کیا پی بی آئی ٹی پنجاب کو سرمایہ کاری کا مرکز بنانے کے حوالے سے فیصلہ کن کردار ادا کر پائے گا؟

قریباً ایک دہائی قبل قائم ہونے والا یہ ادارہ اس وقت قانون کی تشکیل کے علاوہ سرمایہ کاروں کو مشاورت بھی فراہم کر رہا ہے کہ ان کو کہاں سرمایہ کاری کرنی چاہئے اور کہاں نہیں؟ ادارے کے سربراہ جہانزیب برانا کی کیا منصوبہ بندی ہے؟

1221

پنجاب حکومت نے 2009 میں پنجاب بورڈ آف ریونیو اینڈ ٹریڈ (پی بی آئی ٹی) قائم کیا۔ مشرف کے دور حکومت کو ختم ہوئے زیادہ عرصہ نہیں ہوا تھا اور پنجاب میں مسلم لیگ نواز برسرِاقتدار تھی اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کا تصور عام تھا۔

پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تصور کی مقبولیت میں اب بھی کوئی کمی نہیں آئی۔ یہ ان تصورات میں سے ایک ہے جس پر ہر کوئی رضامند ہے لیکن کسی نے بھی اس بارے میں کچھ نہیں کیا۔ پی بی آئی ٹی کے قیام کو آپریشنل ہوئے ایک دہائی سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے اور یہ ایک دلچسپ تجربہ رہا ہے۔

پی بی آئی ٹی کی بنیادی ذمہ داری صوبے میں نئی سرمایہ کاری کے لیے راہ ہموار کرنے کے علاوہ پہلے سے موجود مقامی سرمایہ کاری کے مواقع کو فروغ دے کر مضبوط کرنا، کاروبار کرنے کے لیے آسانیاں پیدا کرنا اور ایک کاروباری مقام کے طور پر پنجاب کی نمایاں خصوصیات کو اجاگر کرنا ہے۔ پی بی آئی ٹی پنجاب حکومت کا ذیلی ادارہ ہے جو حکومت کی بجائے نجی کمپنیوں اور سرمایہ کاروں کو مشورے دیتا ہے۔

مزید پڑھیں: پاکستانی تجارتی وفد کی سرمایہ کاری کے نئے مواقع کی تلاش میں برطانیہ روانگی

اگرچہ یہ اس کی ذمہ داری ہے کہ وہ سرمایہ کاری کو فروغ دے بلکہ حقیقت پسندانہ طور پر ممکنہ سرمایہ کاروں کو مشورہ بھی دے کیوں کہ پی بی آئی ٹی کی ذمہ داری کا تعلق اعتماد سے ہے۔ سرمایہ کاروں کو لازمی طور پر اپنے ایڈووکیٹس پر اعتماد ہونا چاہئے اور وہ پنجاب حکومت میں انہیں اپنا رابطہ خیال کریں۔

یہ بالخصوص ایک دلچسپ تصور ہے کیوں کہ یہ صوبے میں اپنی طرز کا اولین منصوبہ ہے۔ پی بی آئی ٹی انٹرنیشنل پروموشن ایجنسی (آئی پی اے) کے ایک حصے کے طور پر قائم ہوا۔ ایسا دوسرا واحد بورڈ قومی سطح کا بورڈ آف انوسٹمنٹ (بی او آئی) ہے جو اکتوبر 1992 میں آئی پی اے کے تحت قائم کیا گیا۔ اگرچہ پی بی آئی ٹی 2009 میں قائم کیا گیا جب کہ صوبہ خیبرپختونخوا نے بھی اپنا انوسٹمنٹ بورڈ قائم کیا لیکن اسے کوئی بہت زیادہ عوامی توجہ حاصل نہیں ہوئی۔ تاہم، پنجاب میں قائم کیا گیا بورڈ سرگرم رہا۔

