ٹیکس چوری، آمدن سے زائد اثاثے رکھنے پر  ایف بی  آر نے 100 ڈاکٹروں کو نوٹسز جاری کردئیے

150

پشاور: فیڈرل بورد آف ریونیو (ایف بی آر) نے خیبرپختونخوا میں آمدن سے زائد اثاثے رکھنے والے 100 کو ٹیکس کے نوٹسز جاری کردئیے ہیں۔

ایف بی آر خیبر پختونخوا کے مطابق پشاور، ایبٹ آباد، بنوں اور مردان سمیت مختلف اضلاع سے 100 سے زائد ایسے ڈاکٹر ہیں جن کے ٹیکس ریٹرن کم اور آمدن زائد ہے۔

ایف بی آر کے مطابق ٹیکس جمع نہ کرانے والے ڈاکٹروں کی تعداد ہزاروں میں ہے جن کے خلاف مرحلہ وار کاروائی کی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیے:

88 ارب روپے ٹیکس کی وصولی مشکلات کا شکار، ٹیکس نادہندگان نے ایف بی آر کے خلاف کورٹ کا رُخ کر لیا

ایف بی آر کا رئیل اسٹیٹ، جواہرات اور زیورات کے بزنس سے وابستہ افراد کے گرد گھیرا تنگ کرنے کا فیصلہ

ایف بی آر کی کارروائی، 31 ارب روپے مالیت کی 146بے نامی جائیدادیں ضبط

خیبر پختونخوا میں آمدن سے کم ٹیکس دینے والے ڈاکٹروں کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے اب آڈٹ کیلئے منتخب کر لیا ہے جس کے بعد سکروٹنی کا مرحلہ شروع کیا جائے گا۔

 پشاور کے شہریوں نے ڈاکٹروں کے خلاف حکومت کے اس اقدام کو خوب سراہا اور سخت کارروائی کا مطالبہ بھی کر دیا۔

2019 میں ایف بی آر نے کراچی میں بڑے ہسپتالوں کو نوٹسز جاری کیے تھے کہ وہ اپنے یہاں کام کرنے والے ڈاکٹروں کی آمدن ظاہر کریں۔

ایف بی آر کے مطابق پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی )کیساتھ رجسٹرڈ ہونے کے باوجود ڈاکٹرز اور سرجنز کی ایک بڑی تعداد ٹیکس چوری میں ملوث ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here