ٹیکس فائلرز کی تعداد میں 45 فیصد اضافہ، پھر بھی ایف بی آر کا خسارہ 208 ارب روپے تک پہنچ گیا

رواں مالی سال کے پہلے آٹھ ماہ میں محکمے نے 1000 ارب سے زائدانکم ٹیکس ،1180 ارب روپے سیلز ٹیکس، 160 ارب ایکسائز ڈیوٹی اور 430 ارب روپے کسٹمز ڈیوٹی سے ٹیکس جمع کیے

113

اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کا کہنا ہے کہ رواں سال ٹیکس فائلرز کی تعداد میں گزشتہ سال کی نسبت 45 فیصد اضافہ ہوا ہےاس کے باوجود ٹیکس اہداف حاصل کرنے میں مشکلات  کا سامنا ہے اور  ٹیکس خسارہ رواں سال کے پہلے آٹھ ماہ کے دوران 208 ارب روپے تک جا پہنچا ہے۔

ذرائع کے مطابق ایف بی آر نے مالی سال 2019-20 کے آٹھ ماہ (جولائی سے فروری تک )کے ودران 2718 ارب روپے ٹیکس جمع کیا ہے جبکہ اس کا ہدف اس مدت میں 2926 ارب روپے ٹیکس جمع کرنے کا تھا۔ ۔

درحقیقت، محکمہ ٹیکس کا شارٹ فال اب تک 400 ارب روپے بڑھ چکا ہے لیکن گزشتہ ماہ عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) نے ٹیکس اکٹھا کرنے کے ہدف میں کمی کرتے ہوئے 5500 ارب روپے سے 5238 ارب روپے کر دیا تھا، اس لیے ایف بی آر کا شارٹ فال زیرِ جائزہ عرصے میں 208 ارب ہو گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے:

طورخم کنٹینرز سکینڈل، ایف بی آر کو تحقیقات کرکے ایک ماہ میں رپورٹ جمع کرانے کا حکم

ایف بی آر کا رئیل اسٹیٹ، جواہرات اور زیورات کے بزنس سے وابستہ افراد کے گرد گھیرا تنگ کرنے کا فیصلہ

لاکھوں کے عروسی ملبوسات فروخت کرنے والے ڈریس ڈیزائنرز ٹیکس چوری میں ملوث

اس سے قبل ایف بی آر نے آئی ایم ایف سے ٹیکس ہدف میں مزید کمی کی درخواست کی تھی کیونکہ محکمہ رواں مالی سال کے دوران 4800 ارب سے زیادہ ٹیکس اکٹھا نہیں کر سکتا ہے تاہم آئی ایم ایف کے مشن چیف نے اپنے ایک بیان میں اس تاثر کی نفی کی تھی کہ انہوں نے ٹیکس ہدف میں مزید کمی کی حامی بھری ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ ایف بی آر نے رواں مالی سال کے پہلے آٹھ ماہ کے دوران انکم ٹیکس کی مد میں  1000 ارب سے ،1180 ارب روپے سیلز ٹیکس، 160 ارب ایکسائز ڈیوٹی اور 430 ارب روپے کسٹمز ڈیوٹی سے جمع کیا حالانکہ صرف فروری میں محکمے نے 310 ارب روپے جمع کیے ہیں۔

ذرائع نے مزید کہا ہے کہ اس دورانیے میں محکمے نے ایکسپورٹرز اور دیگر کاروباری حلقوں کو 78 ارب روپے واپس کیے تھے۔

ایف بی آر کے ترجمان ڈاکٹر حامدعتیق کے مطابق رواں سال فروری میں گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 17 فیصد زیادہ ٹیکس اکٹھا کیا گیا ہےجس پر قائم مقام چئیر پرسن نوشین جاوید امجد نے محکمے کے افسران کو مبارکباد بھی دی  ہے۔

’گوشوارے جمع کرانے کی تاریخ میں توسیع نہیں ہوگی‘

ادھر ایف بی آر نے کہا ہے کہ 2019 کے ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی تاریخ میں مزید توسیع نہیں دی جائے گی۔

ایف بی آر کی پریس ریلیز کے مطابق محکمہ 2018ء کے ٹیکس دہندگان کی فہرست 2019ء کی فہرست میں تبدیل کرے گا اور جن لوگوں نے 2019 میں ٹیکس گوشوارے جمع نہیں کرائے انہیں اس فہرست سے نکال دیا جائے گا۔

اس دوران ترجمان ایف بی آر نے کہا ہے کہ رواں سال ٹیکس فائلرز کی تعداد میں گزشتہ سال کی نسبت 45 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

’ایف بی آر ٹیکس اہداف پورے کرے‘

 دوسری جانب قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اقتصادی امور نے ایف بی آر کو کہا ہے کہ آمدن کے سالانہ اہداف پورے  کرنے کیلئے ہر ممکن ذریعہ استعمال کیا جائے، ٹیکس جمع کرنے کیلئے عالمی سطح کا آٹومیشن کا نظام متعارف کرایا جائے اور سٹاف کی کارکردگی میں بہتری کے اقدامات کیے جائیں۔

قائمہ کمیٹی نے رواں مالی سال کے سرکاری ترقیاتی پروگرام کے تحت ایف بی آر کے ترقیاتی منصوبوں کا بھی جائزہ لیا ، کمیٹی کو بریفنگ میں محکمہ ٹیکس میں ڈائریکٹر جنرل برائے پروکیورمنٹ اینڈ آٹو میشن سیدہ عدیلہ بخاری نے بتایا کہ آئندہ مالی سال کیلئے ایف بی آر نے 12 جاری اور 14 نئی سکیموں سمیت 26 مختلف ترقیاتی منصوبوں کی تجویز پیش کی ہے جن کی تکمیل پر 75.19 ارب روپے خرچ ہونے کی توقع ہے،ان میں کچھ عمارتوں کی تعمیرو مرمت اور ضروری سامان  کی خریداری کی سکیمیں بھی شامل ہیں۔

تاہم کمیٹی نے مجوزہ ترقیاتی سکیموں پر تحفظات کا اظہا ر کرتے ہوئے کہا کہ یہ ٹیکس کا دائرہ کار بڑھانے کے ایف بی آر کے ویژن کا حصہ نہیں ہیں اس لیے منظوری نہیں دی جا سکتی ۔

اس موقع پر وزارت خزانہ کے ایڈیشنل سیکریٹری نے واضح کیا کہ ایف بی آر میں اصلاحات اور ٹیکس نیٹ بڑھانے کیلئے الگ سے پروگرام شروع کیے گئے ہیں۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here