نیشنل بینک کی ایبٹ آباد برانچز میں 38 کروڑ 50 لاکھ روپے کے فراڈ کا انکشاف

186

اسلام آباد: نیشنل بینک آف پاکستان کی خانس پور، ایوبیا اور کھیرا گلی برانچز میں تعینات کیشئیرز کی جانب سے 38 کروڑ 50 لاکھ روپے کی خرد برد میں ملوث ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ فراڈ میں مبینہ طور پر ملوث کیشئیرز نے برانچ مینجرز کی ملی بھگت سے رقم میں خرد برد کی ہےجس کا  سرسری تخمینہ دیا جا چکا ہے، نیشنل بینک کےاعلیٰ افسران معاملے کی تفتیش کر رہے ہیں۔

کرپشن سکینڈل میں ملوث نجم شاہ نامی شخص کو حراست میں لیا جا چکا ہے جبکہ اسکا دوسرا ساتھی سردار جہانگیر فرار ہو گیا ہے۔

تفتیشی ٹیم نے کھیرا گلی برانچ کے دورہ کیا تو انہیں معلوم ہوا کہ بینک کی برانچز میں رابطہ کاری نہ ہونے کی وجہ سے معاملات کو غیر موثر طور پر چلایا جا رہا تھا اور رہاں ایک برانچ کے کیشئیر کو تو مالی بے ضابطگیوں کا علم ہی نہیں تھا۔

تفتیشی ٹیم نے B 52 بیلنس چیک کیا تو انکشاف ہوا کہ بیلنس اچانک 31 دسمبر 2019ء کے بعد بڑھ گیا تھا۔

تفتیشی ٹیم کو معلوم ہوا کہ برانچ مینجر اور دیگر عملہ ڈے بکس یا واؤچر تیار نہیں کرتے، اسکے علاوہ برانچ کے اکاؤنٹس سے بار بار سے بڑی رقوم نکلوائی جاتی رہیں تاہم ادائیگیاں نہیں کی گئیں۔

 ٹیم کے مطابق کھیرا گلی برانچ میں ساڑھے 24 کروڑ روپے اور ایوبیا برانچ میں 19 کروڑ ملین روپے کی خرد برد کا انکشاف ہوا ہے،تفتیش کے دوران تجوریوں سے 13 سونے کے بیگ  برآمد ہوئے ہیں۔

تفتیشی ٹیم کو معلوم ہوا کہ کھیرا گلی کے برانچ مینجر اور ایوبیہ گلی کے برانچ مینجر  نے ایک دوسرے کے خلاف اینٹریز کی ہوئی تھیں۔

ذرائع نے کہا ہے کہ بظاہر ہر چیز معمول کے مطابق لگ رہی تھی،  برانچ مینجر نے تمام کھاتوں کے اندراج کو ایڈجسٹنگ اکاؤنٹس میں منتقل کرنے اور کھیرا گلی کے مینجر کے تعاون سے کیشن ان ہینڈ کرنے کا اعتراف کیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ صدر نیشنل بینک پاکستان عارف عثمانی نے عہدہ سنبھالنے کے بعد کئی بار کنڑیکٹ ملازمین کے حوالے سے اصلاحات لاگو کرنے کے احکامات جاری کیے۔

نیشنل بینک کے ترجمان ابنِ حسن نے  رابطہ کرنے پر بتایا کہ بینک کی جانب سے تفتیش کا عمل جاری ہے اور خرد برد کی گئی رقم کی وصولی کیلئے کوششیں کی جارہی ہیں۔

ترجمان نے کہا ہے کہ بینک اس کیس کے حوالے سے قانون کے مطابق پیشرفت کر رہا ہے اور مستقبل میں ایسے سکینڈلز سے بچنے کے لیے نظام کو بہتربنایا جائے گا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here