لیکن فعال ہونا اور پریس ریلیزز جاری کرنا ایک چیز ہے اور کامیابی اور افادیت کے معنی کچھ اور ہے۔ حالیہ برسوں کے دوران پی بی آئی ٹی بہتری لانے کی کوشش کرتی رہا ہے اور اس سارے عمل کی قیادت کرنے والے اس کے چیئرمین جہانزیب برانا ہیں۔ پرافٹ نے ان کے ساتھ پی بی آئی ٹی کے سفر کے بارے میں بات کی، اس کی کارروائیوں کا دائرہ کار زیرِبحث آیا اور اس کے مستقبل کے منصوبوں پر بات ہوئی۔

مزید پڑھیں: سرمایہ کاری کیلئے پورے خطے میں پاکستان سب سے آزادانہ ماحول فراہم کر رہا ہے

جہانزیب برانا کہتے ہیں، پی بی آئی ٹی میں ہم یہ یقینی بنانے کی جستجو کر رہے ہیں کہ یہ ٹرانسفورمیشن دیرپا اور پراثر ہو اور حقیقت یہ ہے کہ ادارے میں اس حوالے سے ایک مضبوط میکانزم موجود ہے۔ ان کا یہ بیان سادہ طور پر رسمی نوعیت کا بھی ہو سکتا تھا۔ ان کے الفاظ بے معنی نہیں ہیں لیکن انہوں نے افسرِ شاہی کی طرح نہایت اختیاط کے ساتھ الفاظ کا چنائو کیا۔

انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا، پی بی آئی ٹی پنجاب کی عالمی مسابقت اور کاروباری سرگرمیوں کا دائرہ کار بڑھانے کے لیے پرجوش ہے اور ہم نے اس کے لیے مینڈیٹ تخلیق کیا ہے۔ پی بی آئی ٹی میں تعیناتی سے قبل جہانزیب برانا کا کیریئر نہایت شاندار رہا ہے۔ انہوں نے لاہور یونیورسٹی سے معاشیات میں انڈرگریجویٹ کی ڈگری حاصل کی جس کے بعد امریکا کے ہارورڈ بزنس سکول سے ایم بی اے کیا۔

انہوں نے اس شاندار تعلیمی پس منظر کے ساتھ سان فرانسسکو سے انوسٹمنٹ کے شعبہ میں اپنا کیریئر شروع کیا، وہ ایک سوشل امپیکٹ وینچر انوسٹمنٹ فنڈ میں کام کرتے تھے۔ انہوں نے بعدازاں زیوریخ کے ایک نجی ایکویٹی فنڈ کے سنگاپور دفتر میں ملازمت اختیار کر لی جو ایشیا میں ایس ایم ایز میں سرمایہ کاری کرتی ہے۔

مزید پڑھیں: بیرونی سرمایہ کار پاکستان میں سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے حکومتی پالیسیوں کے معترف

جہانزیب برانا پی بی آئی ٹی میں شمولیت اختیار کرنے سے قبل اسلامک ڈویلپمنٹ بنک کی ڈائریکٹ انوسٹمنٹ ٹیم کا حصہ تھے، یہ ایک کثیر الجہتی معاشی ادارہ ہے جس کا ہیڈکوارٹر جدہ میں ہے۔ وہ اس وقت پنجاب حکومت کے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت قائم کیے گئے مختلف بورڈز میں بھی کام کر رہے ہیں جن میں پنجاب انڈسٹریل سٹیٹ ڈویلپمنٹ اینڈ مینجمنٹ کمپنی اور پبلک سیکٹر کے کچھ دیگر ادارے شامل ہیں۔

لیکن ایک نمایاں شخص کی جانب سے سپاٹ نوعیت کے جواب دینا مایوس کن ہوتا ہے جس کے باعث یہ ہمیشہ سکون کا باعث ہوتا ہے کہ اس کی اپنی بھی کوئی سوچ ہے اور سب سے اہم یہ ہے کہ وہ یہ جانتا ہے کہ وہ جس ادارے کا سربراہ ہے، وہ کس طرح چلایا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا، پنجاب نے کبھی خود کو سرمایہ کاری کا مرکز ثابت نہیں کیا۔ پنجاب کا تاثر ایک زرعی صوبے کا ہے جسے جہانزیب برانا تبدیل کرنا چاہتے ہیں اور اسے ایک صنعتی مرکز بنانا چاہتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں، ہم اب حقیقتاً اس سمت میں کوشش کر رہے ہیں اور سرمایہ کاروں کو پنجاب میں لا رہے ہیں۔ ہماری اس کے علاوہ بھی ذمہ داریاں ہیں جیسا کہ ان کاروباری اداروں اور انٹراپرینورز کی معاونت کرنا جو پنجاب میں مینوفیکچرنگ اور سروسز سیکٹرز میں سرمایہ کاری کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ لیکن بنیادی تصور یہ ہے کہ خصوصی معاشی زونز قائم کر کے ایک موزوں ماحول کو فروغ دیا جائے۔

