سٹیٹ لائف انشورنش کارپوریشن کا گزشتہ دو ماہ سے کوئی سربراہ نہیں

309

اسلام آباد: پارلیمانی کمیٹی کو جب یہ معلوم ہوا کہ ملک کا ایک اہم ترین قومی ادارہ سٹیٹ لائف انشورنش کارپوریشن (ایس ایل آئی سی) گزشتہ دو ماہ سے کسی سربراہ کے بغیر کام کر رہی ہے تو وہ حیرت زدہ رہ گئی۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے کامرس کے اجلاس کے دوران ایس ایل آئی سی کے حکام نے یہ انکشاف کیا کہ ایس ایل آئی سی کے سربراہ کی آسامی کے دو اشتہارات دیے جانے کے باوجود یہ آسامی اب بھی خالی پڑی ہے۔

حکام نے بھی آگاہ کیا کہ کارپوریشن کے سربراہ کی عدم موجودگی میں کسی کو بھی قائم مقام سربراہ کا چارج نہیں دیا گیا۔

کمیٹی کے سربراہ نوید قمر نے حکام سے ایک ایسے حکومتی ادارے کے معاملات کے بارے میں استفسار کیا جو اربوں روپے کا کاروبار کرتا ہے اور غیرمعمولی اثاثوں کی ملکیت رکھتا ہے۔

مزید پڑھیں: ٹی پی ایل انشورنس 1 ارب روپے کی بیرونی سرمایہ کاری حاصل کرنے میں کامیاب

وزارت خزانہ اور ایس ایل آئی سی کے حکام کو چیئرمین کی آسامی کے خالی ہونے کے بارے میں کچھ معلوم نہیں تھا۔ تاہم، ایک افسر نے دعویٰ کیا کہ کارپوریشن میں سے ہی کسی دوسرے افسر کو اضافی چارج دینے کے حوالے سے سمری وفاقی کابینہ کی منظوری کی منتظر ہے۔

وزارتِ خزانہ کے حکام نے آگاہ کیا کہ نئے قوانین کے تحت وفاقی کابینہ ہی وہ واحد اتھارٹی ہے جو سرکاری اداروں کی اہم آسامیوں کے لیے اضافی چارج دینے کی منظوری دے سکتی ہے۔

کمیٹی نے بعدازاں وزارت کو یہ معاملہ جلد از جلد حل کرنے کی ہدایت کی کیوں کہ ایس ایل آئی سی کے چیئرمین کی عدم موجودگی کے باعث ادارے کے امور متاثر ہو رہے ہیں۔

مزید پڑھیں: کسانوں کا فصلوں کو ٹڈی دل سے بچاؤ کے لیے انشورنس کا مطالبہ

دریں اثناء، کمیٹی نے ایس ایل آئی سی کے دیہاڑی دار ورکرز کی برطرفی کے معاملات پر بھی بات کی۔

کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ ایس ایل آئی سی نے ادارے میں نئی بھرتیاں کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ حکام کے مطابق، ایس ایل آئی سی 590 نئے ملازمین کی بھرتی کا اشتہار دے گی اور برطرف کیے گئے 152  دیہاڑی دار ورکرز کو ترجیحی بنیادوں پر زیرغور لایا جائے گا (ان کی دیہاڑی میں پانچ فی صد تک اضافہ بھی کیا جائے گا)۔

کمیٹی نے تجویز دی کہ ایک برس تک ملازمت کرنے کے بعد برطرف کیے جانے والے ورکرز کو ترجیحی بنیادوں پر زیرِ غور لایا جانا چاہئے۔

قبل ازیں، قومی اسمبلی کی کمیٹی نے وزارت کامرس کی جانب سے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے تناظر میں مالی سال 21-2020 کے حوالے سے بجٹ کی تجاویز پر غور کیا۔

ایڈیشنل سیکرٹری نے مجوزہ پی ایس ڈی پی 21-2020 پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ پشاور اور کوئٹہ کے ایکسپو سنٹرز کی ری ماڈلنگ اور کراچی ایکسپو سنٹر میں توسیع کے لیے درکار فنڈز کے بارے میں متعلقہ حکام کو آگاہ کیا جا چکا ہے۔

انہوں نے کمیٹی کو کراچی ایکسپو سنٹر (II & III) کی ری ماڈلنگ کی نئی سکیموں کے بارے میں بھی بریف کیا۔

مزیدبرآں، کمیٹی نے حکومت کی جانب سے فن لینڈ کو ڈومیسٹک ایکسپورٹس بڑھانے کے لیے کیے گئے اقدامات پر بھی بات کی۔

ایڈیشنل سیکرٹری نے پارلیمانی کمیٹی کو آگاہ کیا کہ فن لینڈ کو پاکستانی برآمدات کا حجم گزشتہ کئی برسوں سے کم ہو رہا ہے ۔ کمیٹی نے وزارت خزانہ کی جانب سے قومی اسمبلی میں اس بارے میں پوچھے سوال کے جواب پر سنجیدہ نوٹس لیا جس میں وزارت نے یہ ذکر کیا تھا کہ 2018 میں فن لینڈ کو برآمدات میں 15 فی صد تک اضافہ ہوا تھا۔

قومی اسمبلی کی کمیٹی نے وزارت کو اس معاملے کی تفتیش کرنے کی ہدایت کی اور پارلیمان میں غلط معلومات فراہم کرنے کے ذمہ دار افسروں کے خلاف کارروائی کرنے کی ہدایت کی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here