تین روزہ پاکستان آٹو شو کا ایکسپو سینٹر میں آغاز، مقامی اور انٹرنیشل کمپنیوں کی شرکت

413

لاہور: ایکسپو سینٹر لاہور میں تین روزہ پاکستان آٹو شو 2020 (پی اے ایس) کا آغاز ہو گیا ہے، گاڑیوں کے شوقین اور سرمایہ کاروں سمیت 25 ہزار سے زائد افراد نے آٹو شو کے پہلے دن شرکت کی۔

پاکستان ایسوسی ایشن آف آٹو موٹو پارٹس اینڈ اسیسریز مینوفیکچررز (پی اے اے پی اے ایم) کے زیر اہتمام ‘میڈ اِن پاکستان’ کے عنوان سے منعقد کی جانے والی تین روزہ میگا آٹو شو میں 110 نمائش کار حصہ لے رہے ہیں، آٹوشو کو ہونڈا، سوزوکی، ہنڈائی اور ملت ٹریکٹرز کیجانب سے سپانسر کیا گیا ہے۔

نمائش میں بین الاقوامی انٹرپرائزز اور مقامی کمپنیوں کی جانب سے مختلف گاڑیوں، ٹرکوں، بسوں، ٹریکٹرز، رکشوں اور موٹرسائیکلوں کے ماڈلز رکھے گئے تھے۔

یہ بھی پڑھیے: 

ریگل آٹو موبائلز نے 10 لاکھ 49 ہزار روپے کی 800 سی سی ’پرنس پرل‘ متعارف کروا دی

جنوری میں ہونڈا کی گاڑیوں کی فروخت میں 120 فی صد اضافہ

نمائش میں مقامی اور بین الاقوامی خریداروں نے جاپان، جرمنی، کوریا، چین، فرانس، ترکی، تھائی لینڈ، تائیوان، برطانیہ، امریکہ، یو اے ای اور سری لنکا کی مشہور کمپنیوں کی طرف سے لگائے گئے سٹالزکا دورہ کیا۔ آٹو پارٹس مینوفیکچررز، سروس، مشینری اور آلات بنانے والی کمپنیوں کے علاوہ اسسیریز، ٹریکنگ اور انشورنس کی کمپنیوں نے نمائش میں شرکت کی۔ شائقین کے لیے نایاب کاریں اور ہیوی بائکس مرکز نگاہ رہیں۔

سینئرایگزیکٹو ڈائریکٹر ملت ٹریکٹرسہیل رانا نے پاکستان ٹوڈے کو بتایا کہ اس میگا شو کا مقصد بین الاقوامی خریداروں کو پاکستانی آٹو موٹو پارٹس کی طرف راغب کرنا ہے، انہوں نے کہا کہ نمائش کو سپانسر کرنے کا مقصد چھوٹی بڑی آٹوموبائل کاروباری کمپنیوں کی کوششوں کو سراہنا ہے کیونکہ پاپام پاکستان بھر سے تین ہزار چھوٹی بڑی صنعتوں کی نمائندگی کر رہی ہے۔

سہیل رانا نے کہا کہ سرمایہ کاروں کو آٹو موٹو پارٹس کی مقامی مارکیٹ سمجھنے کا موقع ملے گا، اسی لیے سپئیرپارٹس بنانے والے غیر ملکی مینوفیکچررز یہ سمجھنے کے لیے آٹو شو میں آئے ہیں کہ پاکستان میں کس قسم کے سپئیر پارٹس بنائے جا سکتے ہیں۔

آٹو موبائل انڈسٹری کو پاکستان میں 2019ء سے گاڑیوں کی قیمتوں میں اضافے کے باعث مشکلات کا سامنا ہے۔ انڈسٹری میں 2019ء مارچ سے دسمبر کے درمیان گاڑیوں کے یونٹس 172551 سے کم ہو کر 103873 یونٹس ہو گئے تھے جبکہ اسی عرصے کے دوران گاڑیوں کی فروخت میں بھی 33.8 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here