مزید پڑھیں: توانائی کی شعبے میں 100 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری آنے والی ہے: عمر ایوب کا دعویٰ

ان سے اس بارے میں گفتگو سن کر پی بی آئی ٹی ایک ایسے ادارے کے طور پر ابھرتا ہے جو پنجاب میں صنعت اور سرمایہ کاری کے فروغ کی ضرورت ہے۔ پی بی آئی ٹی کی جانب سے فراہم کی جانے والی خدمات کی فہرست میں سرمایہ کاری کے مواقع کے حوالے سے معلومات فراہم کرنے کے علاوہ ان کمپنیوں کو معاونت فراہم کرنا ہے جو جوائنٹ وینچر پارٹنرز کی تلاش میں ہیں۔ ان حالات کا باریک بینی سے تجزیہ کیا جائے تو پی بی آئی ٹی سرمایہ کاری لانے کے لیے پنجاب کی مارکیٹنگ ٹیم کا کردار ادا کر رہا ہے اور صوبے میں سرمایہ کاری کے فروغ کا ذمہ دار ہے اور صوبے کو دنیا بھر میں ایشیا میں سرمایہ کاری کے لیے ایک بہترین مقام کے طور پر پروموٹ کر رہا ہے۔

خصوصی معاشی زونز اور سرمایہ کاری کے حوالے سے معاونت

اگر پبلک پرائیویٹ شراکت داری ایک شاندار تصور ہے تو خصوصی معاشی زونز کا اس تناظر میں اہم ترین کردار ہے۔ ان کے بارے میں سی پیک کے تناظر میں تو ہر کوئی بات کر سکتا ہے اور پی بی آئی ٹی پنجاب میں اپنا خصوصی معاشی زون بنانا چاہتا ہے۔ جیسا کہ پنجاب میں اس کی سپیشل اکنامک زونز (ایس ای زیز) اتھارٹی موجود ہے، ادارہ درخواستوں کا جائزہ لینے کا ذمہ دار ہے یا ڈویلپرز کی جانب سے جمع کروائے جانے والے پروپوزل کی بنیاد پر یہ تعین کرنے کرنے کا اختیار رکھتا ہے کہ ان کا انڈسٹریل پارک خصوصی معاشی زون میں ہے یا نہیں۔

خصوصی معاشی زونز میں مشینری، آلات، سپیئر پارٹس اور قابلِ استعمال سامان کی درآمد کی امپورٹ ڈیوٹی پر ایک بار مستثنیٰ ہے، اور پی بی آئی ٹی درخواست گزار کی حیثیت کے تعین کے حوالے سے تصدیقی خط جاری کرنے کا ذمہ دار ہے جس کے بعد درخواست گزار متعلقہ محکمے، ایجنسی میں استثنیٰ کا دعویٰ کرے گا۔

جہانزیب برانا وضاحت کرتے ہیں، سرمایہ کار پی بی آئی ٹی کے افسروں کے ساتھ بات کرتے ہوئے ہمیشہ آسانی محسوس کرتے ہیں۔ وہ پی بی آئی ٹی سے اہم سرکاری اور نجی منصوبوں کے حوالے سے معلومات حاصل کر سکتے ہیں، سیکٹر کے حوالے سے پالیسی فریم ورک کے بارے میں آگہی حاصل کر سکتے ہیں، اس وقت دستیاب فوائد کے بارے میں جان سکتے ہیں، فنانسنگ آپشنز کے بارے میں معلوم کر سکتے ہیں اور تجارتی شماریات وغیرہ کے بارے میں معلومات لے سکتے ہیں۔

