معاشی سست روی، پیداواری لاگت اور شرح سود میں اضافہ، سیمنٹ کمپنیوں کو بھاری نقصان

170

لاہور: پاکستان کی معاشی سست روی ،پیداواری لاگت میں اضافہ اور زیادہ شرح سود  نے مینوفیکچرنگ سیکٹر کو سب سے زیادہ متاثر کیا ہے اسی وجہ سے رواں مالی سال 2019-20ء کے ابتدائی چھ ماہ (جولائی تا دسمبر) کے دوران سیمنٹ  بنانے والی کمپنیوں کو آمدن میں واضح کمی کا سامنا ہے ۔

پاکستان سٹاک ایکسچینج کو لکھے گئے ایک خط میں فیکٹو سیمنٹ لمیٹڈ نے کہا ہے کہ رواں مالی سال کے ابتدائی چھ ماہ کے دوران اسے 299 ملین روپے نقصان اٹھانا پڑا ہے جبکہ گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے دوران اسے 105 ملین روپے خسارہ برداشت کرنا پڑاتھا، فیکٹو سیمنٹ کی آمدن میں مجموعی طور پر 22 فیصد کمی ہوئی ہے،گزشتہ مالی سال کے پہلے چھ ماہ کے دوران کمپنی کی آمدن 2.28 ارب روپے تھی جبکہ رواں مالی سال کے چھ ماہ کے دوران آمدن 1.91 ارب روپے رہی۔

اسی طرح پاور سیمنٹ لمیٹڈ کو ٹیکس ادائیگی کے بعد 365 ملین کا نقصان اٹھانا پڑا ہے جبکہ گزشتہ مالی سال کے پہلے چھ ماہ کے دوران کمپنی کو 9.7 ملین روپے منافع ہوا تھا ۔

میپل لیف سیمنٹ فیکٹری لمیٹڈ کو مجموعی طور پر 1.76 ارط روپے کا نقصان ہواہے، گزشتہ مالی کے پہلے چھ ماہ کے دوران کمپنی کو 1.33 ارب روپے نقصان ہوا تھا ، آمدن میں 32.5فیصد کمی دراصل پیداواری لاگت میں اضافے کی وجہ سے ہوئی۔

یہ بھی پڑھیے:

2020 کے پہلے 6 ماہ میں سیمنٹ کی برآمدات میں 7.48 فیصد کمی

بھارت نے پاکستان سے سیمنٹ کی تجارت بند کردی

گاڑیوں کی مینوفیکچرنگ میں کمی، محکمہ ایکسائز کے لیے ریونیو اہداف حاصل کرنا مشکل ہو گیا

غریبوال سیمنٹ لمیٹڈ کو رواں مالی سال کے ابتدائی چھ ماہ کے دوران 245 ملین روپے کا نقصان ہوا جبکہ گزشتہ سال اسے 593 ملین روپے منافع ہوا تھا ، کمپنی کی سیلز میں میں بھی 6.2 فیصد کمی ہوئی ہے کیونکہ یہ گزشتہ سال 5.51 ارب روپے تھی تاہم رواں مالی سال کے چھ ماہ میں کم ہو کر 5.16 ارب روپے پر آگئی ۔

دیوان سیمنٹ لمیٹڈ گزشتہ مالی سال کے ابتدائی چھ ماہ کے دوران 328 ملین روپے منافع ہوا تھا تاہم فروخت میں 37 فیصد کمی اور دیگر عوامل کی وجہ سے رواں مالی سال کے ابتدائی چھ ماہ کے دوران 172 ملین روپے نقصان اٹھانا پڑا ہے، کمپنی کی آمدن 6.42 ارب روپے سے کم ہو کر 4.04 ارب روپے پر آگئی ہے۔

فلائنگ سیمنٹ لمیٹڈ کو ٹیکس ادائیگیوں کے بعد چھ ماہ میں 293.4 ملین روپے نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے حالانکہ گزشتہ سال اسی مدت کے دوران 77 ملین روپے منافع ہوا تھا،کمپنی کو نقصان کی بنیادی وجہ پیداواری لاگت میں اضافہ اور سیلز میں کمی ہے۔

ڈنڈوٹ سیمنٹ کمپنی کے مطابق اسے ٹیکس ادائیگی کے بعد رواں مالی سال کے ابتدائی  چھ ماہ کے دوران 383 ملین روپے نقصان اٹھانا پڑا  ہے جبکہ گزشتہ سال چھ ماہ میں کمپنی کو 177 ملین روپے نقصان ہوا تھا ۔

اسی طرح پانئیر سیمنٹ کمپنی لمیٹڈ کو ٹیکس ادا کرنے کے بعد 111.66 ملین روپے خسارے کا سامنا کرنا پڑا ہے حالانکہ گزشتہ سال چھ ماہ کے دوران کمپنی کو 526.96ملین روپے منافع ہوا تھا ، کمپنی کے مطابق فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی  میں اضافہ ، سیمنٹ کی برآمد اور سیلز میں کمی کی وجہ سےاسے نقصان اٹھانا پڑا۔

اس کے علاوہ پانییر سیمنٹ کمپنی نے سٹاک ایکسچینج کو آگاہ کیا ہے کہ عارف حمید ڈار کی جگہ ساجد فیروز کو کمپنی کا چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) مقرر کیا گیا ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here