ایمنسٹی سکیم، ایف بی آر سے 12 ہزار ٹیکس دہندگان کے زیرالتوا معاملات پر وضاحت طلب

233

اسلام آباد: متاثرہ ٹیکس دہندگان کے 12 ہزار زیرِالتوا معاملات پر سوموٹو لیتے ہوئے، جو گزشتہ ایمنسٹی سکیم سے فائدہ حاصل نہیں کر سکے تھے، وفاقی ٹیکس محتسب نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو سے کہا ہے کہ وہ اس معاملے پر اپنا موقف پیش کرے۔

ذرائع کے مطابق، وفاقی محتسب نے ان متاثرہ ٹیکس دہندگان کے حوالے سے ازخود نوٹس لیا ہے جنہوں نے ڈیڈلائن سے قبل ٹیکس چالان ادا کر دیا تھا تاہم وہ آئی آر آئی ایس سسٹم کے باعث ایمنسٹی سکیم سے مستفید نہیں ہو سکے تھے۔

انہوں نے مزید کہا، قریباً 300 متاثرہ ٹیکس دہندگان نے وفاقی ٹیکس محتسب کو شکایت درج کروائی تھی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ قریباً 12 ہزار لوگوں نے تین جولائی 2019 کو ڈیڈلائن سے قبل قریباً دو اعشاریہ چھ ارب روپے ٹیکس جمع کروایا جنہوں نے ایف بی آر کے ای پورٹل پر ڈرافت ڈیکلریشن بھی تشکیل دے لیا تھا تاہم، اس سے قبل کہ وہ اثاثے ظاہر کر پاتے، سسٹم ہی فیل ہو گیا۔

مزید پڑھیں: ایف بی آر: آئندہ 3 سال میں سیلز ٹیکس دہندگان کی تعداد 4 لاکھ کرنے کا ہدف

وفاقی ٹیکس محتسب کے مطابق، ٹیکس ڈیپارٹمنٹ کی یہ بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ ٹیکس دہندگان کو تکنیکی سہولیات فراہم کرے لیکن بیورو ایسا کرنے میں ناکام ہو گیا ہے جس کے باعث ٹیکس دہندگان ٹیکس ایمنسٹی سکیم سے فائدہ حاصل نہیں کر پائے۔

حکام نے کہا ہے کہ پاکستان ٹیکس بار ایسوسی ایشن (پی ٹی بی اے) نے بھی وفاقی ٹیکس محتسب کے پاس شکایت جمع کروائی ہے کہ وہ ایف بی آر میں زیرِالتوا 12 ہزار کیسز پر سوموٹو نوٹس لے۔

پی ٹی بی اے کی جانب سے جمع کروائی گئی شکایت کے مطابق، قریباً 12 ہزار ٹیکس دہندگان ایف بی آر کے آن لائن سسٹم پر صارفین کے رش کے باعث اپنے اثاثے ظاہر کرنے میں ناکام ہو گئے اور اپنے اثاثے ظاہر نہیں کرسکے اور ان کے ایف بی آر کے ای پورٹل پر محفوظ ڈرافٹ ڈیکلریشن کھو گئے۔تاہم، ایف بی آر کی جانب سے اس حوالے سے اب تک کوئی سنجیدہ ایکشن نہیں لیا گیا جو سنجیدہ بدانتظامی ہے۔

مزید پڑھیں: ایف بی آر اور ٹیکس دہندگان کے درمیان اعتماد کا فقدان بڑامسئلہ ہے، نامزد چیئرمین ایف بی آر

ایسوسی ایشن نے مزید کہا ہے، ایف بی آر کو متبادل منصوبہ تیار کرنے کی ضرورت تھی تاکہ ٹیکس دہندگان اس سکیم سے فائدہ اٹھا پاتے جب کہ وفاقی ٹیکس محتسب کو اس معاملے میں مداخلت کرنی چاہئے تھے کہ 12 ہزار متاثرہ ٹیکس دہندگان کو ریلیف فراہم کیا جا سکتا۔

پاکستان ٹیکس بار ایسوسی ایشن کے مطابق، متاثرہ ٹیکس دہندگان نے ایف بی آر سے مایوس ہونے کے بعد ہی وفاقی ٹیکس محتسب کے پاس شکایت جمع کروائی۔

ایسوسی ایشن یہ دعویٰ کرتی ہے کہ اس ایمنسٹی سکیم کا بنیادی مقصد ٹیکس نیٹ کا دائرہ کار وسیع کرنا، معیشت کو دستاویزی شکل دینا اور ٹیکسس کے نظام کا احیا تھا۔

تنظیم نے مزید کہا ہے، ٹیکس دہندگان کو ایف بی آر کے آن لائن نظام کی ناکامی پر نشانہ نہیں بنایا جانا چاہئے اور وہ متاثرہ ٹیکس دہندگان کی شکایات کا ازالہ کرے جو پہلے ہی ٹیکس ادا کر چکے ہیں تاکہ وہ ایمنسٹی سکیم سے فائدہ حاصل کر سکیں۔

مئی 2019 میں صدارتی آرڈیننس کے ذریعے ٹیکس ایمنسٹی سکیم (اثاثے ظاہر کرنے کا ایکٹ، 2019) جاری کی گئی تاکہ لوگ اپنے پوشیدہ اثاثے ظاہر کر پائیں۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here