معاشی اصلاحات میں آئی ایم ایف پاکستان کا شراکت دار ہے: گورنر سٹیٹ بینک

264

اسلام آباد: گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر نے کہا ہے کہ موجودہ معاشی نظام میں اصلاحات کرنے میں عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف) پاکستان کا شراکت دار ہے،آئی ایم ایف کے ساتھ پاکستان کا تعلق باہمی دلچسپی پر مبنی ہے۔

پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) کا اجلاس چیئرمین رانا تنویر حسین کی زیر صدارت اسلام آباد میں ہوا۔ گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر نےپبلک اکاؤنٹس کمیٹی کو مانیٹری پالیسی اور مہنگائی کے حوالے سے بریفنگ دی۔

انہوں نے کمیٹی کو یقین دہانی کرائی کہ آنے والے دنوں میں ملک میں مہنگائی کم ہو گی اور عوام کو ریلیف ملے گا۔

رضاباقر نے کہا کہ اپنے گزشتہ اجلاس کے دوران سٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی نے شرح سود 13.25 فیصد پر برقرار رکھی ہے، ہمارا آئندہ ٹارگٹ مہنگائی کی شرح کو پانچ سے سات فیصد پر لیکر آنا ہے۔

گورنر سٹیٹ بینک نے یہ تسلیم کیا کہ زیادہ شرح سود کی وجہ سے قرض داروں کو مشکلات کا سامنا ہے لیکن انہوں نے کہا کہ اگر یکدم شرح سود میں کمی کردی گئی تو بینکوں میں سیونگ اکائونٹ کے حامل افراد متاثر ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ قومی بچت کی شرح پہلے ہی کم ہے، اگر شرح سود کم کردی گئی تو لوگ مایوس ہوں گے، ملک میں زرمبادلہ کی کمی ہو جائے گی اور دوبارہ کہیں نہ کہیں سے قرضہ لینا پڑے گا جس کی وجہ سے ملک کا کرنٹ اکائونٹ خسارہ بڑھ جائے گا۔

یہ بھی پڑھیے:

’موجودہ حکومت 5 کھرب روپے کے اندرونی وبیرونی قرضے ادا کرچکی ہے‘

غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں ایک ہفتے میں 87 ملین ڈالرز اضافہ، 12.6 ارب ڈالر ہو گئے : سٹیٹ بینک

سات ماہ میں براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری میں 66 فیصد اضافہ ہوا: سٹیٹ بینک

ایک سوال کے جواب میں رضا باقر کا کہنا تھا کہ جولائی سے زرمبادلہ ذخائر میں ساڑھے 9 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا ہے ،ذخائر بڑھتے رہے تو عالمی مالیاتی فنڈ(آئی ایم ایف) سمیت کسی کے آگے ہاتھ پھیلانے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں شرح سود زیادہ ہونے کی وجہ سے ملک میں مینوفیکچرنگ کا شعبہ بری طرح متاثر ہوا ہے،تاہم موجودہ حکومت کی معاشی اصلاحات کی بدولت یہ شعبہ دوبارہ ترقی کی جانب گامزن ہو رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ڈالر 162 سے 155 روپے پر آچکا ہے جبکہ مہنگائی میں 2 فیصد کمی آگئی ہے اور یہ مزید کم ہوگی کیونکہ موجودہ حکومت سٹیٹ بینک سے مزید قرضے نہیں لے رہی، رواں مالی سال مہنگائی 11 سے 12 فیصد رہے گی،مہنگائی مزید کم ہونےسے شرح سود میں بھی کمی آئے گی،ہم چاہتے ہیں کہ زرمبادلہ ذخائر برآمدات میں اضافے سے بڑھیں، لوگ فارن کرنسی اکاؤ نٹس روپے میں منتقل کر رہے ہیں،سٹیٹ بینک بھی مقامی اور بیرونی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنے کیلئے کوشاں ہے۔

انہوں نے بتایا کہ کورونا وائرس کی وجہ سے چین کے آرڈر منسوخ ہو رہے ہیں اور چین کے منسوخ آرڈر اب پاکستان کو مل رہے ہیں جب کہ پاکستان کو چین سے سپلائی بھی متاثر ہورہی ہے، ایران میں کورونا وائرس کے بھی منفی اثرات یہاں آسکتے ہیں۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here