پاکستانی تجارتی وفد کی سرمایہ کاری کے نئے مواقع کی تلاش میں برطانیہ روانگی

304

اسلام آباد: فیصل آباد انڈسٹریل سٹیٹ ڈویلپمنٹ اینڈ مینجمنٹ کمپنی (فیڈمک) کا اعلیٰ سطحی وفد دوطرفہ تجارت اور نجی سطح پر گہرے تعلقات کے فروغ کے لیے پانچ روزہ دورے پر برطانیہ روانہ ہو گیا ہے۔

فیڈمک کے چیئرمین میاں کاشف اشفاق نے روانگی سے قبل ایک اخباری بیان میں کہا کہ اس دورے کا مقصد ادارے کے مختلف منصوبوں کے لیے سرمایہ کاری کا حصول ہے جن میں علامہ اقبال انڈسٹریل سٹی بھی شامل ہے جو چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تحت ایک ترجیحی خصوصی معاشی زون ہے۔

انہوں نے کہا، پاکستانی وفد برطانیہ میں بزنس لیڈرز، محققین اور سرمایہ کاروں کے ساتھ ون آن ون مذاکرات کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ سرمایہ کار اس پانچ روزہ دورے کے دوران ان ممکنہ کمپنیوں کی شناخت کرنے کے قابل ہو جائیں گے جن کے ساتھ شراکت داری ممکن ہو سکے گی اور بالآخر کامیاب معاشی حکمتِ عملیاں تشکیل دی جا سکیں گی۔

مزید پڑھیں: فیصل آباد انڈسٹریل اسٹیٹ ڈویلپمنٹ منیجمنٹ کمپنی۔۔۔ چینی صنعتوں کیلئے نیا مقام

انہوں نے مزید کہا، عالمی معاشی سرگرمیاں چوں کہ ایشیا اور پاکستان کی جانب منتقل ہو چکی ہیں جس کے باعث سی پیک لوگوں کے فائدے کے لیے نئے کاروباری مواقع پیدا کر رہا ہے۔ پاکستانی منڈی سے بڑی حد تک فائدہ نہیں اٹھایا گیا اور اس میں بہت زیادہ امکانات موجود ہیں جس کے باعث یہ سرمایہ کاری کے لیے غیر معمولی امکانات فراہم کرتی ہے۔

میاں کاشف نے کہا کہ برطانیہ پاکستان میں چین اور نیدرلینڈز کے بعد تیسرا بڑا سرمایہ کار ہے اور براہِ راست بیرونی سرمایہ کاری میں آٹھ فی صد حصہ برطانیہ کا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی ہائی کمیشن کی غیر معمولی فعالیت کے باعث برطانوی حکومت نے یہ کمٹمنٹ کی ہے کہ پوسٹ بریگزیٹ دور میں بھی پاکستان اسی حد تک منڈی تک رسائی سے لطف اندوز ہوتا رہے گا جو اسے فی الحال جی ایس پی پلس کے تحت حاصل ہیں۔

مزید پڑھیں: علامہ اقبال انڈسٹریل سٹی میں سرمایہ کاروں کو بہترین سہولیات فراہم ہوں گی، چیئرمین فیڈمک

انہوں نے کہا، اس پیشرفت نے اس بے یقینی کی صورتِ حال کو ختم کیا ہے اور برطانوی منڈی میں پاکستان برآمدات کو مزید فروغ دیا ہے۔

میاں کاشف نے آگاہ کیا کہ اس وقت پاکستان میں 135  برطانوی کمپنیاں کام کر رہی ہیں جب کہ متحدہ عرب امارات میں یہ تعداد 5 ہزار ہے، انہوں نے مزید کہا کہ یہ پاکستان کے لیے ایک بہترین وقت ہے کہ وہ صرف برطانیہ سے ہی نہیں بلکہ متحدہ عرب امارات میں کام کر رہی کمپنیوں کو بھی اپنی جانب متوجہ کرے۔

ان کا کہنا تھا، پاکستانی معیشت میں موجود امکانات،  مضبوط معاشی روابط کی تاریخ اور برطانیہ کا پاکستان کے حوالے سے منفرد فہم وہ عوامل ہیں جن کے باعث میرا یہ خیال ہے کہ دونوں ملکوں کو اپنے تجارتی تعلقات کی نوعیت میں تبدیلی لانی چاہئے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here