حکومت خیبرپختونخوا کا نئی صنعتی پالیسی لانے کا اعلان

134

پشاور: حکومتِ خیبر پختونخوا نے صوبے میں انڈسٹریل پالیسی کا مسودہ پیش کر دیا ہے جس کا مقصد صوبے کو متوازن اور پائیدار صنعتی ترقی کے ذریعے بااختیار بنا کر مساوی سماجی و معاشی تقسیم، روزگار کے مواقع اور وہاں کے عوام کو معاشی طور پر مستحکم بنانے کا موقع فراہم کیا جائے گا۔

حکومت نے کے پی میں تمام سٹیک ہولڈرز کو صنعتی ترقی کے لیے سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہوئے سی پیک میں سرمایہ کاری کے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھانے پر زور دیا ہے، پالیسی کے ذریعے سٹیک ہولڈرز کو ایک چھت تلے تمام سہولتیں فراہم کی جائیں گی۔

صنعتی پالیسی کا مسودہ پیش کرتے ہوئے ایک ورکشاپ کا اہتمام کیا گیا جس میں وزیر خزانہ پختونخوا تیمور سلیم جھگڑا، چیف ایڈوائزر عبدالکریم خان، مالی اداروں، کاروباری برادری، تاجروں، تعلیمی اداروں اور سرحد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایس سی سی آئی) کے نمائندوں نے شرکت کی۔

چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) کے پی بورڈ آف انویسٹمنٹ احسان داد بٹ نے شرکاء کو نئی پالیسی کے متعلق اقدامات پر بتایا کہ اس سے صوبے میں تجارت اور کامرس کو صوبے بھر میں فروغ ملے گا۔

انہوں نے کہا کہ نئی پالیسی کے مطابق حالیہ ترقی کی شرح کو 3.5 سے بڑھا کر 16 فیصد تک لے جانے کا ہدف رکھا گیا ہے اور سرمایہ کاروں کو زمین خریدنے، کمیونیکیشن کے نظام اور ماہر مزدور طبقے کو سہولت دی جائے گی۔

کے پی وزیر خزانہ تیمور سلیم جھگڑا نے اس موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا جغرافیائی اعتبار سے اس لیے اہم ہے کیونکہ یہاں سے تجارت سینٹرل ایشیا کے دیگر ممالک تک بڑھائی جا سکتی ہے۔ صوبے میں قدرتی وسائل کے علاوہ سیاحت، زراعت، انجنئیرنگ، سیمنٹ انڈسٹری اور دیگر شعبوں میں سرمایہ کاری کی جارہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ فاٹا  کے  اضلاع میں سرمایہ کاری پر توجہ دی جائے گی اور اس سلسلے میں تمام سٹیک ہولڈرز کے ساتھ ملکر فاٹا اضلاع کی ترقی و خوشحالی کے لیے معاشی استحکام کے منصوبوں کا آغاز کر دیا ہے۔

وزیراعلیٰ پختونخوا کے مشیر صنعت عبدالکریم خان نے کہا کہ موجودہ حکومت کا صوبے میں صنعتوں کی ترقی کے لیے واضح پلان ہے، کے پی حکومت تمام اضلاع میں بزنس ماڈلز کا آغاز کرے گی جس سے فاٹا اضلاع میں سرمایہ کاری کے بہترین مواقع پیدا ہوں گے۔

سابق صدر ایس سی سی آئی زاہد شنواری نے تجویز دیتے ہوئے کہا کہ حکومتِ خیبر پختونخوا نئی انڈسٹریل پالیسی میں صنعتکاروں کی رائے سے یہ پالیسی تشکیل دے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here