کورونا وائرس: امریکی سٹاک مارکیٹ کو 2100 ارب ڈالر کا دھچکا، خام تیل کی قیمت میں 16 فیصد کمی، ائیرلائنز کو 30ارب ڈالر نقصان

چین میں تجارتی مراکز کھلنے ،ورکرز کام پر لوٹنے لگے،حفاظتی اقدامات میں جزوی نرمی،سپلائی چین متاثر ہونے کی وجہ سے پیداواری صلاحیت معمول پر آنے میں وقت لگے گا

121

بیجنگ ، شنگھائی: چین سے پھیلنے والے کورونا وائرس نے عالمی معاشی طاقتوں کو گھٹنوں کے بل گرا دیا ہے، ایک ہفتے میں امریکی سٹاک مارکیٹ میں 21 سو ارب ڈالر ڈوب گئے ہیں، خام تیل کی قیمتوں میں 16 فیصد کمی ہو چکی ہے جبکہ چین کیساتھ فضائی رابطے منقطع ہونے کے بعد ہوائی کمپنیوں کو 30 ارب کا نقصان ہو چکا ہے۔

چین میں کرونا وائرس نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 52 افراد کی جان لے لی ہے جس کے بعد چین میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 2715 تک پہنچ گئی ہے، جان لیوا کرونا وائرس 40 سے زائد ممالک تک پہنچ گیا ہے۔

چین کے بعد جنوبی کوریا جان لیوا کرونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے، جنوبی کوریا میں متاثرین کی تعداد 1146 تک پہنچ گئی ہے جبکہ اب تک 11 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ یورپی ممالک میں اٹلی کی صورتحال تشویشناک ہے، اٹلی میں کرونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد 12 ہو گئی ہے۔ اٹلی میں اب تک مجموعی طور پر 300 کیسز سامنے آ چکے ہیں، اٹلی میں وائرس کے خطرے کے پیش نظر 11 ٹائونز میں لاک ڈائون کر دیا گیا ہے۔

امریکی کمپنیوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر یہی حالات برقرار رہے تو کمپنیوں کے منافع میں کافی حد تک کمی آسکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے:

کورونا وائرس، پاکستانی درآمد کنندگان کو خام مال کے حصول میں مشکلات، دیگر ممالک سے منگوانے کی کوششیں

کورونا وائرس، آئی فونزکی سپلائی متاثر ،ایپل کو آمدن میں کمی کا سامنا

کورونا وائرس، چین سمیت ایشیائی معیشتوں پر دبائو بڑھنے ، معاشی نمو کم رہنے کا امکان: ریٹنگ ایجنسی موڈیز

کورونا وائرس: چین کی معیشت شدید متاثر، مہنگائی 8 سال کی بلند ترین سطح پر، اشیائے خورونوش 20 فیصد مہنگی

معاشی سست روی کے باعث خام تیل کی طلب میں کمی سے اس کی قیمیتں بھی گرنا شروع ہو گئیں، ایک ماہ میں خام تیل کی قیمت 16 فیصد کمی کے بعد 55 ڈالر 40 سینٹ فی بیرل جبکہ امریکی خام تیل 15 فیصد کمی کے بعد 51 ڈالر 40 سینٹ فی بیرل میں فروخت ہورہا ہے جبکہ ایشیا میں آئل ریفائریز کے حصص کی مالیت 14 فیصد گر گئی جس کی بڑی وجہ ہوائی سفر میں کمی بتائی جارہی ہے۔

کرونا وائرس سے ائیرلائنز کمپنیوں کی کئی پروازیں متاثر ہوئیں، صرف ایشیائی ممالک میں آنے والی پروازیں منسوخ ہونے سے کمپنیوں کو 27 ارب 80 کروڑ ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا جبکہ مجموعی طور پر عالمی سطح پر ائیرلائنز کو 30 ارب ڈالر کا نقصان ہوا۔

چین میں معاشی سرگرمیاں شروع:

چین میں کورونا وائرس کی وجہ سے لگائی گئی سفری پابندیوں کے اٹھنے کے بعد مشرقی اور جنوبی شہروں میں تجارتی سرگرمیاں دوبارہ شروع ہو رہی ہیں اور ہزاروں ورکرز دوبارہ کام لوٹ رہے ہیں جس کے باعث سڑکوں پر ٹریفک بھی زیادہ دکھائی دینے لگی ہے۔

چین کے بیشتر شہروں میں کورونا وائرس کی وجہ سے عائد سخت حفاظتی اقدامات میں کسی حد تک نرمی کی گئی ہے جس کے بعد پبلک ٹرانسپورٹ میں مسافروں کی تعداد میں اضافہ دکھائی دے رہا ہے اور فیکٹریوں میں کام شروع ہونے کے بعد 180 ملین ورکرز 10 فروری کے بعد کام پر پہنچ چکے ہیں۔

چین کمپنی Baidu کے مطابق معاشی و اقتصادی سرگرمیوں کا مرکز جنوبی شہر گوانگ ڈونگ اور ٹیکسٹائل اور مشینوں کا مرکز مشرقی شہر زی جیانگ میں ورکرز کی آمد میں اضافہ ہوا ہے۔

کمپنیوں اور فیکٹریوں میں کام دوبارہ شروع ضرور ہو چکا ہے تاہم پیداواری صلاحیت ابھی تک معمول پر نہیں آئی کیونکہ تجارتی و سفری  پابندیوں کے باعث سپلائی چین شدید متاثر ہوئی تھی ،کئی کمپنیوں کو ورکرز کی کمی کا بھی سامنا ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here