پیاز برآمد کرنے پر پابندی عائد، ایکسپورٹرز کو 20 لاکھ ڈالر نقصان کا خدشہ

344

اسلام آباد: وزارت خوراک نے پیاز برآمد کرنے پر پابندی عائد کرنے کردی ہے جبکہ تقریباََ 170 سے زائد پیاز سے بھرے کنٹینرز بیرون ملک برآمد کیلئے بندرگاہوں پر بالکل تیار کھڑے تھے،

وزارت خوراک کے جاری کردہ نوٹی فکیشن کے مطابق یہ پابندی رواں سال 31 مئی تک برقراررہےگی۔

آل پاکستان فروٹ اینڈ ویجییٹبل ایکسپورٹرز امپوٹرز اینڈ مرچنٹس ایسوسی ایشن (پی ایف وی اے)کے مطابق کروڑوں ڈالر کی پیاز سوموار کو بیرون ملک بھجوانے کیلئے بالکل تیار تھی تاہم 29 فروری کو وزارت خوراک کے نوٹی فکیشن کی وجہ سے برآمد روک دی گئی ہے جس کی وجہ سے پیاز کے برآمد کنندگان کو بھاری نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا۔

یہ بھی پڑھیے:

کسٹمز حکام نے پابندی کے باوجود پیاز کے 300 کنٹینرز کو بیرون ملک جانے کی اجازت دے دی

پنجاب حکومت کی وفاق سے پیاز، سرخ مرچوں کی برآمد پر پابندی عائد کرنے کی درخواست

ایسوسی ایشن کے سابق چیئرمین وحید احمد کے مطابق 20 لاکھ ڈالرز کی پیاز کنٹینرز  میں موجود ہے جو بندرگار گاہوں پر روک دئیے گئے ہیں۔

ایکسپورٹرز نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ کم از کم بندرگاہوں پر موجود پیاز برآمد کرنے کی اجازت ضرور دی جائے ۔

یاد رہے کہ اقتصادی رابطہ کمیٹی نے 19فروری کو پیاز کی برآمد پر پابندی کی منظوری دی تھی جس کی توثیق دس دن کی تاخیر سے وفاقی کابینہ کی جانب سے 29 فروری کو کی گئی ہے۔

اس سے پاکستان فروٹ اینڈ ویجییٹبل ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن نےسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیے بغیر پابندی کا فیصلہ مسترد کردیا تھا اور مشیر تجارت کو خط لکھ کر شدید تحفظات کا اظہار کیا تھا۔

ایسویسی کی جانب سے کہا گیا تھا کہ پیاز کی معیاد کم ہونے کی وجہ سے اسے لمبے عرصے تک ذخیرہ نہیں کیا جا سکتا، پابندی کی وجہ سے ناصرف ایکسپورٹرز بلکہ پیاز کے کاشکاروں اور قومی خزانے کو بھی بھاری نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا۔

خط میں کہا گیا تھا کہ بیرون ممالک سے آرڈرز کی پیشگی رقم پکڑ چکے ہیں اس اقتصادی رابطہ کمیٹی کو پیاز کی برآمد پر پابندی سے کم از کم دس روز قبل آگاہ کرنا چاہیے تھا تاکہ کوئی متبادل انتظام کیا جا سکتا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here