مختلف ممالک کیلئے سفری خدمات کی فراہمی سے پاکستان کو 26 کروڑ42لاکھ ڈالر آمدن، گزشتہ سال کی نسبت 29 فیصد اضافہ

کورونا وائرس کے پھیلائو کے باعث عالمی سطح پر فضائی سفر کی سالانہ طلب میں 2008 کے مالیاتی بحران کے بعد پہلی بار کمی آ سکتی ہے، انٹرنیشنل ایئر ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن

300

اسلام آباد :  پاکستان کو رواں مالی سال 2019-20 کی پہلی ششماہی کے دوران مختلف ممالک میں سفری خدمات کی فراہمی کے ذریعے 26 کروڑ42لاکھ54ہزار ڈالر کی آمدن حاصل کی ہے۔

پاکستان شماریات بیورو کی طرف سے جاری اعدادو شمار کے مطابق مالی سال 2018-19 کے اس عرصہ کے دوران یہ آمدن 20 کروڑ 40 لاکھ 70 ہزار ڈالر تھی جس میں رواں مالی سال کی پہلی ششماہی کے دوران 29.49 فیصد بڑھوتری دیکھی گئی ہے۔

زیر جائزہ مدت کے دوران ذاتی سفری خدمات 29.91 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے جو گزشتہ سال2018-19کے دوران 20کروڑ12 لاکھ 20 ہزار ڈالر تھی اور رواں مالی سال جولائی۔دسمبر 2019-20 کے دوران یہ آمدن بڑھ کر 26 کروڑ 14 لاکھ 4 ہزار ڈالر تک پہنچ گئی۔

یہ بھی پڑھیے:

پٹرولیم مصنوعات کی درآمدات میں 26، گاڑیوں میں 41 فیصد کمی، کاٹن و دیگر اشیاء کی برآمدت میں اضافہ

فارما سیکٹر کی برآمدات 5 ارب ڈالر تک لے جانے کا فیصلہ کیا ہے، مشیر تجارت

 ان ذاتی خدمات میں تعلیمی برآمدات سے متعلقہ اخراجات اور ذاتی اخراجات میں بالترتیب 32.19 اور70.10 فیصد کمی آئی ہے۔

 علاوہ ازیں دیگر ذاتی خدمات میں 34.33 فیصد اضافہ ہوا ہے جن میںسے مذہبی اور دیگر سفری خدمات کی مد میں بالترتیب 171.20 فیصداور34.19 فیصد اضافہ رہا ۔

دوسری جانب مالی سال 2019-20 کی پہلی ششماہی کے دوران بزنس سروسز کی سفری برآمدات کا حجم 28 لاکھ 50 ہزار ڈالر رہا۔

یہ بات یہاں قابل ذکر ہے کہ رواں مالی سال کی پہلی ششماہی کے دوران گزشتہ مالی سال کے اس عرصہ کے مقابلے میں ملکی تجارتی خدمات کا خسارہ 17.46 فیصد کم ہوا ہے۔

رواں مالی سال کی پہلی ششماہی کے دوران خدمات کی برآمدات 6.11 فیصد بڑھیں جبکہ درآمدات میں 4.67 فیصد کی کمی آئی ہے۔

عالمی سطح پر فضائی کمپنیوں کی آمدنی میں کمی کا امکان :

ادھر  فضائی کمپنیوں کے ایک بین الاقوامی گروپ کا تخمینہ ہے کہ کورونا وائرس کے پھیلائو کے باعث فضائی سفر کی سالانہ طلب میں 2008 کے مالیاتی بحران کے بعد پہلی بار کمی آ سکتی ہے۔

انٹرنیشنل ایئر ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن (IATA) نے یہ تخمینہ مرکزی چین اور ہانگ کانگ جانے والی یا وہاں سے روانہ ہونے والی پروازوں کی منسوخی کے اعداد و شمار کی بنیاد پر لگایا ہے۔

ایسوسی ایشن کے مطابق ایشیا بحر الکاہل خطے میں مسافروں کی تعداد میں گزشتہ سال کی نسبت 8.2 فیصد کمی متوقع ہے۔

مالیاتی لحاظ سے یہ خطے کی فضائی کمپنیوں کی آمدنی میں27 ارب 80 کروڑ ڈالر کی کمی ہوگی، اس کا تقریباً نصف بوجھ چین کی کمپنیوں پرپڑے گا۔

ایسوسی ایشن کے تخمینے کے مطابق رواں سال ایئر لائنوں کی مجموعی عالمی آمدنی میں 29 ارب 30 کروڑ ڈالر کی کمی ہوگی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here