ایک بار پھر پی بی آئی ٹی کا کردار بہ ظاہر ایک ایسے معاون کے طور پر ابھرتا ہے جو سرمایہ کاری کے لیے سہولیات فراہم کرتا ہے۔ اگرچہ یہ حقیقت ہے کہ یہ سرکاری خزانے سے تنخواہیں وصول پانے والا بورڈ ہے تاہم یہ محض اسی صورت میں کوئی کام کرتا ہے جب اس کی ساکھ ایک اچھے مشیر کی ہو، وہ حکومت کے کان ہوں جو سرمایہ کاروں کی نمائندگی کرتے ہوئے حکومت کے ساتھ بہتر ڈیل کر سکیں، اس کے بجائے کہ معاملہ اس سے مختلف ہو۔

مزید پڑھیں: سرمایہ کاری میں دوگنا اضافہ کرکے پاکستان2025-30ء کے دوران7فیصد شرح نمو حاصل کرسکتا ہے: عالمی بینک

جہانزیب برانا کہتے ہیں، ہمارا مینڈیٹ سرمایہ کاری لانا ہے۔ کوئی بھی سرمایہ کار جو سرمایہ کاری کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے، تو ایک ترتیب سے سرگرمی انجام دیے جانے کی ضرورت ہوتی ہے اور ہمارا مقصد ایسی ہی سہولیات فراہم کرنا ہے۔ پنجاب ایک ایسا صوبہ ہے جہاں بہت سی سرمایہ کاری آ رہی ہے اور اس وقت پائپ لائن میں ایک اندازے کے مطابق 3.2 ارب روپے ڈالر کی سرمایہ کاری موجود ہے اور کچھ منصوبے آن گرائونڈ ہیں۔

3.2 ڈالر کی سرمایہ کاری اس وقت پنجاب میں ہو رہی ہے جس بارے میں کسی حد تک کچھ معلوم نہیں لیکن یہ بہت بڑی سرمایہ کاری ہے۔ یہ سرمایہ کاری سرامکس، ٹائلز، کمرشل ٹرکوں، گلاس مینوفیکچرنگ اور دیگر بہت سے شعبوں میں ہو رہی ہے۔

جہانزیب برانا نے کہا، ہم نے دو منصوبوں میں سرمایہ کاری کرنے کے تناظر میں معاونت فراہم کی ہے۔ ایک ٹرک کے ٹائروں کی مینوفیکچرنگ اور دوسرا، گارمنٹس کا منصوبہ ہے۔  گارمنٹس کے منصوبے کا پرامید طور پر وزیراعظم عمران خان اپریل میں افتتاح کریں گے اور یہ کمپنی پوما، ایڈیڈاس وغیرہ کے لیے کھیلوں کے ملبوسات تیار کرے گی۔

انہوں نے مزید کہا، اس کمپنی کا ٹرن اوور 200 ملین امریکی ڈالر ہے اور یہ ایک شنگھائی بیسڈ کمپنی ہے جو اپنے گارمنٹ یونٹس ملتان روڈ، لاہور پر لگا رہی ہے۔ ہم ان کو ایک بڑا قطعہ اراضی نجی خصوصی معاشی زون کے طور پر لے کر دینے میں مدد کر رہے ہیں کیوں کہ وہ یہ چاہتے ہیں کہ وہ سب کچھ اپنے طور پر کریں۔

لیکن جیسا کہ جہانزیب برانا خود تسلیم کرتے ہیں کہ اگرچہ 3.2 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کچھ کم سرمایہ کاری نہیں ہے، لیکن اسے غیر معمولی سرمایہ کاری بھی نہیں کہا جا سکتا جس کی پنجاب اور ملک کو ضرورت ہے۔ یہ ایک بڑی رقم ہے لیکن اگر ملک کے جی ڈی پی سے اس کا موازنہ کیا جائے تو یہ اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر ہے۔ یہ بھی مسئلہ ہے کہ یہ 3.2 ارب ڈالر ایک دن یا ایک سال میں نہیں لگائے جائیں گے بلکہ یہ چند برسوں کے دوران استعمال ہوں گے۔

