’مارچ میں پاکستان کے جی ایس پی پلس سٹیٹس میں توسیع ہوسکتی ہے‘

52

اسلام آباد: وزیر اعظم کے مشیر تجارت عبدالرزاق دائود نے عندیہ دیا ہے کہ  ہوسکتا ہے مارچ میں  یورپی یونین پاکستان کے جی ایس پی پلس (جنرلائزڈ سسٹم پریفرنسز  ) درجہ میں توسیع کردے۔

اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مشیر تجارت نے کہا ،’’ہمیں امید ہے کہ یورپی یونین (2022 کیلئے) پاکستان کے جی ایس پی  پلس سٹیٹس کی مدت بڑھا دے گی، ڈیووس میں عالمی اقتصادی فورم کے موقع پر وزیر اعظم عمران خان کی متعلقہ حکام سے مفید ملاقاتیں ہوئی تھیں جن میں یورپی یونین  کے اراکین بھی شامل تھے، جی ایس پی پلس کے حوالے سے حمایت حاصل کرنے کیلئے میں نے بھی کئی یورپی قانون سازوں سے ملاقاتیں کی تھیں۔‘‘

پاکستان کو یورپی یونین کی جانب سے جی ایس پی پلس کا درجہ پہلی بار 2013 میں دیا گیا تھا، یورپی یونین کو آئندہ ماہ اس کی مدت میں توسیع کا فیصلہ کرنا ہے، اس حوالے سے لابنگ  کیلئے گزشتہ سال کے آخر میں گورنر پنجاب چودھری محمد سرور نے بھی یورپ کا انتہائی اہم دورہ کیا تھا جہاں انہوں نے یورپی پارلیمنٹرینز اور اہم کاروباری شخصیات سے ملاقاتیں کی تھیں۔

یہ بھی پڑھیے:

کیا پاکستان سی پیک میں امریکا کو شامل کرنے جا رہا ہے؟

پاکستان میں کاروبار اور سرمایہ کاری کے فروغ کیلئے طریقہ کار کو آسان بنا رہے ہیں: رزاق دائود

امریکا، چین اور برطانیہ۔۔۔ پاکستانی مصنوعات کی بڑی منڈیاں

مشیر تجارت عبدالرزاق دائود نے کہا کہ حکومت معاشی اہداف کے حصول کیلئے ٹیکسٹائل پالیسی متعارف کرانے پر کام کر رہی ہےجس کا اعلان آئندہ دو ہفتوں تک کردیا جائے گا۔

واضح رہے کہ گزشتہ دنوں اپٹما نےبجلی ٹیرف پر اختلافات کی وجہ سے ملک بھر میں ٹیکسٹائل فیکٹریاں بند کرنے کا اعلان کردیا تھا، اپٹما کے مطابق 12 ماہ کے بقایا جات بل یکمشت بھجوا دیئے گئے اور وہ کروڑوں روپے کے اضافی بل ادا نہیں کر سکتے۔ بعد ازاں جس کے بعد اپٹما رہنمائوں نے وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی تھی جس پر حکومت نے ٹیکسٹائل سیکٹر کے برآمدات کنندگان کو سبسڈی دینے اور ٹیکسٹائل پالیسی متعارف کرانے کا اعلان کیا تھا۔

پاک امریکا تجارتی تعلقات:

رزاق دائود نے صحافیوں کو بتایا کہ امریکی سیکریٹری تجارت کا حالیہ دورہ پاکستان ڈیووس میں وزیر اعظم عمران خان اور ڈونلڈ ٹرمپ کی ملاقات کا ہی نتیجہ ہے اور افغان امن معاہدہ پر دستخط سے پاک امریکا تعلقات مزید مضبوط ہونگے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان امریکی مارکیٹوں تک زیادہ سے زیادہ رسائی اور سرمایہ کاری حاصل کرنا چاہتا ہے اور یہی موقف ہم نے ولبر راس کے حالیہ دورہ کے موقع پر انکے گوش گزار کیا ہے۔ جواباََ امریکی حکام نے ان شعبوں کی نشاندہی کی ہے جہاں سے پاکستانی برآمد کنندگان اپنی برآمدات بھیج کر فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا ،’’امریکی حکام کیساتھ ٹریڈ اینڈ انویسٹمنٹ فریم ورک ایگریمنٹ (ٹیفا) کے حوالے سے اجلاس بلانے پر اتفاق ہوا ہے، پاکستانی کاروباری برادری کیلئے آئندہ مہینوں میں امریکا میں ایک بزنس کانفرنس کا اہتمام  بھی کیا جائے گا۔‘‘

مشیر تجارت نے بتایا کہ انہوں نے اپنے امریکی ہم منصب کو کہا ہے کہ ٹریول ایڈوائزری کے حوالےسے پاکستانیوں کو ہم ممکن سہولت دی جائے تاکہ دو طرفہ تعلقات مزید فروغ پذیر ہو سکیں، تاہم امریکی سیکریٹری تجارت ولبر راس نے کہا ہے ،’ٹریول ایڈوائزری کے معاملات محکمہ خارجہ دیکھتا ہے اور بطور سیکریٹری تجارت وہ اس میں کچھ نہیں کر سکتے۔‘

انہوں نے کہا کہ امریکی وفد کو پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع کے حوالے سے بریفنگ دی گئی ہے، انہیں بتایا گیا ہے کہ انرجی، تیل و گیس، زراعت ، فوڈ پراسیسنگ اور ای کامرس کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے بے پناہ مواقع موجود ہیں جن سے امریکی سرمایہ کاری فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ امریکی وفد نے مذکورہ شعبوں میں سرمایہ کاری میں گہری دلچسپی ظاہر کی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں مشیر تجارت کا کہنا تھا کہ سات ماہ کے دوران پاکستان کی برآمدات میں 2.25 فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ اسی مدت کے دوران ہمسایہ ممالک  بھارت، بنگلہ دیش اور چین کی برآمدات میں کمی ہوئی ہے ، یہ کہنا غلط ہے کہ حکومت کچھ نہیں کر رہی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here