پی آئی اے کے جہاز کی چوری، ادارے منہ تکتے رہ گئے

165

اسلام آباد: قومی پرچم بردار ایئرلائن کی جانب سے سپریم کورٹ میں ایئربس 310 کی چوری اور غیرقانونی فروخت کے معاملے کے حوالے سے جمع کروائے گئے جواب میں کہا گہا ہے کہ پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کا طیارہ ایئربس 310 ادارے کے سابق چیف ایگزیکٹو افسر برنڈ ہلڈین برانڈ مبینہ طور پر اپنے ساتھ جرمنی لے گئے تھے جو انہوں نے ایک اعشاریہ چار ملین ڈالر میں فروخت کر دیا۔

پی آئی اے کی جانب سے ایپکس کورٹ میں جمع کروائے گئے جواب میں کہا گیا ہے، طیارہ گمشدہ نہیں ہے بلکہ یہ فروخت کیا گیا ہے جیسا کہ 2016 میں اس کی مدت پوری ہو گئی تھی۔

یہ جواب ایئر مارشل (ر) ارشد ملک کو پی آئی اے کے چیف ایگزیکٹو افسر کے طور پر سندھ ہائی کورٹ کی جانب سے خدمات انجام دینے سے روکے جانے کے فیصلے کے خلاف دائر اپیل کی سماعت کے دوران جمع کروایا گیا۔

مزید پڑھیں: ارشد ملک کی سربراہی میں پی آئی اے کے ریونیو میں 44 فی صد اضافہ ہوا، وفاقی حکومت کا سپریم کورٹ میں موقف

درخواست گزار نے ہائی کورٹ کے روبرو یہ موقف اختیار کیا تھا کہ ایئر مارشل (ر) ارشد ملک پاکستان ایئر فورس (پی اے ایف) سے منسلک رہے ہیں اور ان کی پی آئی اے کے سربراہ کے طور پر تعیناتی اس قانون کی صریحاً خلاف ورزی ہے جو ایپکس کورٹ نے تین اگست 2018 کو اس وقت کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کی تعیناتی کے خلاف فیصلہ سنا کر قائم کیا تھا۔

خبروں کے مطابق، ایک برطانوی کمپنی نے 2017 میں پی آئی اے کا جہاز ایئربس اے 310 فلم کی شوٹنگ کے لیے چارٹر کروایا جو مالٹا میں شوٹ ہونی تھی، جس کے بعد طیارہ جرمنی پرواز کر گیا اور اسے 190 ملین ڈالر میں فروخت کر دیا گیا۔ فلم کمپنی نے پی آئی اے کو دو لاکھ ڈالر کرایے کی مد میں بھی ادا کیے تھے۔

مزید پڑھیں: پی آئی اے کو گزشتہ برس 11 ارب روپے کم نقصان ہوا، وزیر برائے ہوا بازی

میڈیا میں آنے والی خبروں کے مطابق، مالٹا سے ایئربس نے براہِ راست لپزگ ہالے ایئرپورٹ میوزیم جرمنی کا رُخ کیا۔ ان خبروں میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جہاز پہلے ہی اپنا پرواز کا دورانیہ مکمل کر چکا تھا اور یہ قابل استعمال نہیں تھا جیسا کہ یہ 30 برس پرانا تھا اور پہلے سے ہی گرائونڈ کیا جا چکا تھا۔

12 فروری کو اس سے قبل ہونے والی سماعت میں ایئربس کی پراسرار فروخت نے سپریم کورٹ کی توجہ اپنی جانب مبذول کی جب عدالت نے استفسار کیا کہ جہاز سرکاری ملکیت تھی تو کیا اس کی فروخت قومی جرم ہے یا نہیں؟

چیف جسٹس گلزار احمد نے قومی پرچم بردار ایئرلائن کمپنی کے اس معاملے سے غیر رسمی طور پر پیش آنے پر حیرت کا اظہار کیا اور یہ استفسار کیا کہ آیا ایسے واقعات دنیا کی دیگر ایئر لائن کمپنیوں میں بھی ہوتے ہیں جہاں چیف ایگزیکٹو افسر کچھ یوں جہاز فروخت کر دے؟

مزید پڑھیں: پی آئی اے میں رواں سال 5 جہازوں کا اضافہ کیا جائے گا: غلام سرور

ایئر لائن نے اپنے جواب میں مزید کہا ہے کہ پی آئی اے انتظامیہ اس حوالے سے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) اور قومی احتساب بیورو (نیب) کے ساتھ تعاون کررہی ہے اور یہ ادارے موجودہ انتظامیہ کے پی آئی اے کے معاملات سنبھالنے سے پہلے سے ہی اس معاملے کی تفتیش کر رہے ہیں۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here