کورونا وائرس، دنیا کا ہر خطہ متاثر، کھربوں ڈوب گئے

بل گیٹس نے غریب افریقی اور جنوبی ایشیائی ملکوں کے لیے مدد کا اعلان کر دیا، انڈیا کی معاشی مشکلات میں مزید اضافے کا امکان

201

لاہور: 2008 کے عالمی معاشی بحران کے بعد اب عالمی سٹاک منڈیوں میں بڑے پیمانے پر مندا دیکھا جا رہا ہے جس کی وجہ یہ خدشات ہیں کہ کورونا وائرس عالمی معیشت کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔

یورپ کی نمایاں ترین سٹاک مارکیٹوں نے محض ایک ہفتے کے دوران 10 فی صد سے زیادہ مندی کا سامنا کیا ہے۔ لندن ایف ٹی ایس ای 100 جمعہ کو تین اعشاریہ چار فیصد کم ہوئی جس کے باعث اسے 11.3 فی صد کا نقصان ہوا۔ لیکن نیورک میں ڈائو جانز انڈیکس میں دوپہر کے وقت ایک اعشاریہ ایک فیصد اور ایس اینڈ پی میں 0.7 فی صد کی کمی دیکھنے میں آئی۔

جمعرات کے روز ڈائو جانز میں ریکارڈ مندی دیکھنے میں آئی جو 1200 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ چار اعشاریہ چار فیصد کم ہوا اور یہ گزشتہ دو برسوں کے دوران غیرمعمولی رفتار سے ہونے والی کمی ہے۔

مزید پڑھیں: کورونا وائرس کا خوف: موبائل ورلڈ کانگریس کے بعدگیم ڈیویلپرز کانفرنس اور جنیوا انٹرنیشنل موٹرز شو بھی منسوخ

شنگھائی، سڈنی اور ٹوکیو کی سٹاک مارکیٹوں میں بھی ایسا ہی رجحان دیکھا گیا۔

مختلف خبری رپورٹس کے مطابق، سرمایہ کاروں کے پانچ کھرب ڈالر ڈوب گئے ہیں۔

دریں اثنا، عالمی ادارہ صحت  کرونا وائرس کے حوالے سے عالمی رسک اسیسمنٹ کو بلند ترین سطح پر لے گیا ہے جیسا کہ یہ وبا افریقہ تک پھیل چکی ہے اور معاشی منڈیوں کے لیے نقصان کا باعث بن رہی ہے۔

ڈبلیو ایچ او نے مزید کہا ہے کہ یہ خطرہ غیرمعمولی ہے کیوں کہ چند دنوں میں کچھ نئے ملکوں میں کورونا وائرس کے کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔

مزید پڑھیں: کورونا وائرس کا خدشہ، ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی کو درآمدی سامان پر نظر رکھنے، روزانہ کی بنیاد پر رپورٹ دینے کی ہدایت

دوسری جانب مائیکروسافٹ کے بانی اور دنیا کے امیر ترین لوگوں میں سے ایک بل گیٹس نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ان کی حکومت افریقہ اور جنوبی ایشیا کو کورونا وائرس سے مقابلہ کرنے کیے فنڈز فراہم کرے گی،  مائیکروسافٹ کے شریک سربراہ بل گیٹس نے ترقی یافتہ ملکوں پر یہ زور دیا ہے کہ وہ پسماندہ ملکوں کی مدد کریں تاکہ کورونا وائرس سے جنگ لڑی جا سکے۔

انہوں نے نیوانگلینڈ جرنل نامی جریدے میں شائع ہونے والے اپنے ایک مضمون میں لکھا، ہم دو وجوہات کے باعث کورونا وائس کے حوالے سے متفکر ہیں جیسا کہ یہ وائرس پہلے سے مختلف بیماریوں کا شکار لوگوں کی موت کا باعث بننے کے علاوہ صحت مند جوانوں کی موت کا باعث بھی بن رہا ہے۔ دوسرا، اس وائرس سے متاثرہ فرد اس بیماری کو دو سے تین لوگوں میں منتقل کر سکتا ہے۔

علاوہ ازیں، 2019 کے آخری تین ماہ کے دوران انڈیا کی معیشت گزشتہ چھ برس کی نسبت سست روی کا شکار رہی ہے جب کہ تجزیہ کار ان خدشات کا اظہار کر رہے ہیں  کہ کورونا وائرس کی وبا کے باعث ایشیا کی تیسری بڑی معیشت مزید معاشی مشکلات کا شکار ہو سکتی ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here