قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کی پاکستان سٹیل ملز کی بحالی کے لیے 50 ارب روپے کے فنڈز جاری کرنے کی تجویز

229

اسلام آباد: پاکستان سٹیل ملز کے چیئرمین نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صنعت و پیداوار کو ملز میں ہونے والے بڑے پیمانے پر نقصانات اور قرضوں کے بارے میں آگاہ کیا ہے۔

مل پر 2019 کے اختتام تک 22.9 ملین روپے کا قرض واجب الادا تھا۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران انجینئرز کی ایک بڑی تعداد نے پاکستان سٹیل ملز کو چھوڑا ہے اور اس وقت سٹیل ملز میں محض 131 انجینئر کام کر رہے ہیں۔

مزید پڑھیں: پاکستان اسٹیل ملز کی نجکاری یا بحالی، مارچ کے آخر میں فیصلہ

کمیٹی نے پاکستان سٹیل ملز اور اس کے ملازمین کے بدترین حالات پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور سٹیل ملز کے ریٹائر ملازمین کے لیے فوری طور پر 20 ارب روپے جاری کرنے کی تجویز دی۔

پاکستان سٹیل ملز کے چیئرمین نے کہا کہ اگر حکومت 50 ملین ڈالر جاری کر دیتی ہے تو وہ سٹیل ملز کے کچھ حصوں کو چالو کرنے  اور ملازمین کو تنخواہوں کی کسی حد تک ادائیگی کرنے کے قابل ہو جائیں گے۔

مزید پڑھیں: روس کی پاکستان اسٹیل ملز کی بحالی کیلئے مدد کی پیشکش

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کے سربراہ نے سٹیل ملز کے چیئرمین کو اپنے تعاون کا مکمل یقین دلایا اور حکومت کو یہ تجویز دی کہ وہ سٹیل ملز کی بحالی کے لیے لازمی طور پر 50 ارب روپے کے فنڈز مختص کرے۔

دریں اثنا، وہیکلز کے مقامی مینوفیکچررز اور اسمبلرز پر ابتدائی تنقید کے بعد قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صنعت و پیداوار نے سوزوکی موٹرز کے پلانٹ کے دورہ کے دوران پاکستان میں معیاری گاڑیاں تیار کرنے پر پاک سوزوکی موٹرز کی تعریف کی۔

کراچی میں کمیٹی کے اجلاس کے بعد جاری کیے جانے والے سرکاری بیان کے مطابق، پارلیمانی کمیٹی کے ارکان نے پاکستان میں معیاری پراڈکٹس کی فراہمی پر پاک سوزوکی موٹرز کی ستائش کی۔

کمیٹی کے ارکان نے اس سے قبل اپنے اجلاس میں مقامی طور پر اسمبل کی جانے والی گاڑیوں کے معیار پر گہری تشویش کا اظہار کیا تھا جس کے باعث صارفین کی جانب سے بڑی رقوم کی ادائیگی کے باوجود ان کی زندگیاں خطرات کا شکار ہو جاتی ہیں۔ کمیٹی کے ارکان نے تو یہ الزام تک عائد کیا کہ وزارتِ صنعت مقامی کمپنیوں کو فوائد پہنچانے کے لیے ان سے رشوت لے رہی ہے۔

تاہم، بہ ظاہر یہ دکھائی دیتا ہے کہ پاک سوزوکی کے اسمبلنگ پلانٹ و یونٹ کے دورے کے بعد ارکان کا تاثر تبدیل ہو گیا جنہوں نے پلانٹ پر مختلف گاڑیوں کی مینوفیکچرنگ کا مشاہدہ کیا۔

بیان کے مطابق، پاک سوزوکی موٹرز کے منیجنگ ڈائریکٹر نے ارکان کی جانب سے مصنوعات کے معیار اور ان کی غیرمعمولی قیمت کے حوالے سے ارکان کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات کا جواب دیا۔

مزید پڑھیں: کاروں کی فروخت کم ہونے سے سوزوکی کے منافع میں 11 فیصد کمی

پاک سوزوکی کے حکام نے کہا کہ غیر معمولی مارک اَپ ریٹ، ٹیکسوں کی غیرمعمولی شرح اور آٹوموٹیو ڈویلپمنٹ پالیسی 21-2016 آٹوموٹیو سیکٹر میں کم پیداوار کی بنیادی وجوہ ہیں جن کے باعث مارکیٹ میں قیمتوں میں فرق پیدا ہوا ہے۔

وزارتِ صنعت کے ایڈیشنل سیکرٹری نے آگاہ کیا کہ ٹیکسوں کے معاملات قبل ازیں وزارت فنانس و ریونیو کے روبرو اٹھائے گئے تھے لیکن ان کا فی الحال جواب موصول نہیں ہوا۔ کمیٹی نے بعدازاں فیصلہ کیا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو اور وزارت خزانہ سے خصوصی میٹنگ کی جائے تاکہ جلد از جلد اے سی ڈی، فی ای ڈی کے معاملات حل ہوں۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here