’موجودہ حکومت 5 کھرب روپے کے اندرونی وبیرونی قرضے ادا کرچکی ہے‘

پاکستان کو گرتے ہوئے زرمبادلہ ذخائر کی وجہ سے آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑتا ہے، ماضی کی نسبت معیشت کی صورتحال متعدد حوالوں سے بہتر ہو چکی ہے: گورنر سٹیٹ بینک

194

اسلام آباد :  وزیراعظم کے مشیر برائے خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے کہا ہے کہ معیشت مستحکم ہے اور برآمدات وترسیلات زر میں اضافہ شرح نمو کی بڑھوتری میں معاون ثابت ہو رہا ہے۔

ٹی وی اینکرز کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے مشیر خزانہ نے کہا کہ دسمبر 2019ءمیں بڑے صنعتی اداروں کے شعبہ کی شرح ترقی میں 16 فیصد اضافہ ہوا جس سے معاشی شرح نمو میں بہتری کی عکاسی ہوتی ہے۔

اینکرز سے ملاقات کا مقصد مشیر خزانہ کی طرف سے معاشی پالیسی اور اصلاحات کے حوالہ سے میڈیا اور عوام کو آگاہی فراہم کرنا ہے۔ اس موقع پر قومی اسمبلی کی رکن کنول شوذب اور سپیشل سیکرٹری فنانس عمر حمید خان بھی موجود تھے۔

 ڈاکٹر حفیظ شیخ نے آئی ایم ایف کے دوسرے جائزہ کے حوالہ سے بتایا کہ آئی ایم ایف نے تسلیم کیا ہے کہ دسمبر تک کے اہداف حاصل کر لئے گئے ہیں اور ڈھانچہ جاتی اہداف بھی کامیابی سے مکمل ہوئے ہیں، آئی ایم ایف وفد اور پاکستانی حکام کے جائزہ اجلاس سے اپریل 2020ءمیں 450 ملین ڈالر کی قسط کے اجراءکی راہ ہموار ہو گی۔

مشیر خزانہ نے حکومت کی جانب سے رواں مالی سال 2020ءکی پہلی ششماہی میں جی ڈی پی کے 0.6 فیصد کے مساوی یعنی 286 ارب روپے کے پرائمری سرپلس پر بھی روشنی ڈالی اور کہا کہ 10 سال میں پہلی مرتبہ ایسا ہوا ہے۔

 انہوں نے کہا کہ ایف بی آر کی ٹیکس وصولیوں میں 16.5 فیصد اضافہ ہوا جو حکومت کی  کفایت شعاری  پر مبنی پالیسی سے ممکن ہوا ہے۔

 انہوں نے مزید کہا کہ پہلے 6 ماہ کے دوران نان ٹیکس آمدن میں 170 فیصد اضافہ سے 876 ارب روپے وصولیاں ہوئی ہیں جبکہ گذشتہ مالی سال کے اسی عرصہ میں 323 ارب روپے اکٹھے ہوئے تھے جس سے قرضوں کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔

 انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کے پہلے دو سال کے دوران 5 کھرب روپے کے اندرونی اور بیرونی قرضے ادا کئے گئے ہیں۔

 ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے افراط زر کے بارے میں کہا کہ حکومت عوام پر بوجھ کم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ گذشتہ سات ہفتوں میں افراط زر میں کمی اور سی پی آئی فروری 2020ءمیں 12.4 فیصد تک کم ہوا ہے جبکہ جنوری 2020ءمیں یہ شرح 14.6 فیصد تھی۔

 انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے درآمدات میں اضافہ کی اجازت اور یوٹیلٹی سٹورز کے ذریعے سپلائی سے ایسا ممکن ہوا ہے، حکومت نے سماجی تحفظ کے پروگراموں میں وزیراعظم کے احساس پروگرام کے تحت بجٹ میں دوگنا اضافہ کیا ہے اور رواں مالی سال احساس پروگرام کیلئے 192 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں تاہم حکومت توانائی کے شعبہ سمیت دیگر مسائل پر قابو پانے کی کوشش کر رہی ہے۔

