے باعث مارکیٹ میں طلب سے زیادہ رسد کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے، یہ پیش نظر رہے کہ اس وقت پہلے ہی کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثر چین کی جانب سے تیل کی درآمدات میں کمی آئی ہے جو تیل کے چند بڑے درآمدکنندگان میں سے ایک ہے۔

اتوار کے روز سعودی عرب نے اپنے ایک پریشان کن بیان میں کہا تھا کہ وہ تیل کی پیداوار بڑھانے کی بجائے اس میں کمی کرنا چاہتا ہے اور اپنے تیل کے خریداروں کے لیے رعایت کی پیشکش بھی کی۔ اس اقدام کو قیمتوں کی جنگ کے طور پر دیکھا گیا جس کے باعث عالمی سطح پر برینٹ اور ڈبلیو ٹی آئی کو بھاری نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here