کپاس کی درآمد پر پابندی کی تجویز مسترد،ٹیکسٹائل سیکٹر کی پیداوار رُک جائے گی، ملازمین  بیروزگار ہو جائیں گے: اپٹما

54

لاہور: ٹیکسٹائل ملز مالکان نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کی کاٹن کی درآمد پر پابندی کی تجویز مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے ٹیکسٹائل ملز کی پیداوار رُک جائے گی، آدھے ملازم بیروزگار ہو جائیں گے اور اس شعبے کی برآمد ات 8.5 ارب ڈالر تک محدود ہو جائیں گی۔

جمعرات کو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے نیشنل فوڈ سکیورٹی نے کپاس کی بیرون ملک درآمد پر پابندی عائد کرنے کی سفارش کی تھی تاکہ کپاس کے مقامی کاشکاروں کا استحصال روکا جا سکے۔

آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (اپٹما ) گروپ لیڈر گوہر اعجاز نے پرافٹ اردو کو بتایا کہ ملک بھر میں ایک کروڑ ورکرز ٹیکسٹائل سیکٹرسے وابستہ ہیں ،اس شعبے کی سالانہ برآمدات ساڑھے 13 ارب ڈالر ہیں اور آئندہ پانچ سالوں میں 25 ارب ڈالر تک لے جانے کا ہدف ہے۔

یہ بھی پڑھیے:

وفاقی حکومت صنعتی صارفین کو توانائی ٹیرف چھوٹ دینے پر رضا مند

ٹیرف کا تنازع، ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز کا برآمدات روکنے پر غور

کپاس کی پیداوار میں 8.54 ملین گانٹھوں کی کمی

انہوں نے کہا کہ پاکستان کپاس کی سالانہ ساڑھے آٹھ ملین گانٹھیں پیدا کرتا ہے تاہم ہماری فیکٹریوں میں اسکی کھپت 15 ملین گانٹھیں ہے اس لیے ضروریات پوری کرنے کیلئے کپاس باہر سے منگواناپڑتی ہے۔

اپٹما پنجاب کے نائب چیئرمین عامر شیخ نے بھی اعجاز گوہر سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ جہاں ملکی ضرورت 15 ملین گانٹھوں کی ہے وہاں رواں سال مقامی سطح پر کپاس کی صرف سات ملین گانٹھیں پیدا ہونے کی توقع ہے۔

انہوں نے کہا ،’اعلیٰ معیار کے کپڑے کی تیاری کیلئے لمبے ریشے والی اور غیر آلودہ کپاس باہر سے منگوائی جاتی ہے۔‘

فیصل آباد میں ایک سپننگ مل کے مالک نوید گلزار کہتے ہیں کہ کپاس کی درآمد پر پابندی کا حکومتی فیصلہ ٹیکسٹائل  سیکٹر کیلئے ’موت کا پیامبر ‘ثابت ہوگا۔

نوید گلزار کے مطابق بدقسمتی سے پاکستان میں کپاس کا زیر کاشت رقبہ دن بہ دن سکڑ رہا ہے،ایسا آج نہیں گزشتہ ایک دہائی سے ہو رہا ہےاوراس شعبہ میں تحقیق نا ہونے کے برابر ہے۔

انہوں نے کہا کہ مقامی سطح پر کمی کی وجہ سے صنعتکار فیکٹریاں چلانے کیلئے کپاس درآمد کر نے پر مجبور ہیں،معیاری کپاس کی سستے داموں درآمد کی اجازت ضرور ہونی چاہیے۔

پاکستان میں کپاس کے معیار کے حوالے سے نوید گلزار کا کہنا تھا کہ یہ اسی وقت بہتر ہو سکے گا جب پاکستان خطے میں دیگر ممالک کیساتھ مقابلہ کرے گا بصورت دیگر ہم اس میدان میں باقی ممالک سے پیچھے ہی رہیں گے اور کپاس کے زیر کاشت رقبہ اور پیداوار میں بتدریج کمی ہوتی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ ٹیکسٹائل مل مالکان حکومت کو کاٹن سیس دینے پر اسی لیے تیار ہوئے تھے کہ ٹیکس کی رقم کپاس کے جدید بیج  کی تیاری، پیداوار میں اضافےاور کیڑوں مکوڑوں سے محفوظ رکھنے کیلئے تحقیق پر خرچ ہو لیکن ایسا نہیں ہوا۔

واضح رہے کہ جولائی 2012ء میں حکومت نے کاٹن سیس 20 روپے فی گانٹھ سے بڑھا کر 20 روپے کر دیا تھالیکن اپٹما نے اس کےخلاف عدالت سے حکم امتناعی حاصل کر لیا تھا کیونکہ اپٹما کے مطابق رقم تحقیق کی بجائے ملازمین کی تنخواہوں کی نذر ہو رہی تھی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here