کراچی سٹاک ایکسچینج کے لیے ایک اور برا دن، انڈیکسز مسلسل اتار چڑھائو کا شکار رہے

299

کراچی: پاکستان سٹاک ایکسچینج کے تجارتی ہفتے کا ناقابلِ فراموش آغاز ہوا جیسا کہ کورونا وائرس کے بڑھتے ہوئے معاملات کے حوالے سے تشویش اور عالمی شرح نمو میں مجموعی کمی کے حوالے سے پیشگوئیوں کے باعث انڈیکسز اتار چڑھائو کا شکار رہے۔

غیر ملکی سرمایہ کاروں نے گزشتہ ہفتے (17 سے 21 فروری تک) نیٹ سیلرز کے طور پر کردار ادا کیا اور 8.57 ملین ڈالر نکال لیے۔

1,169.44سے زیادہ کمی کے باعث کے ایس ای انڈیکس کی نفسیاتی حد نے اپنی کم ترین سطح 39,079.78 کو چھوا۔ دن کے اختتام پر مجموعی طور پر 1,105.49 پوائنٹس کی کمی آئی اور یوں انڈیکس 39,143.73 تک پہنچ گیا۔ کے ایم آئی 30-انڈیکس 2,026.23 پوائنٹس یا منفی تین اعشاریہ 19 فی صد کی کمی کا شکار ہو کر 61,555.55  پر بندا ہوا جب کہ کے ایس ای آل شیئر انڈیکس میں 686.85 پوائنٹس کی کمی آئی جو 28,248.30 پر بندا ہوا۔

دوسری جانب مجموعی طور پر 44 شیئرز کی قدر میں اضافہ اور 258 شیئرز کی قیمت میں کمی آئی۔

مزید پڑھیں: یہ ہفتہ اسٹاک مارکیٹ کیلئے کیسا رہا؟

کے ایس سی 100 انڈیکس میں کمی کا باعث بننے والے شعبوں میں بنکنگ، آئل اینڈ گیس ایکسپلوریشن اور فرٹیلائزر شامل ہیں۔ پاک پیٹرولیم لمیٹڈ اور حب پاور کمپنی لمیٹڈ نے انڈیکس پر سب سے زیادہ منفی اثرات مرتب کیے۔

گزشتہ ہفتے کی نسبت شیئرز کی مجموعی تجارت میں اضافہ ہوا اور 144.28 ملین شیئر فروخت ہوئے اور ہاسکول پیٹرولیم لمیٹڈ، یونیٹی فوڈز لمیٹڈ اور کے الیکٹرک لمیٹڈ اس تناظر میں نمایاں رہیں۔

دریں اثنا، پاکستان ٹوبیکو کمپنی نے رواں مالی سال کی دوسری سہ ماہی کی معاشی کارکردگی کی تفصیل جاری کر دی۔ اگرچہ کمپنی کی فروخت میں دو اعشاریہ 14 فی صد کمی آئی تاہم کمپنی کے مجموعی پرافٹ کی شرح بڑھ کر 50.40 فی صد ہو گئی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here