’پاکستان کو گرتے ہوئے زرمبادلہ ذخائر کی وجہ سے آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑتا ہے‘

گورنر سٹیٹ بینک رضا باقر نے کہا ہے کہ ماضی کی نسبت معیشت کی صورتحال متعدد حوالوں سے بہتر ہو چکی ہے کیونکہ معاشی اصلاحات  جیسے مشکل فیصلے کیے گئے ہیں، اب ایکسچینج ریٹ بہتر ہوا چکا ہے اور یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ معیشت میں بہتری آ رہی ہے۔

کراچی میں انگلش اسپیکنگ یونین کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر رضا باقر کا کہنا تھا کہ مہنگائی کی شرح میں کمی کے واضح امکانات ہیں ،آئی ایم ایف پروگرام کے تحت اسٹیٹ بینک کے ضابطوں میں تبدیلی کی جارہی ہے اوراس کی خودمختاری میں اضافہ کیا جارہا ہے۔

گورنر سٹیٹ بینک نے کہا کہ سٹیٹ بینک کرنسی پر کم سے کم انحصار کرنے پر کام کر رہا ہے، ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نظام کو زیادہ سے زیادہ مقبول بنانا سٹیٹ بینک کا ایجنڈا ہے، اس حوالے سے جلد ہی دو سکیمیں سامنے آئیں گی، ایک  ’آسان موبائل اکائونٹ ‘ اور دوسری ’پے منٹ گیٹ وے‘۔

انہوں نے شرح سود کے حوالے سے بتایا کہ مہنگائی کنٹرول کرنے کیلئےشرح سود میں اضافہ کرنا پڑا تاہم آخری بار شرح سود جولائی 2019 میں بڑھائی گئی تھی۔

حالیہ معاشی اعدادوشمار کا گزشتہ سال موازنہ کرتے ہوئے گورنر سٹیٹ بینک کا کہنا تھا کہ پاکستان کے پاس محض سات ارب ڈالر کے ذخائر موجود تھے جبکہ ہم نے آٹھ ارب ڈالر کی ادائیگیاں کرنا تھیں ، اس لیے زرمبادلہ ذخائر کے حوالے سے ہماری حالت بے حد پتلی تھی تاہم اب یہ 18 ارب ڈالر ہوچکے ہیں۔

انہوں نے کہا کسی بھی ملک کے پاس جتنے زیادہ زرمبادلہ کے ذخائر ہوں گے ملک اتنا ہی خودمختار ہوگا۔پاکستان کو گرتے ہوئے زرمبادلہ ذخائر کی وجہ سے آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑتا ہے۔

مہنگائی پر بات کرتے ہوئے رضا باقر نے کہا کہ روپے کی قدر میں کمی مہنگائی کا سبب بنی، گزشتہ سال جولائی میں مہنگائی کی شرح آٹھ سے نو فیصد تک تھی تاہم اس کے بعد اضافہ ہوتا گیا اور یہ 12 فیصد ہو گئی تاہم اس لحاظ سے شرح سود میں اضافہ نہیں کیا گیا۔

گورنر اسٹیٹ بینک کا کہنا تھا کہ اسٹیٹ بینک نے ایکس چینج ریٹ کو مارکیٹ سے منسلک کردیا ہے۔ مانیٹری پالیسی کمیٹی نے بنیادی شرح سود بڑھائی کیونکہ مستقبل میں مہنگائی بڑھتی نظر آرہی ہے،تاہم افراط زر کے موجودہ اعدادوشمار حوصلہ افزاء ہیں۔

گورنر اسٹیٹ بینک کا کہنا تھا کہ قرض لینے والوں سے زیادہ بچت کرنے والے ہیں جن کی بات نہیں کی جاتی۔  پاکستان میں بچت کرنے والوں کو منفی شرح منافع دیا جاتا ہے۔ قومی بچت پر شرح منافع 11 فیصد اور افراط زر 12.4فیصد ہے۔

گورنر نے کہا کہ سائبر کرائم پر زیادہ وسائل صرف کیے جارہے ہیں اوراس حوالے بینکوں سے تفصیلات حاصل کررہے ہیں۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here