انہوں نے وضاحت کی، یہ پاکستان کے لیے چیلنج ہے کیوں کہ اگر ہم ایف ڈی آئی کو جی ڈی پی کے تناسب کے طور پر دیکھیں تو یہ ایک شرح ہے جس کی عالمی سطح پر نگرانی کی جاتی ہے جو کبھی ایک یا 1.2 فی صد سے زیادہ نہیں رہی اور گزشتہ 40 برسوں سے یہ اوسط ہی برقرار رہی ہے۔ 2006 اور 2007 میں مختلف وجوہات کے باعث سب سے تناسب 3 فی صد تھا لیکن عملی طور پر نمونہ ایک سے ایک اعشاریہ دو فی صد کے درمیان ہی برقرار رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا، ترقی یافتہ ملکوں کی صحت مند معیشت کی ایف ڈی آئی کی شرح چار سے پانچ فی صد ہوتی ہے۔ ہماری ایف ڈی آئی کی شرح سٹیٹ بنک آف پاکستان کے اعداد و شمار کے مطابق دو سے ڈھائی ارب ڈالر کے درمیان رہی ہے۔ پاکستان میں سرمایہ کاری کی شرح قریباً 15 فی صد ہے جو دنیا بھر میں اور جنوبی ایشیا میں بھی سب سے کم ہے کیوں کہ بنگلہ دیش میں یہ شرح 30 فی صد ہے۔ جی ڈی پی سے موازنہ کیا جائے تو ہماری ڈومیسٹک سرمایہ کاری نہایت کم ہے۔ یہ چیزیں ایک دن میں ٹھیک نہیں ہو سکتیں اور ان پر لازمی طور پر کچھ وقت صرف ہو گا۔

مڈل مین کا کردار ہی کیوں؟

پی بی آئی ٹی چناں چہ بہ ظاہر ایک ایسے مڈل مین کا کردار ادا کر رہا ہے جو سب فریقوں کے لیے بہترین کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ یہ پنجاب حکومت کی نمائندگی کرتا ہے لیکن اسے سرمایہ کاروں کے مفادات کا خیال بھی رکھنا ہوتا ہے۔ لیکن جیسا کہ اس کے چیئرمین دعویٰ کرتے ہیں کہ بورڈ دراصل سرمایہ کاری کی سائیکل میں ایک نمایاں کردار ادا کرتا ہے۔

انہوں نے کہا، سرمایہ کاری کی اپنی ایک لائف سائیکل ہوتی ہے۔ مارکیٹ کا جائزہ لینا اور سرمایہ کاری کرنا سرمایہ کار کے لیے ایک مکمل سائیکل ہے۔

سرمایہ کار جب بورڈ کا رُخ کرتے ہیں تو کچھ محض مارکیٹ کا سرسری سا جائزہ لینے آتے ہیں۔ دیگر زیادہ سنجیدہ سرمایہ کار اس وقت آتے ہیں جب ان کو ماحول سازگار محسوس ہوتا ہے لیکن انہیں این او سی وغیرہ حاصل کرنے کی طرح کے مسائل درپیش ہوتے ہیں۔ اس وقت بورڈ  آگے بڑھتا ہے اور سرمایہ کار کی مدد کرتا ہے۔

جہانزیب برانا نے کہا، اس وقت بہت سی سرمایہ کاری پائپ لائن میں ہے اور ان کے ایشوز ترجیحی بنیادوں پر حل کیے جا رہے ہیں۔ ان کے مسائل جیسے ہی حل ہوتے ہیں، وہ اپنی کمپنی  کا آغاز کر دیں گے۔

یوں، پی بی آئی ٹی کا کردار دو جہتی ہو جاتا ہے جیسا کہ اس کا اولین حصہ مشاورت سے متعلق ہے اور دوسرا کردار یہ ہے کہ یہ ایک مرکز کا کردار ادا کر رہا ہے جو سرمایہ کاروں کی مدد کرتا ہے اور حکومت پنجاب ان کی بات سنتی ہے۔

