حکومت نے ایف بی آر کا ٹیکس خسارہ نان ٹیکس آمدن سمیت دیگر ذرائع سے پورا کرنے کی ٹھان لی

یکم مارچ سے حکومت نے ڈیزل پر 7.5روپے فی لٹر، پٹرول پر 4.75روپے فی لٹر، مٹی کے تیل پر 6.33 روپے فی لٹراور لائٹ ڈیزل پر 1.94 روپے فی لٹر کے حساب سے پٹرولیم لیوی میں اضافہ کردیا ہے

504

اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر)کو ٹیکس آمدن میں کمی کا سامنا ہے اور اس کمی کو حکومت نے نان ٹیکس آمدن اور دیگر ذرائع سے پورا کرنے کی ٹھان لی ہے۔

ذرائع کے مطابق حکومت نے رواں مالی سال کے باقی ماندہ مہینوں کے دوران ایف بی آر کا ٹیکس خسارہ پورا کرنے کیلئے مختلف شعبوں سے 112ارب روپے اکٹھے کرنے کا منصوبہ بنایا ہےجس کے مطابق پٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی (پی ڈی ایل) کی مد میں 80 ارب روپے، گیس انفراسٹرکچر سیس (جی آئی ڈی سی) سے 25 ارب روپے ، موبائل ہینڈسیٹ لیوی (ایم ایچ ایل) سے دو ارب ڈالر، نیچرل گیس ڈویلپمنٹ سرچارج (جی ڈی ایس) سے پانچ ارب روپے جمع کیے جائیں گے۔

ایف بی آر نے جولائی سے دسمبر تک چھ ماہ میں نان ٹیکس آمدن کے طور پر 158 ارب روپے جمع کیے تھے جبکہ اس کا ہدف 267 ارب روپے کا تھا۔

ذرائع نے بتایا کہ یکم مارچ سے حکومت نے ڈیزل پر 7.5روپے فی لٹر، پٹرول پر 4.75روپے فی لٹر، مٹی کے تیل پر 6.33 روپے فی لٹراور لائٹ ڈیزل پر 1.94 روپے فی لٹر کے حساب سے پٹرولیم لیوی میں اضافہ کردیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے:

ٹیکس فائلرز کی تعداد میں 45 فیصد اضافہ، پھر بھی ایف بی آر کا خسارہ 208 ارب روپے تک پہنچ گیا

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے باوجود ماہانہ 25 ارب عوام کی جیبوں سے نکالنے کا حکومتی منصوبہ

حالیہ اضافے کے بعد ڈیزل پر پٹرولیم لیوی کی حد 25.5 روپے فی لٹر، پٹرول پر 19.75 روپے فی لٹر، مٹی کے تیل پر 13.33 روپے فی لٹر اور لائٹ ڈیزل پر 4.94 روپے فی لٹر ہو گئی ہے۔ یوں پٹرولیم لیوی کی مد میں حکومت کو 300 ارب روپے آمدن ہونے کی توقع ہے۔

دوسری جانب وزارت خزانہ نے  بھی 894 ارب روپے نان ٹیکس آمدن کا تخمینہ لگایا تھا۔حکومت نے رواں مالی سال کے پہلے چھ ماہ کے دوران 718 ارب روپے اکٹھا کیے ہیں ۔ پی ٹی اے میں سرپلس ٹیکس سے 110ارب روپے، ریگولیٹری اتھارٹیز سے دو ارب روپے، مختلف قسم کے مارک اَپس کی مد میں 12 ارب روپے، پبلک سیکٹر انٹرپرائزز سے سود کی مدمیں 27 ارب روپے جمع کیے گئے۔

اسی طرح پبلک سیکٹر انٹرپرائیزز کو 26ارب روپے کا ڈیویڈنڈ حاصل ہوا،سٹیٹ بینک کو 425 ارب روپے منافع ہوا، دفاع  سے چھ ارب روپےبچت ہوئی ، غیر ملکی گرانٹس سے 11 ارب روپے، اقوام متحدہ کی جانب سے مختلف پروگراموں کیلئے 11 ارب روپے، خام تیل پر لیوی سے تین ارب ، ایل پی جی پر پٹرولیم لیوی  سے ایک ارب روپے، مقامی خام تیل پر رعایت ختم کرکے سات ارب روپے، تیل و گیس پر رائیلٹی سے 43 ارب روپے حاصل کیےگئے جبکہ 17 ارب روپے دیگر ذرائع سے حاصل کیے گئے۔

ذرائع نےمزید  بتایا کہ آٹھ ماہ کے دوران ایف بی آر کی ٹیکس آمدن 2718ارب روپے رہی جبکہ اس کا ہدف 2926 ارب روپے تھا۔

ذرائع نے دعویٰ کیا کہ حکومت نے آئی ایم ایف کو یقین دہانی کرائی ہے کہ 5238 ارب روپے کا ٹیکس ہدف ضرورپورا کیا جائے گا۔ پٹرولیم لیوی بڑھانا بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔

ذرائع کے مطابق ایف بی آر بینک اکائونٹس منجمد کرنے کا اختیار اپنے فیلڈ کمشنرز کو دینے پر غور کر رہا ہے، حال ہی میں ایک اجلاس میں کمشنرز کو صنعتوں  اور بینکوں سے ٹیکس اکٹھا کرکے آمدن میں اضافہ کی ہدایت کی گئی ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here