طورخم کنٹینرز سکینڈل، ایف بی آر کو تحقیقات کرکے ایک ماہ میں رپورٹ جمع کرانے کا حکم

37

اسلام آباد: پارلیمانی کمیٹی نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو طورخم کنٹینرز سکینڈل سے متعلق ایک مہینے میں تفصیلی رپورٹ جمع کرانے کا حکم دے دیا۔ 

یہ احکامات قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے جاری کیے ہیں جس  کا اجلاس ایم این اے فیض اللہ کی زیر صدارت ہوا۔

ایف بی آر کی قائم مقام چئیر مین نوشین جاوید نے کمیٹی کو بتایا کہ ڈائریکٹر جنرل انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشنز (کسٹمز) اسلام آباد نے چار خصوصی رپورٹس بھیجی ہیں جس میں انہوں نے دیگر امور کے علاوہ طورخم بارڈر پر کلئیرنس کے حوالے سے مسائل کا ذکر کیا ہے۔

نوشین جاوید نے قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ ایف بی آر نے معاملے کی تفتیش کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے دی ہے جس کی رپورٹ آنے پر ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

کمیٹی کے رکن قیصر احمد شیخ نے ایف بی آر کی چئیرپرسن سے پوچھا کہ ایف بی آر ایک ماہ گزرنے کے باوجود سکینڈل میں ٹیکس چوری کا تخمینہ کیوں نہیں لگا سکا؟ کمیٹی کی ایک دوسری رکن عائشہ غوث پاشا نے ایف بی آر کو معاملے کی تفصیلی تفتیش کی تجویز دی۔

یہ بھی پڑھیے:

اربوں روپے کا کنٹینر سکینڈل، محکمہ کسٹمز کے افسران سابق ڈائریکٹر کے خلاف بیان دینے سے ہچکچانے لگے

طورخم کسٹمز سٹیشن سے بغیر ٹیکس ادائیگی 115 کنٹینرز کلئیر کیے جانے کا انکشاف ،قومی خزانے کو  کروڑوں کا نقصان

کمیٹی کے چئیر مین نے سوال اٹھا کہ کسٹم انٹیلی جنس کو طورخم سرحد سے 355 کنٹینرز کے بغیر ٹیکس ادائیگی گزرنے کا علم موقع پر کیوں نہیں ہو سکا؟ جس پر کسٹمز آپریشنز کے رکن نے جواب دیا کہ انہیں  کچھ کنٹینر کی تلاشی کے دوران پتا چل گیا تھا کہ طورخم بارڈر پر ڈیوٹی اور ٹیکس ادا نہیں کیے گئے تاہم یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ کتنے ٹیکس کی چوری ہوئی۔

کسٹمز آپریشنز کے رکن نے ایم این اے قیصر شیخ کو بتایا کہ وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) بھی سکینڈل کی تفتیش کر رہی ہے۔

قائمہ کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ ڈائریکٹر جنرل کسٹمز انٹیلی جنس، تفتیشی ٹیم کے اراکین، ایف آئی اے کے اہلکاروں کو معاملے میں بات چیت کے لیے مزید ایک مہینے بعد بلایا جا سکتا ہے۔

واضح رہے کہ طورخم گیٹ سے اعلیٰ افسران کی ملی بھگت کیساتھ کنٹینرز کو بغیر ٹیکس ادائیگی گزارے جانے کا انکشاف ہوا تھا جس پر وزیراعظم عمران خان نے ممبر کسٹمز آپریشنز جواد آغاز اور پانچ کلیکٹرز کو برطرف کرنے کے حکم دیا تھا۔

ذرائع نے پاکستان ٹوڈے کو بتایا تھا کہ ڈائریکٹر جنرل کسٹمز انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن نے قائم مقام چیئرمین ایف بی آرکو مطلع کیا کہ دسمبر 2019ءمیں  طور خم بارڈر سے 355 کنٹینرز میں سے 115 کنٹینرز کو گڈز ڈکلیئریشن فارم بھرے بغیر اور امپورٹ ایکسپورٹ ڈیوٹیز اور ٹیکس ادا کیے بغیر گزرنے دیا تھا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here