جہانزیب برانا کہتے ہیں، ہمارا ایک کردار تو سرمایہ کاری کے حوالے سے مشاورت سے متعلق ہے اور دوسرا آئی پی اے اب تک یہ کام نہیں کر رہا لیکن پی بی آئی ٹی ایسا پہلا ادارہ ہے جو یہ کام کر رہا ہے۔ کوئی سرمایہ کار جب آتا ہے تو وہ سرمایہ کاری کے بارے میں ٹھوس معلومات حاصل کرنا چاہتا ہے۔ دو طرح کے سرمایہ کار ہیں۔ ایک سرمایہ کار تو وہ ہوتے ہیں جنہیں مارکیٹ کے بارے میں آئیڈیا ہوتا ہے اور وہ یہ جانتے ہیں کہ کس طرح اور کہاں سرمایہ کاری کرنی ہے۔ دوسری طرح کے سرمایہ کاروں کو مارکیٹ کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہوتا اور وہ پی بی آئی ٹی کا رُخ اس لیے کرتے ہیں تاکہ مارکیٹ سے متعلق معلومات حاصل کرنے کے علاوہ کاروباری ماحول کو بھی سمجھ سکیں۔ ہم ان کی رہنمائی کرتے ہیں کہ وہ کہاں سرمایہ کاری کریں۔

یہ وہ پہلو ہے جہاں بورڈ کا کردار پی آر یا مارکیٹنگ ایجنسی کا نہیں رہتا کیوں کہ ان کے پاس کوئی مخصوص منصوبے نہیں اور نہ ہی فروخت کے لیے خاص نوعیت کی کوئی مصنوعات ہیں۔ ان کی ذمہ داری سرمایہ کار کے لیے پنجاب میں کہیں بھی درست سرمایہ کاری تلاش کرنا ہے اور یہ پنجاب کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسی سرمایہ کاری فراہم کرے۔

پی بی ای ٹی کے سربراہ کہتے ہیں، پی بی آئی ٹی کے پاس مارکیٹ کرنے کے لیے مخصوص پراجیکٹ نہیں ہیں اور یہ محض سرکاری منصوبوں کے حوالے سے ہی قائل کرتی ہے۔ حکومت کے پاس بھی حتیٰ کہ پائپ لائن میں منصوبے موجود نہیں ہے جہاں نجی شعبہ پبلک پرائیویٹ منصوبوں میں سرمایہ کاری کرے۔

انہوں نے مزید کہا، ہم نے چناں چہ تین طرح کی سرمایہ کاریوں پر توجہ مبذول کی ہے جن میں جی ٹو جی، جی ٹو بی اور بی ٹو بی شامل ہیں۔ ہم کوئی ایسا ادارہ نہیں ہیں جو منصوبے سپانسر کرتا ہو یا ان پر عملدرآمد کرے اور ہمارے پاس محدود بجٹ ہی ہے۔ چناں چہ، اس تناظر میں ہم حکومت سے یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ ہمیں فنڈز فراہم کرے جس کے باعث ہم نے یہ انوسٹمنٹ ایڈوائزری فنکشن شروع کیا ہے اور اب ہم نجی شعبہ کے لیے سرمایہ کاری کے مواقع کی نشاندہی کرتے ہیں اور ان کے لیے فزیبلٹی رپورٹس بناتے ہیں اور مشاورتی کردار کے ذریعے ان کا کاروبار شروع  کرنے اور مارکیٹ میں سرمایہ کاری کرنے میں ان کی مدد کرتے ہیں۔

سٹریٹیجک سرمایہ کاریاں

چیزوں کے عملی رُخ کا جائزہ لیا جائے تو پی بی آئی ٹی بجٹنگ کے لیے اپنے طور پر ان ہائوس اہلیت استعمال کرتی ہے۔ اسی طرح، بورڈ جنوبی پنجاب میں صحت کے منصوبوں کی فزیبلٹی اور فنانشنل ماڈلنگ پر کام کر رہا ہے جو سات ارب روپے کا منصوبہ ہے۔

