ٹڈی دَل تباہی مچانے لگے، پاکستانی کسانوں کو شدید مشکلات کا سامنا

125

اسلام آباد:  پاکستان میں کسان گزشتہ 30 سال سے زرعت کے حوالے سے مسائل کا سامنا کر رہے ہیں اور ہر سال یہی  امید کرتے ہیں کہ اُنہیں محنت کا ثمر ملے گا لیکن ایسا کم ہی ہو پاتا ہے، رواں سال کسانوں کو ٹڈی دَل جیسی آفت کا سامنا ہے۔  

ٹڈی دَل سے پیدا ہونے والے بحران کے پیش نظر حکومت پاکستان نے ملک بھر میں ایمرجنسی کا اعلان کیا ہے اور انٹرنیشنل کمیونٹی سے فی الفور مدد کی درخواست کی ہے۔

اقوامِ متحدہ کے مطابق گزشتہ سال سے جزیرہ عرب میں ہونے والی شدید بارشوں اور طوفانوں کے باعث ٹڈی دَل کی افزائش میں غیر متوقع حد تک اضافہ ہوا جس کے بعد ٹڈی دل کے ہجوم نے پہلے  مشرقی افریقہ سے انڈیا کی طرف دھاوا بولا اور پھر وہاں سے ایران کے جنوب مغربی بارڈر سے ہوتے ہوئے پاکستان میں بھی کھیتوں پر تباہ کن اثرات مرتب کیے ہیں۔

جنوبی سندھ میں افسران کو خدشہ ہے کہ ٹڈی دَل کے پےدر پے حملوں سے کپاس کی سپلائی اور آئندہ مہینوں میں مقامی فصلیں کٹائی سے پہلے ہی تباہ ہوجائیں گی۔

یہ بھی پڑھیے:

پاکستان ٹڈی دل کے خلاف ’جنگ‘ کیلئے ایک لاکھ چینی بطخوں کی فوج منگوائے گا

ٹڈی دل کا فصلوں پر حملہ ، حکومت نے چین سے مدد مانگ لی

کسانوں کا فصلوں کو ٹڈی دل سے بچاؤ کے لیے انشورنس کا مطالبہ

چینی ماہرین ٹڈی دل کا مقابلہ کرنے کے لیے پاکستان پہنچ گئے

سندھ چیمبر آف ایگریکلچر کا کہنا ہے کہ کراچی کے قریب آدھی سے زیادہ فصلیں تباہ ہو چکی ہیں جبکہ محکمہ زراعت کے ایک افسر شہباز اختر کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنے کیرئیر میں ٹڈی دل کی اتنی بڑی تعداد کبھی نہیں دیکھی، شہباز اختر کو وسطی پنجاب کے ایک گاؤں پپلی پہر میں ٹڈی دَل کو ختم کرنے کا چارج دیا گیا ہے۔

ٹڈی دل کے خلاف آپریشن:

محکمہ زراعت کے عہدیدار نے کہا کہ مقامی زمینداروں نے ٹڈی دَل کے حملوں کی زد میں آنے والے کھیتوں کو کیڑے مار سپرے سے کلئیر کرنے کے لیے آپریشن کا آغاز کیا تھا،سپرے سے ہر صبح زہریلی گیسوں کے بادل آسمان پر چھا جاتے ہیں، گاؤں کے باشندے مردہ ٹڈیوں کو اکٹھا کرکے فی بیگ 20 روپے میں فروخت کرتے ہیں۔

افسران کی جانب سے ٹڈی دَل کو مارنے والا سپرے استعمال کے لیے بھی خطرناک ہے، حتیٰ کہ کیڑوں کے مرنے سے باقی فصلوں کو بھی تلف کرنا پڑتا ہے۔

تاہم، پاکستان نے زراعت کےشعبے میں ایمرجنسی نافذ کرنے کے بعد انٹرنیشنل کمیونٹی سے رابطے تیز کردیے ہیں تاکہ فصلوں کو بچانے کے علاوہ پیداواری مسائل پر جلد سے جلد قابو پایا جا سکے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here