پاکستان آٹو موٹیو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کی ’لوکل آٹو موبائل سٹینڈرڈ ‘کی مخالفت ، یورپی قوانین اپنانے پر اصرار

مقامی سٹینڈرڈ wp29کے مطابق تیار نہ کیے گئے تو مینوفیکچررز گاڑیوں کی بیرون ممالک سے جانچ کروانے پرمجبور ہوں گے جس سے ملکی خزانے کو نقصان ہوگا: ڈائریکٹر جنرل پاما

181

اسلام آباد: پاکستان میں گاڑیوں کی تیاری کے حوالے سے قواعدوضوابط کی تشکیل پر وزارت سائنس و ٹیکنالوجی  اور گاڑیاں بنانے والی کمپنیوں کے مالکان کے مابین ایک سرد جنگ کی سی کیفیت جاری ہے۔

وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چودھری نے پاکستان سٹینڈرڈز اینڈ کوالٹی کنٹرول (پی ایس کیو سی اے ) کو آٹو انڈسٹری کے سٹیک ہولڈرز کیساتھ مل کر ایک جامع ’آٹو موبائل سٹینڈرڈ‘ مرتب کرنے کیلئے تین ماہ کا وقت دیا تھا تاہم مینوفیکچررز نے اِس اقدام کی یہ کہہ کر مخالفت کی کہ حکومت کو گاڑیوں کی تیاری کے حوالے سے مقامی سطح پر کوئی معیار رائج کرنے کی بجائے عالمی قوانین کو اختیار  کرنا چاہیے۔

وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے پاکستان سٹینڈرڈز اینڈ کوالٹی کنٹرول نے پاکستان آٹو موٹیو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پاما) اور پاکستان آٹوموبائلز ڈیلز ایسوسی ایشن (پاڈا) کیساتھ ایک اجلاس رکھا جس کی صدارت فواد چودھری نے کی ، اجلاس میں وزارت سائنس، انجنئرنگ ڈویلپمنٹ آف پاکستان اور پاکستان سٹینڈرڈز اینڈ کوالٹی کنٹرول کے حکام نے شرکت کی۔

دوران اجلاس وفاقی وزیر نے پاکستان میں ناقص اور غیر معیاری گاڑیوں کی تیاری پر تحفظات کا اظہار کیا، انہوں نے کہا کہ پاکستان میں تیار کردہ گاڑی کس قدر محفوظ اور معیاری ہے اس کو جانچنے کیلئے کوئی طریقہ کار موجود نہیں۔

فواد چودھری نے سٹینڈرڈائزیشن پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایک ’جامع آٹو موبائل سٹینڈرڈ‘مرتب کیا جانا چاہیے جس کا نفاذ ملک بھر میں ہو ، اس حوالے سے پاکستان کوالٹی کنٹرول اتھارٹی کو چاہیے کہ وہ خطے کے ممالک اور عالمی سطح پر رائج قواعدوضوابط سے متعلق تحقیق کرکےاورمتعلقہ سٹیک ہولڈرز اور اس شعبے کے ماہرین کو اپنے ساتھ شامل کرکےمقامی سطح پر گاڑیوں کی تیاری کے حوالے سے جامع قوانین مرتب کرے۔

انہوں نے کہا کہ ایک بار ایسے قوانین نافذ ہو گئے تو ناصرف پاکستان میں غیر معیاری گاڑیاں بننا بند ہو جائیں گی جبکہ باہر سے درآمد کردہ گاڑیوں کی جانچ کا عمل بھی زیادہ سخت ہو جائے گا۔

یہ بھی پڑھیے:

پاکستان میں بجلی پر چلنے والی گاڑیوں کی آزمائش شروع، فی کلومیٹر لاگت محض 1.25 روپے آئے گی، کمپنی کا دعویٰ

گاڑیوں کی مینوفیکچرنگ میں کمی، محکمہ ایکسائز کے لیے ریونیو اہداف حاصل کرنا مشکل ہو گیا

ماسٹر موٹر اور فوٹون کے درمیان پاکستان میں گاڑیاں تیار کرنے کے معاہدے پر دستخط

سازگار انجنئیرنگ نے پاکستان کی پہلی الیکٹرک گاڑی کا ماڈل پیش کردیا

 

اس سے قبل وزیر سائنس و ٹیکنالوجی نے اجلاس کو بتایا کہ وہیکل ٹیسٹنگ کے لیے جدید ترین لیب نجی شعبے کی شراکت داری سے بنائی جائے گی اس حوالے سے انہوں نے پاکستان سٹینڈرڈز اینڈ کوالٹی کنٹرول کو ہدایت کی وہ نجی شعبے اور صنعتکاروں سے تعاون حاصل کرے تاکہ ایسی لیبارٹریوں کا قیام جلد از جلد عمل میں لایا جا سکے۔

پاما کے دائریکٹر جنرل عبدالوحید احمد نے اجلاس کے بعد کہا کہ گاڑیوں کی تیاری کے حوالے سے پاکستان کو یورپی قوانین WP29  سے استفادہ کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ بین الاقوامی قوانین کی پیروی کیے بغیر ہم دنیا سے پیچھے رہ جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی مصنوعات کی عالمی سطح پر پہچان کیلئے یورپی قوانین کو اختیار کرنا ناگزیر ہے ، حکومت کو چاہیے کہ پی ایس کیو سی اے کی ٹیسٹنگ لیبارٹریوں کو جدید تقاضوں کے مطابق بنایا جائے تو معیشت کو سپورٹ کیا جاسکےکیونکہ ابھی تک پاکستان سٹینڈرڈز ایند کوالٹی اتھارٹی معیاری لیبارٹریاں تیار کرنے میں ناکام رہی ہے۔

ڈائریکٹر جنرل پاما نے کہا کہ اگر مقامی سٹینڈرڈ wp29 کے مطابق تیار نہ کیے گئے اور کوئی سرکاری ادارہ گاڑیوں کا معیار جانچنے کیلئے معیاری لیباٹریاں نہ بنا سکا تو مینوفیکچررز گاڑیوں کی بیرون ممالک سے جانچ کروانے پرمجبور ہوں گے جس سے ملکی زرمبادلہ کا نقصان ہوگا،مقامی سطح پر پروڈکٹ کی قیمت بڑھ جائے گی اور نتیجتاََ حکومت کی آمدن مین بھی کمی آئے گی۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ یورپ میں گاڑیوں کا معیار جانچنے کیلئے نافذ العمل WP29 سٹینڈرڈکے حوالے سے انجنئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ (ای ڈی بی )پہلے ہی کابینہ کو تفصیلی بریفنگ دے چکا ہے۔

 ای ڈی بی کے ایک عہدیدار کے مطابق کابینہ مذکورہ یورپی آٹو موٹیو قوانین (wp-29 ایگریمنٹ)کے ساتھ الحاق کی منظوری بھی دے چکی ہےاور توقع ہے کہ رواں سال کے آخر تک پاکستان کو اس کی رکنیت بھی مل جائے گی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here