ایف بی آر ٹمبر پر عائد اضافی ڈیوٹی ہٹانے میں ہچکچاہٹ کا شکار: ٹمبر ٹریڈز

314

درختوں کی غیر قانونی کٹائی ملک میں جنگلات کے خاتمے کا بڑا سبب بنتی جارہی ہے جس کی بناء پر فیڈرل بورڈ آف ریونیو 20 کروڑ روپے کی اضافی آمدن حاصل کرنے کیلئے خام لکڑی اور ٹمبر (عمارتی لکڑی) پر عائد اضافی کسٹم ڈیوٹی کو ختم کرنے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہے۔
آل پاکستان ٹمبر ٹریڈرز ایسوسی زیشن کی جانب سے وزیراعظم عمران خان کو تحریر کردہ حالیہ خط میں ٹمبر اور خام لکڑی کی درآمد پر عائد 2 فیصد اضافی کسٹم ڈیوٹی ختم کرنے میں مداخلت کا مطالبہ کیا گیا ہے کیونکہ لکڑی کی طلب کو پورا کرنے کیلئے غیر قانونی کٹائی اور تجارت کا عمل حکومت کی جنگل اور ماحول بچاؤ مہم پر بری طرح اثر انداز ہو رہا ہے۔
ایسوسی ایشن نے اپنے خط میں تحریر کیا کہ اضافی کسٹم ڈیوٹی کی وجہ سے درآمدات میں خاطرخواہ کمی کی وجہ سے درختوں اور لکڑی کی غیر قانونی کٹائی میں ملوث ٹمبر مافیا کی غیر قانونی سرگرمیوں میں اضافہ ہو رہا تھا۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کی سفارشات کی روشنی میں ایسوسی ایشن کی جانب سے حالیہ ملاقاتوں میں یہ دعویٰ کیا گیا کہ ایف بی آر اس اضافی ڈیوٹی کو ختم کرنے میں تاخیری حربے استعمال کر رہی ہے۔
آل پاکستان ٹمبر ٹریڈرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین شرجیل گوپلانی نے کہا کہ وزارت برائے ماحولیاتی تغیرات نے متعدد بار کسٹم ڈیوٹی کو ختم کرنے اور قومی جنگلات کو درپیش دباؤ میں کمی کی سفارشات پیش کی ہیں
درآمدکنندان کا کہنا تھا کہ خام لکڑی اور ٹمبر پر عائد بھاری کسٹم ڈیوٹیز، سیلز ٹیکس اور ود ہولڈنگ ٹیکس کی وجہ سے کاروباری سرگرمیوں میں کمی واقع ہو رہی ہے اور وقت آ گیا ہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت اس صنعت کو بچانے کیلئے مناسب اقدامات کرے۔
گوپلانی نے کہا کہ ایف بی آر 32 سے 34 فیصد تک کسٹم ڈیوٹی، سیلز ٹیکس اور ود ہولڈنگ ٹیکس اور خام لکڑی اور ٹمبر کی درآمد پر 42 فیصد ٹیکس وصول کر رہا تھا ہم نے حکومت سے انہیں ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
گوپلانی نے کہا ’’نئی کاروباری سرگرمیوں کا رحجان ان ٹیکسوں اور ڈیوٹیز کے ختم ہونے کے بعد آمدن پوری کرنے میں مدد فراہم کرے گا جس سے پاکستان میں ملازمت کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ خام لکڑی اور ٹمبر ہماری صنعتوں کی بنیادی ضروریات میں شمار ہوتی ہیں۔
آل پاکستان ٹمبر ٹریڈرز ایسوسی ایشن کے مطابق چین امریکہ، کینیڈا اور افریقہ سمیت دنیا بھر سے ٹمبر اور خام لکڑی درآمد کر رہا ہے جبکہ امریکہ، کینیڈا، یورپی ممالک، ممشرق وسطیٰ اور شمالی افریقی ممالک کو زیادہ اقدار کی حامل اشیاء برآمد کر رہا ہے۔
چیئرمین ایسوسی ایشن نے کہا کہ اگر حکومت لکڑی کی ڈیوٹی فری درآمد کی اجازت دے دیتی ہے تو اس سے نہ صرف کنسٹرکشن انڈسٹری کو ترقی حاصل ہوگی بلکہ اس سے پاکستان میں کئی چھوٹی صنعتیں بھی فروغ پائیں گی۔
2015ء میں ادارہ برائے خوراک و زراعت کی جانب سے جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں جنگلات کا حجم 1.9 فیصد ہے جو دنیا کے باقی ممالک نسبت نہ ہونے کے برابر ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here