ای سی سی کا اجلاس: بینک اکاؤنٹس میں منتقل کردہ ترسیلات زرپر وِد ہولڈنگ ٹیکس ختم کرنے کی منظوری

237

اسلام آباد: وفاقی کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نےترسیلات زربڑھانے کےلئےمختلف اقدامات، ایچ ای سی اور سٹریٹیجک پالیسی پلاننگ سیل کےلئے تکنیکی ضمنی گرانٹ کی منظوری دےدی،بینک اکاؤنٹس میں منتقل کی جانے والی ترسیلات زر یکم جولائی 2020 ء سے ود ہولڈنگ ٹیکس سے مستثنیٰ ہوگی ۔

اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس مشیرخزانہ حفیظ شیخ کی زیرصدارت اسلام آباد میں ہوا ، جس میں  آٹھ نکاتی ایجنڈے پرغورکیا گیا۔

اجلاس میں مختلف بینکنگ ذرائع سے ترسیلات زربڑھانے کےلئے اقدامات کی منظوری دی گئی جس کے تحت بینک اکاؤنٹس میں منتقل کی جانے والی ترسیلات زر کی رقم یکم جولائی 2020 ء سے ود ہولڈنگ ٹیکس سے مستثنیٰ ہوگی۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ بڑے تجارتی بینکوں اورسرکاری اداروں کے اشتراک سے یکم ستمبر 2020 ء سے “قومی ترسیلات وفاداری پروگرام” شروع کیا جائے گا جس کے ذریعے موبائل ایپ اور کارڈ کے ذریعے ترسیل دہندگان کو مختلف مراعات دی جائیں گی۔

اجلاس میں مذکورہ اقدامات کی مالی اعانت کے لئے رواں مالی سال کے دوران 9.6 ارب روپے کی تکنیکی اضافی گرانٹ کی منظوری بھی دی گئی۔

 ای سی سی نے ہائیرایجوکیشن کمیشن اور اسٹریٹیجک پالیسی پلاننگ سیل کےلئے پانچ ارب روپے سے زائد  کی تکنیکی ضمنی  گرانٹس کی منظوری بھی دی۔

یہ بھی پڑھیے: ’عمران خان کی کابینہ کے اہم رکن گیس پائپ لائن کا ٹھیکہ من پسند کمپنی کو دلوانے کیلئے سرگرم‘

اجلاس میں پاک فضائیہ کےلئے اندرونی سیکیورٹی ڈیوٹی الاؤنس کی مد میں 34.528 ملین روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ کی تجویزکی بھی منظوری دی گئی۔

نیشنل سکیورٹی ڈویژن کو سٹریٹجک پالیسی پلاننگ سیل قائم کرنے کیلئے 15 ملین روپے تکنیکی گرانٹ کی بھی منظوری دے دی گئی جو وزیر اعظم کی منظوری کے بعد قائم کیا جائے گا اور قومی سلامتی کے اہم معاملات پر پالیسی سازی کرے گا۔

مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کے اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں، فوٹو: پی آئی ڈی

پٹرولیم ڈویژن کی تجویز پر ای سی سی نے سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ کیلئے کیتھر بلاک کے رحمان فور ویل سے مزید گیس مختص کرنےکی منظوری دے دی۔

کے الیکٹرک کی جولائی 2016 تا مارچ 2019 تک کی ادائیگیوں کا معاملہ بھی زیر بحث آیا تاہم ای سی سی نے وزیر توانائی عمر ایوب، وزیر برائے اقتصادی امور حماد اظہر، ڈپٹی چیئرمین منصوبہ بندی کمیشن ، سیکریٹری فنانس اور کے الیکٹرک کے ایک نمائندے پر مشتمل کمیٹی تشکیل دے دی اور ایک ہفتے میں مسئلے جا مع حل پیش کرنے کی ہدایت کردی۔

یہ بھی پڑھیے:وزیر اعظم کی غیر منافع بخش اداروں کی نجکاری مقررہ مدت میں مکمل کرنے کی ہدایت

ای سی سی کے اجلاس میں وزارت توانائی کی بلوچستان میں ٹیوب ویل  کنزیومرز کیلئے بجلی پر سبسڈی کی مدت جون 2020 تک بڑھانے کی تجویز بھی زیر بحث آئی۔

کمیٹی کو بتایا گیا کہ یکم جون 2015 سے بلوچستان میں 30 ہزار زرعی صارفین کو وفاقی حکومت کی جانب سے 40 فیصد کے حساب سے 9 ارب روپے سالانہ سبسڈی دی جارہی ہے جبکہ صوبائی حکومت 60 فیصد حصہ ڈال رہی لیکن کسانوں سے واجبات کی وصولی نہیں ہو پائی، اس مسئلے کی تحقیقات اور حل کیلئے الگ سے ایک کمیٹی تشکیل دے دی گئی۔

توارقی سٹیل ملز کی بحالی پر ای سی سی نے وزارت صنعت و پیداوار کو دوبارہ رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کردی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here