جہانزیب برانا کہتے ہیں، ہم اس منصوبے کے لیے مقامی سرمایہ کاروں سے رابطہ کر رہے ہیں۔ اگر اس طرز کے منصوبے کے لیے کسی کمپنی کے ذریعے مارکیٹنگ کروائی جائے تو وہ حکومت سے اچھی خاصی رقم وصول کرے گی۔ ہماری سرمایہ کاروں سے بڑی تفصیلی بات چیت ہوئی ہے کیوں کہ ہم نے سرمایہ کاروں کے لیے فزیبلٹی رپورٹ اور معاشی منصوبے بنانے پر سخت محنت کی ہے۔ ہم سرمایہ کار کو حقیقی آئیڈیاز فراہم کرتے ہیں اور غیر حقیقی آئیڈیاز پیش نہیں کرتے۔

ان دنوں پی بی آئی ٹی اس نوعیت کی سٹریٹیجک سرمایہ کاری پر توجہ مبذول کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ سٹریٹیجک اقدامات وہ اقدامات ہوتے ہیں جو سرمایہ کاری میں ایک منظم بہتری لاتے ہیں کیوں کہ مجموعی سرمایہ کاری کے ماحول کو اس وقت فطری بہتری کی ضرورت ہے۔

جہانزیب برانا نے کہا، یہ قوانین برطانوی راج کے دور میں تشکیل پائے جن پر نظرثانی نہیں کی گئی چناں چہ ان قوانین میں بڑے پیمانے پر اصلاحات کی ضرورت ہے۔ یہ قوانین ہی ہیں جو سرمایہ کاری کی نوعیت تک تبدیل کر سکتے ہیں، ہم کاروبار کے حوالے سے جس قدر آسانیاں پیدا کریں گے، کاروباری سرگرمیاں اس قدر ہی ترقی کریں گی۔  سرمایہ کار کا آنا اور سرمایہ کاری کرنے کے درمیان وقفے کی وضاحت قوانین کرتے ہیں تاہم، یہ ضروری ہے کہ یہ کاروبار دوست ہوں۔

انہوں نے مثال دی کہ جب بورڈ نے تجویز دی کہ وہ قوانین کی اصلاحات کے منصوبے کی قیادت کر سکتے ہیں تو مارچ 2019  میں پاکستان کے وزیراعظم نے عبدالرزاق دائود اور عشرت حسین کی قیادت میں پاکستان ریگولیشنز موڈرنائزیشن انیشو ایٹیو شروع کیا۔

انہوں نے مزید کہا، یہ اب وفاقی سطح کا منصوبہ بن چکا ہے اور ہم خوش ہیں کہ ہمارے اس انیشو ایٹیو پر حکومت کام کر رہی ہے اور عالمی بنک بھی اب اس سارےعمل میں شامل ہو چکا ہے۔ یہ کوئی آسان چیز نہیں ہے لیکن یہ سارا عمل وقت گزرنے کے ساتھ ہو گا کیوں کہ  اس کے لیے سارے ریگولیشن پر ازسرِنو غور کرنے کی ضرورت ہے۔ ٹیم پنجاب آئے گی تو پنجاب میں کابینہ کی سطح پر اجلاس ہو گا تاکہ منصوبے پر پیشرفت دیکھی جا سکے۔

پی بی آئی ٹی کن شعبوں میں سرمایہ کاری کرنے میں سنجیدہ ہے؟

بورڈ کے سٹریٹیجک انیشو ایٹیوز کے تحت ایک اور منصوبہ بھی اس کے دائرہ کار میں آتا ہے جو ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اصلاح کے حوالے سے ہے۔ یہ ایک بڑا سوال ہے اور پنجاب یا کہیں بھی ٹیکنالوجی کمپنیاں قابل قبول سطح پر نہیں پہنچیں۔ وہ اب بھی بہت پیچھے ہیں، پی بی آئی ٹی یہ دعویٰ کرتا ہے کہ گزشتہ چار برسوں میں اس کی کوششوں کے باعث اس حوالے سے خاصی بہتری آئی ہے۔

