ایک ملازم میں کورونا وائرس کی تشخیص ، اینگرو کارپوریشن کا کراچی میں دفتر بند

184

کراچی: اینگرو کارپوریشن کے ایک ملازم میں کورونا وائرس (کووڈ۔19) پوزیٹو آنے کے بعد کمپنی نے کراچی میں اپنا دفتر آئندہ تین دنوں کے لیے بند کردیا ہے۔

کمپنی کے ہیومن ریسورس ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق اینگرو کارپوریشن کے ہاربر فرنٹ بلڈنگ کراچی میں واقع دفتر میں کام کرنے والے ایک ملازم کو طبعیت خرابی پر جب کورونا وائرس کے ٹیسٹ کے لیے بھیجا گیا تو اس میں کووڈ 19 پوزیٹو آیا ہے ۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ مذکورہ ملازم بروز جمعہ 8 مارچ کو چند گھنٹوں کے لیے دفتر آیا تھا اور بعد ازاں خود ہی دفتر سے چلا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:کورونا وائرس عالمی معیشت کو دو کھرب ڈالر کا نقصان ہو سکتا ہے: اقوامِ متحدہ

تاہم یہ واضح نہیں کہ کورونا سے متاثرہ ملازم اس وقت کہاں موجود ہے کیونکہ اس کے کسی ہسپتال کے قرنطینہ میں داخلے کی اطلاع بھی نہیں ہے۔

کمپنی ترجمان کے مطابق،’’موجودہ حالات میں میڈیکل ایڈوائزرز اور صحت کے ماہرین سے مشاورت کی گئی ہے جن کی جانب سے دفتر بند کرنے کا نہیں کہا تاہم احتیاطی تدابیر کے طور پر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔‘‘

اینگرو کے ہاربر بلڈنگ میں کام کرنے والے تمام ملازمین آئندہ تین دنوں (16 مارچ )کے لیے اپنے گھروں سے کام کریں  گے اور سوموار کو دفتر آنے پر ان کی سکریننگ کی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں:فیس بک کے ملازم میں کورونا وائرس کی تشخیص، لندن میں واقع دفتر بند

کمپنی نے ملازمین کو حکم دیا ہے کہ وہ آئندہ دو ہفتوں تک اپنی صحت کی نگرانی رکھیں اور فلو کی علامات پر فوری ڈاکٹر کے پاس جائیں۔

اینگرو کا کراچی میں دفتر 17 منزلہ ہاربر فرنٹ بلڈنگ میں واقع ہے جہاں مشہور ڈولمن مال بھی واقع ہے، اڑھائی لاکھ مربع فٹ کی اس عمارت میں پراکٹراینڈ گیمبل، فلپ مورس اور بائیکو جیسی کمپنیوں کے دفاتر بھی موجود ہیں۔

واضح رہے کہ پاکستان میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 18 ہو گئی ہے،کورونا وائرس کے کیسز میں اضافے کے بعد محکمہ صحت نے  کراچی میں عوامی اجتماعات پر پابندی لگانے اور تعلیمی ادارے لمبے دورانیے تک بند رکھنے کی سفارش کردی ہے۔

سندھ سیکریٹریٹ میں محکمہ صحت کے دفاتر میں ملازمین کےعلاوہ دیگر افراد کا داخلہ بند کردیا گیا ہے۔

حفاظتی اقدامات کے تحت ملک کے تمام داخلی راستوں پرکورونا وائرس کے خطرے کے باعث اسکریننگ جاری ہے جس کے لیے خصوصی مشینیں لگائی گئی ہیں،  اسکریننگ میں جسم کے درجہ حرارت اور کیس ہسٹری کے مطابق مشتبہ قرار دیا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:کورونا وائرس سے پاکستان کو تقریباََ پانچ ارب ڈالر کا نقصان ہو سکتا ہے: ایشیائی ترقیاتی بینک  

انٹرنیشنل ائیرپورٹس اور بارڈرز پر ہر آنے والے مسافر کو محکمہ صحت کے 3 سے 4 ماہرین بھی چیک کرتے ہیں۔

محکمہ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ داخلی راستوں پر وزارت صحت اور این آئی ایچ سے تربیت یافتہ عملہ تعینات ہے۔

حکام کے مطابق اب تک تقریباً 9لاکھ افراد اسکریننگ کے عمل سےگزر چکے ہیں، مختلف لیبارٹریز میں اب تک کوروناکے 360 افراد کے نمونے بھی چیک کیے جا چکے ہیں۔

واضح رہے کہ چین سے پھیلنے والے جان لیوا کورونا وائرس کی وجہ سے دنیا بھر میں ایک لاکھ سولہ ہزار سے زائد افراد متاثر ہو چکے ہیں جبکہ چار ہزار سے زائد اموات ہو چکی ہیں، اس کے علاوہ چونسٹھ ہزار سے زائد افراد صحت یاب بھی ہو چکے ہیں۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here