حیرت انگیز امریکی باس، اپنے عملے کی کم از کم تنخواہ 70 ہزار ڈالر کر دی

486

 لاہور: 2015 میں امریکی شہر سیاٹل میں واقع ایک کارڈ پیمنٹ کمپنی کے باس نے اپنے 120 افراد پر مشتمل عملے کی کم سے کم تنخواہ 70 ہزار امریکی ڈالر سالانہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ سب سے اہم بات یہ تھی کہ انہوں نے اپنی تنخواہ میں سے ایک ملین ڈالر کاٹ کر ایسا کیا۔

وہ پانچ سال بعد بھی اپنے فیصلے پر قائم ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ان کا یہ جوا کامیاب رہا۔

کمپنی کے مالک ڈین پرائس اپنی دوست ویلیری کے ساتھ سیاٹل کے قریب پہاڑوں میں ہائکنگ کر رہے تھے جب ان کے سامنے ایک پریشان کُن انکشاف ہوا۔

مزید پڑھیں: ہانگ کانگ: ایئرلائن کمپنی کیتھے پیسیفک کا 27 ہزار ملازمین سے بغیر تنخواہ کے چھٹیاں لینے کی درخواست

چہل قدمی کے دوران ویلیری نے ڈین کو بتایا کہ ان کی زندگی بہت مشکلات کا شکار تھی۔ ان کے مالک مکان نے کرایہ 200 ڈالر تک بڑھا دیا تھا اور وہ بہ مشکل بل ادا کر پا رہی تھیں۔

یہ سن کر ڈین کو غصہ آیا۔ ایک زمانے میں ویلیری ڈین کی گرل فرینڈ تھیں۔ ویلیری نے 11 سال فوج میں گزارے اور دو مرتبہ عراق گئیں۔

ڈین کو غصہ آیا کہ دنیا کس قدر عدم مساوات کی جگہ بن چکی ہے اور پھر انہیں احساس ہوا کہ وہ بھی اسی مسئلے کا ایک حصہ ہیں۔

31 برس کی عمر میں ڈین پرائس لکھ پتی بن چکے تھے۔ ان کی کمپنی گریویٹی پیمنٹس کے 2000 سے زیادہ صارفین تھے جو انہوں نے لڑکپن میں قائم کی تھی۔

وہ سالانہ 11 لاکھ ڈالر کما رہے تھے لیکن ویلیری کے ساتھ بات چیت نے انہیں سوچ میں ڈال دیا۔ انہوں نے تبدیلی لانے کا فیصلہ کیا۔

ویلیری کے ساتھ پہاڑ چڑھتے ہوئے انہیں نوبیل انعام یافتہ ماہر اقتصادیات ڈینیئل کاہنمین اور انگس ڈیٹن کا ایک مضمون یاد آ گیا جس میں یہ جائزہ لیا گیا تھا کہ امریکیوں کو خوشحال رہنے کے لیے کتنے پیسے درکار ہوتے ہیں؟

انہوں نے اسی وقت ویلیری سے وعدہ کیا کہ وہ اپنی کمپنی گریویٹی میں کم سے کم اجرت میں نمایاں اضافے کریں گے۔

مزید پڑھیں: بی آر ٹی پشاور مالی بحران کا شکار،تنخواہوں کیلئے پیسے نہیں، 69 ملازمین فارغ

وہ غوروفکر کے بعد 70 ہزار ڈالر کے ہندسے تک پہنچے۔ انہوں نے سوچا کہ اس کے لیے تو انہیں ناصرف اپنی تنخواہ کم کرنا پڑے گی بلکہ دو گھر بھی گروی رکھنا پڑیں گے اور اپنے حصص اور بچت سے بھی محروم ہونا پڑے گا۔

انہوں نے اسی وقت اپنے عملے کو جمع کیا اور یہ خوش خبری سنائی لیکن پرائس ڈین بتاتے ہیں کہ ان کے عملے نے خوشی کا اظہار نہیں کیا جس پر انہوں نے اپنی بات کو دوبارہ دہرایا۔

ڈین ہنستے ہوئے بتاتے ہیں کہ انہوں نے پرنسٹن کے پروفیسروں کی تحقیق کا یہ اہم جز نہیں دیکھا تھا جس کے مطابق لوگوں کو خوش رہنے کے لیے 75 ہزار ڈالر درکار ہوتے ہیں۔

عملے کی تنخواہوں میں اضافہ ہوا تو گریویٹی نے تیزی سے ترقی کی۔ عملے کی تعداد دگنی ہوئی اور کمپنی کے توسط سے ہونے والی ادائیگیاں سالانہ تین اعشاریہ آٹھ ارب ڈالر سے بڑھ کر 10.2 ارب ڈالر ہو گئیں۔

پرائس کا خیال ہے کہ گریویٹی کے زیادہ منافع کمانے کی ایک وجہ یہ بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے سٹاف میں کام کا جذبہ پہلے بھی تھا لیکن وہ زیادہ توجہ نہیں دے پا رہے تھے۔ ان کے مطابق، اب وہ پیسے کے لیے کام پر نہیں آتے بلکہ اچھا کام کرنے کے لیے کام پر آتے ہیں۔

پرائس کا خیال تھا کہ ان کی دیکھا دیکھی امریکہ میں دیگر کاروبار بھی ملازمین کی فلاح کے لیے ایسے اقدامات کریں گے لیکن زیادہ بڑے پیمانے پر ایسا نہیں ہوا۔ ان کا خیال ہے کہ ایمازون میں کم سے کم اجرت بڑھنے میں بھی ان کا ہاتھ ہے۔

پانچ سال بعد بھی پرائس اسی کم تنخواہ پر کام کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس وقت وہ اتنے مطمئن ہیں جتنے وہ اس وقت بھی نہیں تھے جب ان کی آمدن کئی ملین تھی۔ تاہم یہ سب اتنا آسان بھی نہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہر روز ایک امتحان جیسا ہوتا ہے۔

وہ کہتے ہیں، میری اور مارک زکربرگ کی ایک ہی عمر ہے اور میں منفی سوچ کے لمحات سے گزرتا ہوں جب مجھے خیال آتا ہے کہ مجھے بھی مارک زکربرگ جتنا امیر ہونا چاہئے۔

انہوں نے کہ، سب کچھ ترک کر دینا اتنا آسان نہیں لیکن اب میری زندگی بہت بہتر ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here