کوشش ہے معیشت کی بہتری کے ثمرات عام آدمی تک پہنچیں : وزیراعظم

ماضی کی حکومتوں کی بدانتظامی کا خمیازہ آج عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے،  تنخواہ دار اور کمزور طبقے کو  ریلیف فراہم کرنے کیلئے حکومت ہر ممکن کوشش کر رہی ہے: اجلاس سے خطاب

122

اسلام آباد : وزیراعظم عمران خان نے معاشی اعشاریوں میں بہتری پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کی بھرپور کوشش ہے کہ معیشت کی بہتری کے ثمرات عام آدمی تک پہنچیں ، ماضی کی حکومتوں کی بدانتظامی کا خمیازہ آج عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔

جمعہ کو اپنے زیر صدارت مجموعی معاشی صورتحال کے جائزہ کیلئے منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ  کم آمدنی والے تنخواہ دار اور کمزور طبقے کو  ریلیف فراہم کرنے کیلئے حکومت ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔

اجلاس میں وزیر منصوبہ بندی اسد عمر، مشیر تجارت عبدالرزاق دائود، مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ، معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان، سیکرٹری خزانہ نوید کامران، گورنر اسٹیٹ بنک سید رضا باقر و دیگر سینئر افسران شریک ہوئے۔

یہ بھی پڑھیے:

کورونا وائرس: سرجیکل ماسک کی قلت پر وزیر اعظم کا نوٹس، ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا حکم

خواتین کو گھر چلانے کیلئے ایک گائے ،ایک بھینس اور تین بکریاں دیں گے:  وزیر اعظم عمران خان

اجلاس میں مجموعی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا گیا اور وزیرِ اعظم کو معاشی اعشاریوں بشمول کرنٹ اکائونٹ خسارہ، فارن ڈائریکٹ انویسٹمنٹ، بیرون ملک سے ترسیلات زر اور مہنگائی کی شرح کی موجودہ صورتحال پر بریفنگ دی گئی۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ مجموعی طور پر معاشی اعشاریوں میں بہتری کا رجحان ہے۔

 وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ ہفتہ وار ایس پی آئی میں بھی کمی کا رجحان سامنے آیا ہے اور اس میں مزید کمی کی توقع ہے۔

وزیرِ اعظم نے معاشی اعشاریوں میں بہتری پر اطمینا ن کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی بھرپور کوشش ہے کہ معیشت کی بہتری کے ثمرات عام آدمی کو میسر آئیں۔ انہوں نے کہا کہ ماضی کی حکومتوں کی بد انتظامی کا خمیازہ آج عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔

 انہوں نے کہا کہ حکومت کی ہر ممکنہ کوشش ہے کہ عوام اور خصوصاً کم آمدنی والے ، تنخواہ دار اور کمزور طبقے کو ہر ممکنہ ریلیف فراہم کیا جائے۔

وزیر اعظم نے ہدایت کی کہ معیشت کے استحکام اور معاشی اعشاریوں میں بہتری سے متعلق عوام کو آگاہ رکھا جائے تاکہ کاروباری برادری کا اعتماد مزید مستحکم ہو۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here