کورونا وائرس، پاکستانی درآمد کنندگان کو خام مال کے حصول میں مشکلات، دیگر ممالک سے منگوانے کی کوششیں

111

کراچی: چین سے کورونا وائرس کی وجہ سے ہلاکتوں اور تجارتی و سفری پابندیوں کی وجہ سے پاکستانی درآمدکنندگان کو مشکلات کا سامنا ہے اور وہ چین سے خام مال کی درآمد کے تازہ آرڈر نہیں دینے میں ہچکچا رہے ہیں۔

چین میں کورونا وائرس سے دو ہزار سے زائد افراد ہلاک جبکہ تیس ہزار سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں، وائرس چین کے بعد یورپ ، مشرق وسطیٰ ، امریکا ، ایران تک پھیل چکا ہے، یورپ میں سب سے زیادہ ہلاکتیں اٹلی میں ہوئی ہیں، عالمی ادارہ صحت کی جانب سے وائرس کو عالمی وبا قرار دے کر حفاظتی انتظامات کی تلقین کی گئی ہے۔

پاکستان کے درآمدکنندگان چین سے خام مال کی درآمد کے حوالے سے درپیش مشکلات کی وجہ سے دیگر ممالک سے خام مال درآمد کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ایک اخباری رپورٹ کے مطابق اس وجہ سے چینی بندرگاہوں پر اشیا کی کلیئرنس متاثر ہوئی ہے جبکہ مقامی بندرگاہوں پر کسی قسم کا مسئلہ سامنے نہیں آیا۔

اس کے علاوہ غیر ملکی خریداروں نے بھی مقامی برآمدکنندگان کو خام مال کے دیگر ذرائع کی تلاش کی نشاندہی کا کہنا شروع کردیا ہے تاکہ برآمد کی ترسیل میں کوئی تاخیر نہ آسکے۔

یہ بھی پڑھیے:

پاکستان درآمدات میں اضافہ، مزید ملکوں کیساتھ فری ٹریڈ ایگریمنٹ کرے: آئی ایم ایف

سات ماہ کے دوران پاکستان کا تجارتی خسارہ 27.93 فیصد کم ہو گیا

ادھر مشیر تجارت رازق دائود نے کہا ہے کہ کورونا وائرس نے معاشی سرگرمیوں کو بدترین طور پر متاثر کیا ہے، یہ ایک حقیقت ہے کہ اس کے اثرات پاکستان میں بھی محسوس کیے گئے ہیں کیوں کہ ملکی درآمدات کا ایک بڑا حجم چین سے درآمد کیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزارت مقامی مصنوعات اور برآمدات پر کروناوائرس کے ممکنہ اثرات کی نگرانی کر رہی ہے۔

ادھرسائٹ ایسوسی ایشن آف انڈسٹری کے پیٹرن زبیر موتی والا نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ چین سے درآمد کیے گئے رنگوں اور کیمیکلز کے کنٹینرز کو جلد از جلد کلیئرنس فراہم کرے۔

انہوں نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے، پاکستان کی چین سے درآمدات کا ہدف 12 ارب ڈالر ہے اور ان میں اکثریت رنگوں اور کیمیکلز کی ہے جو ٹیکسٹائل سیکٹر کے لیے بنیادی خام مال کی حیثیت رکھتے ہیں اور یہ پاکستان کا سب سے زیادہ زرمبادلہ کمانے والا سیکٹر ہے۔

زبیر موتی والا نے مزید کہا کہ  چینی بندرگاہوں پر روکے گئے پاکستانی کنٹینرز کے باعث خام مال کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے جب کہ دیگر متبادل سپلائرز جیسا کہ کوریا، تائیوان اور انڈیا نے یا تو سپلائی روک دی ہے یا وہ 30 سے 35 فی صد سے زیادہ رقم طلب کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھاکہ ہمارے ارکان یہ شکایت کرتے ہیں کہ یہ صورتِ حال ان کے لیے مشکل ہو رہی ہے کہ وہ خام مال کی قلت کے باعث پیداواری سرگرمیاں جاری رکھیں کیوں کہ مقامی منڈی میں ان کی قیمت 50 سے 100 فی صد تک بڑھ گئی ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان کی چین سے درآمدات کا حجم 12 ارب ڈالر ہے جس میں سے زیادہ تر حصہ ڈائیز اور کیمیکلز پر منحصر ہوتا ہے جو ملک کے لیے سب سے زیادہ غیر ملکی زر مبادلہ کمانے والے ٹیکسٹائل کے شعبے کے لیے اہم خام مال ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here