غیر ملکی خریداروں کو متوجہ کرنے کے لیے پاکستان میں سونے کی کم قیمت میں فروخت

87

لاہور: سونے کی قیمت میں پرافٹ بنانے کے لیے ایک فی صد کمی آئی ہے جیسا کہ سونے کی قیمت سات برسوں کی بلند ترین سطح 1،700 ڈالر فی اونس پر پہنچ گئی ہے۔ یہ کمی معاشی سست روی کے باعث آئی ہے جو کورونا وائرس کی وبا کے باعث دنیا بھر میں جاری ہے۔

آل سندھ صرافہ ایسوسی ایشن کے صدر حاجی ہارون رشید چاند کہتے ہیں، مجھے خدشہ ہے کہ سونے کی قیمت 1,700 ڈالر کی سطح سے بڑھ جائے گی اور ممکن ہے یہ 1,800 ڈالر کے قریب پہنچ جائے۔ مقامی تناظر میں بات کی جائے تو سونے کی قیمتوں کے موجودہ رجحان کے پیشِ نظر سونے کی قیمت ایک لاکھ روپے فی تولہ تک ہو سکتی ہے۔ تاہم، یہ حالات پاکستان کے لیے شاندار موقع میں تبدیل ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا، پاکستان میں متحدہ عرب امارات کی نسبت سونے کی قیمت پانچ ہزار روپے کم ہوگی جس کے باعث یہ ایشیا میں کم ترین ہے۔

حاجی ہارون رشید چاند نے مزید کہا، وہ دن زیادہ دور نہیں جب عالمی خریدار پاکستان سے سونا خریدیں گے، آپ اس عہد کا اس دور سے موازنہ کر لیجئے جب پاکستان بیرون ملک سے سونا خریدا کرتا تھا۔

مزید پڑھیں: پاکستان میں 1300 روپے اضافے سے فی تولہ سونا 95500 روپے ہو گیا

انہوں نے اس رجحان کی وجہ پاکستان میں افراطِ زر میں اضافے اور ابتر معاشی حالات کے باعث قوتِ خرید میں کمی کو قرار دیا۔ سونے کی قیمت صفر اعشاریہ چھ فی صد  کم ہو کر 1,663.35 ڈالر فی اونس ہو گئی ہے جو دسمبر 2012 کے بعد اس کی سب سے زیادہ قیمت ہے جب یہ 1,702.56 ڈالر فی اونس ہو گئی تھی۔ امریکا میں بعدازاں سونے کی قیمت میں صفر اعشاریہ چار فی صد اضافہ ہوا اور یہ 1,665.30 ڈالر فی اونس ہو گئی۔

آج (پیر) دن کے شروع میں سونے کی قیمتوں میں ایک اعشاریہ سات فی صد اضافہ ہوا جس کی وجہ چین کے تجارتی ڈیٹا کے علاوہ کورونا وائرس کے پھیلنے کی شدت بھی ہے۔ چینی برآمدات دو ماہ سے مسلسل کم ہو رہی ہیں جب کہ اٹلی بظاہر لاک ڈائون کا منظر پیش کر رہا ہے جس کی قریباً ایک چوتھائی آبادی الگ تھلگ ہو کر رہ گئی ہے۔ تجزیوں کے مطابق، سونے کی زیادہ فروخت تکنیکی شعبے میں ہو رہی ہے۔ تاجروں نے سونے کی فی اونس قیمت کے لیے 1,700 ڈالر ہدف مقرر کیا ہے۔ ایک بار یہ ہدف حاصل ہو جاتا ہے تو وہ منافع حاصل کرنے کی جانب بڑھیں گے۔

مزید پڑھیں: سٹاک مارکیٹ 293 پوائنٹس کی کمی سے 38906 پر بند، سونا1950 روپے مہنگا

تاہم، فروخت کا رجحان جاری رہنے کا امکان نہیں ہے جس کی وجہ دنیا بھر میں ایکویٹیز کا کم ہونا ہے۔  امریکی سٹاک مارکیٹ کے ممکنہ طور پر پانچ فی صد کم ہونے کا امکان ہے۔ امریکی فیڈرل ریزروز کی 18 مارچ کو ہونے جا رہی پالیسی میٹنگ میں منڈیاں شرح سود میں دوبارہ کمی کی امید کر رہی ہیں جب کہ گزشتہ ہفتے یہ صورتِ حال بہتر بنانے کے لیے ہنگامی اقدامات کیے گئے ہیں۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here