پوسٹ بریگزٹ، پاکستان امریکی منڈیوں تک رسائی کے حصول کے لیے سرگرم

333

لاہور: ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (ٹی ڈی اے پی) پاکستان کے نمایاں ایکسپورٹرز کے ساتھ مشاورتی میٹنگز کرے گی تاکہ برطانوی جی ایس پی پلس سکیم سے مستفید ہونے کے لیے مختلف طریقوں پر غور کیا جا سکے۔

یہ سیشن ملک کے چار مختلف کاروباری مراکز میں منعقد کیے جائیں گے جن میں لاہور، کراچی، فیصل آباد اور سیالکوٹ شامل ہیں جب کہ ٹی ڈی اے پی مختلف سیکٹرز سے ان پٹ حاصل کرے گی جن میں کپاس، چمڑا، ٹیکسٹائل، آئی ٹی، میڈیکل اور فرنیچر وغیرہ شامل ہیں۔

مزید پڑھیں: بریگزٹ پر بے یقینی سے برطانوی کار انڈسٹری بری طرح متاثر

ٹی ڈی اے پی کے جی ایس پی کے حوالے سے کنسلٹنٹ کمال شہریار کے مطابق، برطانیہ اس وقت ٹرانزیشنل پیریڈ سے گزر رہا ہے جو 2020 کے اختتام تک جاری رہے گا۔ لیکن اگلے برس جنوری سے برطانیہ اپنی جی ایس پی پلس سکیم چلا رہا ہوگا جس کے باعث اس کی تجارتی سرگرمیاں متاثر ہوں گی۔ برطانیہ کی جی ایس پی سکیم میں اس وقت 74 ملک شامل ہیں اور برطانیہ ان کے حوالے سے مناسب بندوبست کرنے کا خواہاں ہے۔

انہوں نے مزید کہا، اتھارٹی نے برطانوی حکام کے ساتھ ابتدائی نوعیت کے مذاکرات شروع کر دیے ہیں۔

مزید پڑھیں: پاکستانی تجارتی وفد کی سرمایہ کاری کے نئے مواقع کی تلاش میں برطانیہ روانگی

کمال شہریار کہتے ہیں، برطانیہ کے ڈپٹی ہائی کمشنر قبل ازیں ملک کے دو صنعتی یونٹوں کا دورہ کر چکے ہیں جہاں انہوں نے ایکسپورٹرز کے ساتھ ملاقات کی تاکہ جی ایس پی پلس کے حوالے سے کسی بہتر فیصلے پر پہنچا جا سکے۔ بنیادی نکتہ یہ ہے کہ برطانیہ ایسی جی ایس پی سکیم بنانا چاہتا ہے جو کسی بھی طور پر یورپی یونین کی جی ایس پی سکیم سے کم اہمیت کی حامل نہ ہو۔

انہوں نے مشاورتی سیشنز پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ٹی ڈی اے پی ایکسپورٹرز کے ساتھ تعاون کے مخصوص شعبوں میں بات کرے گا جب کہ  مزید بہتری کے لیے فیڈبیک بھی حاصل کرے گا۔

’مزید پڑھیں: مارچ میں پاکستان کے جی ایس پی پلس سٹیٹس میں توسیع ہوسکتی ہے‘

انہوں نے مزید کہا، ہم اپنے ایکسپورٹرز سے فیڈبیک حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور اس حوالے سے ان کی تجاویز بھی زیرغور لا رہے ہیں کہ حکومتی سطح پر وہ کون سے امور ہیں جنہیں زیربحث لایا جا سکتا ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here