کورونا وائرس: سرجیکل ماسک کی قلت پر وزیر اعظم کا نوٹس، ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا حکم

وائرس سے متاثرہ کراچی کے مریض کی حالت بہتر،بلوچستان میں ایمرجنسی نافذ،یونیورسٹیاں 15 مارچ تک بند ، طبی عملے کی چھٹیاں منسوخ، ایران سے آنے والوں کو ایک ہفتہ قرنطینہ میں رکھنے کا فیصلہ،کوئٹہ میں لیبارٹری ،تفتان ، دالبندین میں آئسولیشن وارڈ قائم

41

اسلام آباد: پاکستان میں کورونا وائرس کے دو مریضوں کی تصدیق کے بعد مارکیٹ سے سرجیکل ماسک غائب کردئیے گئے تھے جس کے بعد شہریوں کی جانب سے سوشل میڈیا شدید غم وغصے کا اظہار کیا جا رہا ہے تاہم اب وزیر اعظم عمران خان نے صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ محکموں کو ماسک کے ذخیرہ اندوزوں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا حکم دیا ہے۔

کراچی اور اسلام میں کورونا وائرس سے متاثرہ دو مریض سامنے آنے کے بعد منافع خوروں نے سرجیکل ماسک کی قیمتیں یکدم ایک ہزار گنا تک بڑھا دی تھیں ، کئی شہروں میں تو میڈیکل سٹورز سے ماسک بالکل ہی غائب کر دئیے گئے تاکہ مہنگے داموں بیچے جا سکیں۔

وزیر اعظم نے حکم دیا ہے کہ ماسک بنانے اور فروخت کرنے والوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی عمل میں لائی جائے اور کسی کو بھی نہ بخشا جائے۔

معلوم ہوا ہے کہ راولپنڈی میں ایک فیکٹری پر چھاپے کے دوران سرکاری حکام نے 50 ہزار ماسک قبضے میں لے لیے ہیں، فیکٹری مالک کی جانب سے ماسک کا ڈبہ دو ہزار میں فروخت کیا جا رہا تھا۔

کورونا وائرس کے حوالے سے پاکستان میں صورتحال:

محکمہ صحت کے حکام کے مطابق کورونا وائرس کے شکار کراچی کے شہری یحییٰ جعفری کا طبی معائنہ کیا گیا اور اس کی صحت میں بہتری نظر آئی ہے، حکام نے بتایا کہ متاثرہ مریض کو ایران سے پاکستان آئے 8 روز مکمل ہوگئے، مریض کی حالت اب خطرے سے باہر ہے اور وہ صحت یاب ہورہا ہے۔ قرنطینہ کا دورانیہ مکمل ہونے کے بعد متاثرہ شخص کو گھر منتقل کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیے:

کورونا وائرس ، روک تھام کیلئے پاکستان کیا کر رہا ہے؟

کورونا وائرس: مصنوعات کی فروخت میں کمی سے مائیکروسافٹ کی آمدن متاثر، ٹویوٹا کو پرزہ جات کی قلت کا سامنا

دو ملازمین میں کورونا وائرس کی تصدیق، ہنڈائی موٹرز کا فیکٹری بند کرنے کا اعلان

واضح رہےکہ 20 فروری کو ایران سے کراچی آنے والے شہری میں 26 فروری کو کورونا وائرس کے کیس کی تصدیق ہوئی تھی جس کے بعد اسے نجی اسپتال کے آئسولیشن وارڈ میں منتقل کردیا گیا تھا۔

وائرس کے خدشے کے پیش نظر متاثرہ شخص کے اہلخانہ کو بھی زیرنگرانی رکھا گیا اور بعد میں تمام اہلخانہ کے ٹیسٹ منفی آنے کے بعد انہیں گھر جانے کی اجازت دی گئی۔

سعودی عرب کیلئے پروازوں کا شیڈول متاثر نہیں ہو گا:

سول ایوی ایشن اتھارٹی  کی جانب سے کہا گیا ہے کہ سعودی عرب کیلئے پاکستان سے پروازیں شیڈول کے مطابق جاری رہیں گی ،صرف عمرہ زائرین اور سیاحتی ویزہ کے حامل افراد سعودی عرب کا سفر نہیں کرسکیں گےالبتہ کام یا مستقل رہائش کا اجازت نامہ رکھنے والے افراد پر سعودی عرب کا سفر کرنے پر کوئی  پابندی نہیں ہے۔

ایوی اتھارٹی کی جانب سے ایمرجنسی کنٹرول روم قائم کیا گیا جہاں سے کورونا وائرس کے حوالے سے اقدامات سے متعلق معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں، کنٹرول سے 051- 9212378   یا 051-9244438 نمبرز پر رابطہ قائم کیا جا سکتا ہے۔

ایران سے واپس آنے والوں کو ایک ہفتہ قرنطینہ میں رکھنے کا فیصلہ:

وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے  صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے بلوچستان کے ضلع تفتان اور دالبندین کا دورہ کیا جہاں انہوں نے وزیراعلیٰ جام کمال سے بھی ملاقات کی۔

وزیراعلیٰ سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر ظفر مرزا نے بتایاکہ تفتان میں رکے ہوئے وہ زائرین جو ایران جانا چاہتے تھے، انہوں نے رضاکارانہ طور پر واپس آنے پر رضامندی ظاہر کی ہے جن کی تعداد 273 ہے۔

ملاقات میں طے کیا گیا کہ تفتان میں پاکستان ہاؤس میں ہنگامی بنیادوں پر قرنطینہ اور آئیسولیشن وارڈ قائم کیا جائے گا اور زائرین کو ایک ایک ہزار کی تعداد میں روزانہ اسکریننگ کے بعد وطن واپس لایا جائے گا جب کہ زائرین کو ایک ہفتہ تک قرنطینہ میں زیرنگرانی رکھا جائے گا۔

کوئٹہ میں جدید لیبارٹری قائم:

وزیراعلیٰ نے بتایا کہ صوبائی حکومت نے تفتان میں قرنطینہ اور تفتان اور دالبندین میں آئسولیشن وارڈ کے قیام کے لیے فوری طور پر دو کروڑ روپے جاری کردیئے گئے ہیں۔

ڈاکٹر ظفر مرزا نے بتایا کہ  کوئٹہ میں کورونا وائرس کی تشخیص کی جدید لیبارٹری قائم کردی گئی ہے جو کل (ہفتہ)سے فعال ہوجائے گی، لیبارٹری میں روزانہ کی بنیاد پر 100 ٹیسٹ کیے جاسکیں گے۔

بلوچستان میں ایمرجنسی نافذ :

حکومت بلوچستان نے کورونا وائرس کی وجہ سے صوبہ میں ایمرجنسی نافذ کرتے ہوئے ماہرین صحت سمیت تمام عملے کی چھٹیاں ، ہر قسم کی ڈیپوٹیشن اور ٹریننگ منسوخ کردی  ہے۔

سیکریٹری صحت نے اپنے تمام عملے کو اپنے اپنے جائے تعیناتی پر حاضر رہنے کی ہدایت کی ہے  اور  غیر حاضر عملے کو ملازمت سے برخاست کرنے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔

دوسری جانب گورنر سیکرٹریٹ سے جاری اعلامیے کے مطابق کورونا وائرس کی صورتحال کے پیش نظر صوبے میں تمام سرکاری یونیورسٹیاں 15 مارچ تک بند رہیں گی ۔

اس کے علاوہ صوبائی حکومت نے اسکولوں میں یکم مارچ سے شروع ہونے والی داخلہ مہم بھی مؤخر کردی ہے۔

 

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here