’آئی ایم ایف کیساتھ قرضے کا حالیہ معاہدہ آخری ثابت ہوگا‘

317

اسلام آباد: وفاقی وزیر منصوبہ بندی ،ترقی و اصلاحات اسد عمر نے کہا ہے کہ عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف) کیساتھ قرضے کا حالیہ معاہدہ حکومت پاکستان کا آخری معاہدہ ہوگا۔

اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اسد عمر نے کہا کہ معاشی اعشاریے حوصلہ افزاء نظر آ رہے ہیں، معیشت کے مختلف شعبوں میں پیشرفت ہوئی ہے اور صنعتوں میں پیداواری سرگرمیوں میں اضافہ ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بیرونی ترسیلات زر میں 13 فیصد اضافہ ہوا ہے، مہنگائی کی شرح 14 فیصد سے کم ہو کر 12.4 فیصد پر آ چکی ہے، صنعتی شعبے میں شرح نمو مثبت ہو چکی ہے ، ملک میں تعمیراتی سرگرمیوں میں اضافے کی وجہ سے سیمنٹ کی فروخت میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

وفاقی وزیر برائے منصوبہ و بندی و ترقی کا کہنا تھا کہ رواں سال سی پیک کے تحت تین نئے اقتصادی زونز قائم کیے جا ئیں گے، یہ سی پیک  کا اہم ترین حصہ ہیں، پاکستان بیرونی سرمایہ کاری مرکز بن رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے:

گزشتہ 6سالوں کی نسبت صرف 8ماہ  میں ترقیاتی اخراجات کے استعمال میں 39فیصد اضافہ ہوا: اسد عمر

وقت کے ساتھ نجی شعبے کو بھی سی پیک منصوبوں میں شامل کیا جائے گا: اسد عمر

اسد عمر کی ایک بار پھر اپنی ہی حکومت پر تنقید

جڑواں شہروں کے مسائل پر بات کرتے ہوئے اسد عمر نے کہا کہ اسلام آباد میٹرو بس سروس پر جاری کام رواں ماہ کے دوران ہی مکمل ہو جائے گا۔ پانی کی قلت کے حوالے سے ان کاکہنا تھا کہ اسلام آباد اور راولپنڈی خان پور ڈیم سے 103 ملین گیلن پانی حاصل کر سکتے ہیں جبکہ ابھی تک دونوں شہروں کو 205 ملین گیلن پانی دیا جا رہا ہے۔

اسد عمر نے کہا کہ جڑواں شہروں کو 100 ملین گیلن مزید پانی سپلائی کیلئے انفراسٹرکچر کا ایک اور منصوبہ بھی زیر غور ہے جبکہ پانی کی چوری روکنے کیلئے ایک کمیٹی بنائی جا چکی ہے۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ اسلام آباد اور راولپنڈی کو غازی بڑوتھا ہائیڈروپاور پروجیکٹ سے پانی فراہمی کی ایک سکیم کی منظوری دی جاچکی ہےجس کی فزیبلٹی تیار کی جا رہی ہے جبکہ عالمی معیار کا مشیر مقرر کرنے کیلئے اشتہار بھی دیا جا چکا ہے، منصوبے سے آئندہ تین سے چار سالوں میں پانی کی ترسیل شروع ہو جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ خان پور ڈیم سے بھی پانی سپلائی کا منصوبہ رواں سال کے آخر تک مکمل ہو جائے گا،یوں دونوں منصوبوں کی تکمیل سے وفاقی دارالحکومت کو 135 ملین گیلن پانی روازنہ کی بنیاد پر ترسیل کیا جا سکے گا۔

اسد عمرنے کہا کہ وفاقی حکومت کراچی میں پانی فراہمی کے لیے کے فور اور ٹرانسپورٹ کیلئے کراچی سرکلر ریلوے کے منصوبوں کیلئے ہر ممکن تعاون کرے گی، مرکزی حکومت کراچی میں لیاری ایکسپریس وے، ناردن بائی پاس اور ریلوے فرائٹ کوریڈور پر بھی کام کر رہی ہے جبک گرین لائن منصوبہ رواں سال کے دوران ہی مکمل ہو جائے گا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here