جہانزیب برانا کہتے ہیں، اس حوالے سے آگاہی میں اضافہ ہوا ہے اور کچھ کردار کمپنیوں جیسا کہ زمین ڈاٹ کام، پاک وہیلز، او ایل ایکس وغیرہ نے ادا کیا ہے۔ اس سیکٹر میں اب ایئر لفٹ، کار فرسٹ وغیرہ بھی اپنا آپ منوا چکی ہیں اور یہ وہ سیکٹر ہے جو ترقی کر رہا ہے اور اس میں ملازمت کے لاتعداد مواقع موجود ہیں اور یہ متحرک ہے۔

انہوں نے مزید کہا، ہمارے پاس 1947 کے قوانین ہی چلے آ رہے ہیں جن میں آئی ٹی سیکٹر کی کوئی گنجائش ہی نہیں۔ اسی طرح ہمارے پاس ایسے کوئی قوانین موجود نہیں جو کریم اور اوبر کی سروسز کا احاطہ کریں۔ چناں چہ ان سیکٹرز کو سہولت پہنچانے کے لیے قوانین کو ماڈرنائز اور ان کی اصلاح کرنے کی ضرورت ہے تاکہ یہ شعبے بھی قانونی دائرہ کار میں لائے جا سکیں۔

جہانزیب برانا نے کہا، ہم نے ایک سال متعلقہ سٹیک ہولڈرز جیسا کہ حکومت، آئی ٹی کمپنیوں اور ان کمپنیوں جیسا کہ اوبر اور کریم کے ساتھ کام کیا ہے تاکہ ان قوانین اور اصلاحات میں ترامیم کر سکیں۔

لیکن ایک جانب اگر ادارہ قانون سازی کر رہا ہے اور ٹیکنالوجی کے شعبہ میں سرمایہ کاری کے حوالے سے تجاویز دے رہا ہے تو وہ اب بھی کہیں زیادہ روایتی شعبوں میں سرگرمِ عمل ہے۔ وہ سٹریٹیجک انیشو ایٹیو میں جو اصلاح کرنے کی تجویز دے رہا ہے، وہ ایف ڈبلیو او کے لیے گارمنٹس اکنامک کاریڈور پراجیکٹ ہے۔ جہانزیب برانا کہتے ہیں، بنیادی تصور یہ ہے کہ شہروں کے ساتھ یہ معاشی زون قائم کیے جا سکیں۔ یہ ہمارا مینڈیٹ نہیں ہے لیکن یہ انیشیو ایٹیوز معاشی ترقی کے کے لیے نہایت اہم ہیں۔

انہوں نے مزید کہا، گرین فیلڈ پراجیکٹ بھی پاکستان میں کام شروع کر رہے ہیں اور حکومت نے انہیں پانچ سال کے لیے ٹیکس کی چھوٹ دی ہے۔ متعدد وجوہات کے باعث یہ پراجیکٹ سست روی کا شکار ہیں لیکن میرا خیال ہے کہ ان میں بہتری آئے گی۔

جہانزیب برانا کے مطابق، پاکستان اپنے ظاہری تاثر کے باعث بھی مشکل کا سامنا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا، پنجاب میں اس وقت سرمایہ کاری کرنا مکمل طور پر ممکن ہے لیکن بیرونی سرمایہ کار تذبذب کا شکار ہیں جس کی وجہ ملک کا ظاہری تاثر ہے۔

انہوں نے کہا، بہت سے سفرا نے ہم سے ملاقات کی اور جب انہوں نے انفراسٹرکچر جیسا کہ سڑکیں وغیرہ دیکھیں تو ان کی سوچ تبدیل ہو گئی۔ پاکستان میں بہت زیادہ ایشوز نہیں ہیں جو بیرون ملک رہنے والے لوگوں کی سوچ کا حصہ بن چکے ہیں۔ ہم قومی سطح پر بیانیے کی تشکیل کے حوالے سے پیشرفت نہیں کر پائے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ ہم نے عالمی سطح پر پاکستان کا مثبت تاثر نہیں ابھارا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here