پاک، افغان تعلقات میں اعتماد بحال کر کے تجارت کو فروغ دینے کی ضرورت ہے، انٹرپرینیورز

انٹرپرینیورز کی دونوں حکومتوں سے رابطوں کے فقدان، عدم اعتماد، منفی تاثر اور دو طرفہ تجارت میں عدم دلچسپی جیسے مسائل پر نظر ثانی کرنے کی اپیل

235

اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت میں پاک، افغان ٹریڈ اینڈ اکنامک کنیکٹویٹی کے تحت پاکستان اور افغانستان کے مابین کاروبار کے فروغ، تجارت میں خائل رکاوٹوں کو دور کرنے اور دوطرفہ تعلقات میں بہتری کےلیے کانفرنس منعقد کی گئی۔ 

کانفرنس پاک افغان ٹریڈ اینڈ اکنامک کنیکٹویٹی انیشی ایٹو  کے تحت سینٹر فار ریسرچ اینڈ سکیورٹی سٹڈیز (سی آر ایس ایس) کے زیر اہتمام منعقد کی گئی جس کا مقصد دونوں ممالک کے مابین کاروباری تعاون کے فروغ، شراکت داری اور جوائنٹ وینچرز کی نئی راہیں تلاش کرنا تھا۔

پاکستان اور افغانستان کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے  20 نوجوان انٹرپرینیورز نے دونوں ملکوں کے درمیان ممکنہ کاروبار میں تعاون اور فروغ پر اظہارِ خیال کیا اور دونوں حکومتوں سے رابطوں کے فقدان، عدم اعتماد، منفی تاثر اور افغانستان کی نازک سیاسی صورتحال پر دو طرفہ تجارت میں عدم دلچسپی جیسے مسائل پر نظر ثانی کرنے کی اپیل کی۔

اس موقع پر پاک افغان جوائنٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (پی اے جے سی سی آئی) کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر نقیب اللہ صافی نے کہا کہ نئے تجارتی قوانین سے متعلق شعور کی کمی دونوں طرف سے واضح ہو رہی ہے، میڈیا کے منفی رپورٹنگ کرنے سے شہریوں کے ویزا مسائل اور باہمی تعاون یا سرمایہ کاری کو نقصان پہنچاہے۔

سابق چئیرمین بورڈ آف انویسٹمنٹ نعیم زمیندار نے دونوں ملکوں کے انٹرپرینیورز کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ زیادہ سے زیادہ لوگوں سے رابطے اور چھوٹے کاروباری مواقع کی تلاش پر توجہ دیں۔

ایک انٹرپرائزز کی ڈائریکٹر فاطمہ انیلہ نے کہا کہ ایک دوسرے پر عدم اعتماد پاکستان اور افغانستان کا حقیقی مسئلہ ہے، دونوں ممالک کو مسائل پر قابو پانے کے لیے نئے مواقع تلاش کرنے کی ضرورت ہے، معاشی ترقی سے دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات میں بہتری آئے گی۔

انہوں نے کہا کہ ایک کاروباری اور انٹرپرینیور میں بنیادی فرق یہ ہے کہ کاروباری شخص ہمیشہ پیش آنے والے مسائل کی بات کرتا ہے جبکہ انٹرپرینیور مسئلے کے حل کے بارے میں سوچتا ہے۔

انہوں نے پاکستان، ایران اور افغانستان کے  انٹرپرینیورز سے کہا کہ وہ قابل تجدید توانائی کے شعبے میں شراکت داری قائم کرنے اور خطے میں معاشی ترقی سے متعلق دوسرے شعبوں میں کوششیں جاری رکھیں۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here