چین نیا پاکستان ہاؤسنگ منصوبے میں سرمایہ کاری کرنے کا خواہشمند

پاکستان اور چین کے مابین کورونا وائرس کی وجہ سے تعطل کا شکار تجارتی سرگرمیاں آئندہ دس روز میں دوبارہ سے شروع ہو جائیں گی: وزارتِ تجارت

430

اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقیات اسد عمر نے کہا ہے کہ چین وزیراعظم ہاؤسنگ پروگرام میں سرمایہ کاری کرنے کے لیے تیار ہے جبکہ سی پیک کے تحت جاری منصوبوں کی تکمیل کیلئے کام کی رفتار آئندہ دنوں میں تیز کی جائے گی۔

اسد عمر نے ان خیالات کا اظہار پاکستان میں چین کے سفیر یاؤ جِن (Yao Jing) سے ایک ملاقات کے دوران کیا۔ملاقات میں پاکستان اور چین کی جانب سے سی پیک سے متعلق معاملات، کاروبار سے کاروبار اور پاکستان میں سماجی شعبے کی ترقی کے لیے تبادلہ خیال کیا گیا۔

اسدعمر نے سی پیک سے منسلک تمام منصوبوں کی پیشرفت پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گوادر میں خصوصی اکنامک زونز کے قیام اور ان زونز کو فعال کرنے کے لیے دونوں حکومتوں کی اولین ترجیح ہے، منصوبوں کو خصوصی طور پر مانیٹر کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسپیشل اکنامک زونز کے قیام سے یہ منصوبہ مصنوعات کی مقامی سطح پر تیاری اور پیداوار میں اضافے کے میں مدد دے گا۔

اس موقع پر چین کے سفیر نے حکومتِ پاکستان کی جانب سے سی پیک کیلئے کی جانے والی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ چین کی خواہش ہے کہ ریل ٹرانسپورٹ، ہائیڈل پاور پروجیکٹ، سماجی ترقی کے منصوبوں اور کاروبار سے کاروبار کے پر مبنی تعلقات کو فروغ دیا جائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعظم عمران خان کی جانب سے شروع کیے جانے والے کم لاگت کے ہاؤسنگ منصوبے میں چین سرمایہ کاری کرنے کے لیے تیار ہے۔ اس سلسلے میں آئندہ ہونے والی جوائنٹ کوآرڈینشن کمیٹی کے اجلاس میں بات کی جائے گی۔

اسد عمر نے کہا کہ مرکزی و صوبائی حکومتیں کراچی سرکلر ریلوے پروجیکٹ کی تکمیل کے لیے خواہشمند ہیں۔ انہوں نے  کاروبار سے کاروبار، بینکنگ، ٹیلی کام، ڈیجیٹل فنانس، مینوفیکچرنگ اور ایگریکلچر کے شعبے میں تعاون کرنے پر زور دیا۔

یہ بھی پڑھیے: کرونا وائرس سے سی پیک کے تحت جاری منصوبوں کی بروقت تکمیل متاثر نہیں ہوگی: چینی سفیر

دوسری جانب وزارتِ تجارت نے ایک بیان میں کہا ہے کہ پاکستان اور چین کے درمیان کورونا وائرس کی وجہ سے تعطل کا شکار تجارتی سرگرمیاں آئندہ دس روز میں دوبارہ سے شروع ہو جائیں گی۔

اس حوالے سے وزارتِ تجارت نے ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی پاکستان (ٹی ڈی اے پی) اور بیجنگ میں پاکستان کے کمرشل قونصلر کے مابین مشاورتی اجلاس منعقد ہوا، اجلاس میں  چین میں کرونا وائرس پھیلنے سے پیدا ہونے والی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔

یہ بھی پڑھیے: وزارتِ تجارت کا اجلاس، کورونا وائرس کے باعث پاک چین تجارت کو درپیش مشکلات کا جائزہ

وزارتِ تجارت نے کہا کہ بیجنگ میں پاکستان کے تجارتی نمائندے نے آگاہ کیا ہے کہ اگرچہ شپمنٹس کچھ تاخیر کا شکار ہیں تاہم تجارتی سرگرمیاں 10 روز میں معمول کے مطابق بحال ہونے کا امکان ہے۔

وزارتِ تجارت نے کہا ہے کہ ملک میں 6 سے 8 ہفتوں تک کے لیے ایسی تمام اشیاء کا سٹاک موجود ہے جو چین سے منگوائی جاتی ہیں تاہم پھر بھی اس مسئلے پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے تاکہ کسی چیز کی قلت کا سامنا نہ کرناپڑے کیونکہ پاکستان زیادہ تر مصنوعات،  خام اشیاء اور دیگرسامان تجارت چین سے درآمد کرتا ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here