کوروناوائرس، چین کے ساتھ اعلیٰ سطحی مذاکرات کا دور متاثر نہیں ہوگا، اسد عمر

43

اسلام آباد: کورونا وائرس کے باعث اگرچہ چین کے ساتھ تجارتی سرگرمیاں بدترین طور پر متاثر ہو رہی ہیں، تاہم، چین کے صدر کا طے شدہ دورہ پاکستان، پاک چین اقتصادی راہدای کی مشترکہ تعاون کمیٹی (جے سی سی) میں شرکت اور پاکستان اور چین کے درمیان تجارت سے متعلقہ دیگر مذاکرات متاثر نہیں ہوں گے۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے منصوبہ بندی، ترقی اور اصلاحات کے اجلاس کے دوران وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے کہا کہ چینی صدر کا دورہاا پاکستان طے شدہ شیڈول کے تحت جلد فائنلائز کر لیا جائے گا۔

انہوں نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ وائرس کے ساتھ پیش آنے کے چیلنج کے باوجود سی پیک کے اعلیٰ ترین فورم جے سی سی کا اگلا اجلاس اپریل میں پاکستان میں ہوگا جس میں اعلیٰ سطحی چینی وفد بھی شریک ہو گا۔

مزید پڑھیں: کیا پاکستان سی پیک میں امریکا کو شامل کرنے جا رہا ہے؟

وفاقی وزیر نے کہا کہ پاک چین جوائنٹ ورکنگ گروپس کے جاری اجلاس بھی وائرس سے متاثر نہیں ہو رہے جیسا کہ ان میں سے کچھ اجلاس ویڈیو کانفرنس کے ذریعے ہو رہے ہیں۔

اسد عمر نے کہا، وزیراعظم عمران خان کو صورت حال کے بارے میں مستقل طور پر آگاہ کیا جا رہا ہے۔ آج کی تاریخ تک ان امکانات پر کوئی بات نہیں ہوئی کہ سرحد کے اطراف سے وفود دونوں ملکوں کا دورہ کرنا چھوڑ دیں۔

مزید پڑھیں: سی پیک کے دوسرے مرحلے پر کام پوری رفتار سے جاری ہے، عاصم باجوہ

انہوں نے کہا، حکومت چیمبرز آف کامرس کے علاوہ چین کے ساتھ سی پیک منصوبوں میں براہِ راست کاروبار کر رہے لوگوں کی شمولیت میں اضافہ یقینی بنائے گی۔

وفاقی وزیر نے کہا، ہمیں مینوفیکچرنگ اور زرعی شعبوں میں تعاون بڑھانے کی ضرورت ہے۔

دریں اثناء، وزارتِ منصوبہ بندی کے ایڈیشنل سیکرٹری نے کمیٹی کی تجاویز پر عملدرآمد کے بارے میں آگاہ کیا۔

کمیٹی کو داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کے بارے میں آگاہ کیا گیا کہ خیبرپختونخوا کے چیف سیکرٹری کی قیادت میں 21 جنوری کو میٹنگ ہوئی جس کا مقصد اراضی کے حصول کا معاملہ حل کرنا تھا۔

مزیدبرآں، وزیراعظم کے مشیر کی قیادت میں ایک ذیلی میٹنگ بھی ہوئی جس میں اراضی کے حصول پر ہونے والی پیشرفت پر بات ہوئی اور وہ ڈیڈ لائن بھی زیرِبحث آئی جب تک یہ اراضی حاصل کر لی جائے گی۔

داسو ہائیڈروپاور پراجیکٹ کے پہلے مرحلے میں ان کاشت کاروں سے رقوم کی ادائیگی کی تفصیل حاصل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے جن سے اراضی حاصل کی جا چکی ہے۔

مزید پڑھیں: کرونا وائرس سے سی پیک کے تحت جاری منصوبوں کی بروقت تکمیل متاثر نہیں ہوگی: چینی سفیر

کمیٹی کو یہ بھی آگاہ کیا گیا کہ واپڈ داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ میں لوکل ایریا ڈویلپمنٹ پروگرام پر عملدرآمد کر رہا ہے جس میں آٹھ تعمیراتی سکیمیں شامل ہیں۔

مزیدبرآں، “The General Statistics (Reorganization) (Amendment) Bill, 2019” کمیٹی کے اگلے اجلاس تک ملتوی کر دیا گیا۔

واپڈا کے چیئرمین نے کمیٹی کو تربیلا کے چوتھے توسیعی ہائیڈروپاور پراجیکٹ (1410 میگاواٹ) صوابی کے بارے میں بریف کرتے ہوئے کہا کہ تربیلا 4 فوری اثرانداز ہونے والے ہائیڈروپاور منصوبوں کے پیکیج کا حصہ ہے اور یہ موجودہ تربیلا یونٹس سے زیادہ موثر ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ تربیلا 4 کام شروع کرنے کے بعد سے اب تک 6,347 ارب یونٹ بجلی پیدا کر چکا ہے، انہوں نے مزید کہا کہ منصوبے کا بنیادی مقصد کم قیمت ماحول دوست بجلی کا حصول ہے۔

واپڈا کے سربراہ نے کمیٹی سے بات کرتے ہوئے کہا، اس منصوبے سے ناصرف واپڈا کی مالی پوزیشن مستحکم ہو گی بلکہ اتھارٹی دیامر بھاشا ڈیم کے لیے کمرشل فنانسنگ کرنے کے قابل بھی ہو جائے گی۔

پشاور موڑ سے نیو اسلام آباد ایئرپورٹ تک میٹرو بس سروس کے انفراسٹرکچر اور اس سے متعلقہ سرگرمیوں پر بات کرتے ہوئے نینشل ہائی وے اتھارٹی کے ایک رُکن نے آگاہ کیا کہ سول اور ساختیاتی دونوں طرح کا کام جاری ہے۔

ممبر نے مزید کہا، قومی اقتصادی کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی سے مارچ 2018 میں اجازت کے حصول کے بعد نمایاں سول ورک مکمل کیا جا چکا ہے جن میں میٹرو بس کارویڈور، انڈرپاسز، پل اور انٹرچینجز شامل ہیں۔

ان کا کہنا تھا، فنشنگ اور الیکٹرومکینیکل کا کام فی الحال جاری ہے جب کہ انفراسٹرکچر سے متعلقہ کام رواں برس 30 مارچ سے قبل مکمل ہو جائے گا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here