’عمران خان کی کابینہ کے اہم رکن، وزارت پٹرولیم کے حکام گیس پائپ لائن کا ٹھیکہ من پسند کمپنی کو دلوانے کیلئے سرگرم‘

اٹارنی جنرل آف پاکستان نے نارتھ ساؤتھ گیس پائپ لائن (این ایس جی پی) کا  ٹھیکہ روسی کمپنی TMK کو دینے  پر وزارتِ پیٹرولیم کا اعتراض مسترد کر دیا

156

اسلام آباد: اٹارنی جنرل آف پاکستان (اے جی پی) نے نارتھ ساؤتھ گیس پائپ لائن (این ایس جی پی) کا  ٹھیکہ روسی کمپنی کو دینے  پر وزارتِ پیٹرولیم کے اعتراض کو مسترد کر دیا ہے۔

کچھ ماہ قبل وزارتِ پیٹرولیم  نے اٹارنی جنرپ پاکستان کو کو خط لکھا تھا جس کے  جواب میں اے جی پی آفس نے کہا کہ انہوں نے وزارت پٹرولیم کے روسی کمپنی TMK کو کنٹریکٹ دینے پر اعتراض اٹھایا تھا جس کے بعد اٹارنی جنرل آفس نے برطانوی اور امریکن کمپنیوں سے بھی مشاورت کی اور تحقیقات کیں تو انکشاف ہوا کہ وزارتِ پیٹرولیم نے ٹی ایم کے کے خلاف بے بیناد اعتراض کیا تھا۔

خیال رہے کہ وزارتِ پیٹرولیم نے اے جی پی آفس کو پہلا خط ایک ہفتے بعد واپس بھی لے لیا تھا۔

خبر ایجنسی آن لائن کے مطابق اے جی پی آفس نے کہا ہے کہ روسی کمپنی ٹی ایم کے مذکورہ گیس پائپ لائن منصوبے پر کام کرنے کی اہل ہے جبکہ وزارتِ پیٹرولیم کی جانب سے ایک دوسری روسی کمپنی ای ٹی کے کو منصوبے کے لیے نامزد کیا گیا تھا لیکن کمپنی میں اتنی صلاحیت نہیں تھی کہ وہ منصوبہ مکمل کر سکے۔

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اٹارنی جنرل آفس کی جانب سے اس پیشرفت  نے وزارتِ پیٹرولیم کے ان افسران کو چونکا دیا ہے جو دوسری کمپنی ETK کو مذکورہ منصوبے کا ٹھیکہ دیکر خود فائدہ اٹھانا چاہ رہے تھے۔ یہ بھی الزام سامنے آیا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کی کابینہ کے ایک بااثر مشیر بھی ETK کو کنٹریکٹ دلوانے کیلئے سرگرم تھے۔

خبر ایجنسی نے جب موقف لینا چاہا تو مشیر پیٹرولیم ندیم بابر نے وزارتِ پیٹرولیم کے ترجمان سے رابطہ کرنے کا کہا۔

آن لائن نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے سیکرٹری وزارتِ پیٹرولیم اور ترجمان سے مؤقف جاننے کے لیے رابطہ کیا لیکن انہوں نے واضح طور پر جواب نہیں دیا۔

تاہم سیکرٹری وزارتِ پیٹرولیم نے پاکستان ٹوڈے کو بتایا کہ انہیں ابھی تک اے جی پی آفس سے کسی طرح کی رائے موصول نہیں ہوئی ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here